Daily Roshni News

**حضرت الیاسؑ کی داستان

**حضرت الیاسؑ کی داستان

تین سال کا قحط… مگر ایک نبی اپنی قوم کے لیے روتا رہا**

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) نوٹ: اس داستان میں قرآنِ کریم کے بیان کے ساتھ بعض تاریخی و اسرائیلی روایات کو کہانی کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جہاں کوئی واقعہ اسرائیلی روایات پر مبنی ہے، اسے قطعی تاریخی حقیقت نہ سمجھا جائے۔

رات کا آخری پہر تھا۔شام کی سرزمین پر گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ آسمان پر بے شمار ستارے جگمگا رہے تھے، مگر زمین پر امید کا ایک چراغ بھی باقی نہ تھا۔

ایک بلند پہاڑی پر ایک تنہا شخص کھڑا تھا۔

اس کے ہاتھ میں ایک لکڑی کا عصا تھا، لباس گرد آلود تھا، اور نظریں دور افق پر جمی ہوئی تھیں۔

وہ کوئی عام انسان نہیں تھا…

وہ اللہ کا نبی…

**حضرت الیاس علیہ السلام** تھے۔

آپؑ نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے فرمایا:

**”اے میرے رب! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا… اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے۔”**

اسی لمحے دور شہر کے عظیم معبد میں سینکڑوں مشعلیں روشن تھیں۔

بعل کے پجاری اپنے بت کے سامنے جھکے ہوئے تھے۔

بادشاہ اخاب سنہری لباس پہنے بت کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا، جبکہ ملکہ ایزبل پجاریوں کے درمیان فخر سے مسکرا رہی تھی۔

“اے بعل!”

بادشاہ بلند آواز میں بولا۔

“ہمیں بارش عطا کر… ہمارے کھیت بچا لے…”

لیکن…

پتھر کا وہ بت ہمیشہ کی طرح خاموش رہا۔

پہلا مہینہ گزر گیا…

بارش نہ ہوئی۔

دوسرا مہینہ آیا…

زمین کی نمی ختم ہونے لگی۔

تیسرا مہینہ آیا…

کھیت زرد پڑ گئے۔

چوتھا مہینہ آیا…

کنوؤں کا پانی نیچے اترنے لگا۔

پھر ایک سال گزر گیا…

ہر طرف بھوک، پیاس اور خوف کا راج تھا۔

بازار سنسان تھے۔

ماں اپنی بھوک سے بلکتی اولاد کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔

چرواہے خالی میدانوں میں اپنے مرے ہوئے جانوروں کو دیکھ کر آنسو بہا رہے تھے۔

مگر حیرت کی بات یہ تھی…

بادشاہ نے پھر بھی اپنے بت کو نہیں چھوڑا۔

ہر روز وہ نئے نذرانے چڑھاتا…

ہر روز پجاری نئے منتر پڑھتے…

اور ہر روز لوگ اسی پتھر کے سامنے امید لے کر آتے…

جو نہ سن سکتا تھا…

نہ بول سکتا تھا…

اور نہ ایک قطرہ بارش برسا سکتا تھا۔

اسی دوران سپاہیوں کا ایک دستہ تیزی سے محل میں داخل ہوا۔

“بادشاہ سلامت!”

ایک سپاہی نے گھبرا کر کہا۔

“لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر حضرت الیاسؑ کی بات مان لی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔”

یہ سنتے ہی اخاب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

اس نے تخت سے اٹھ کر تلوار نکالی اور چلایا:

**”اس الیاس کو ڈھونڈو! چاہے پہاڑ ٹوٹ جائیں یا جنگل جل جائیں… وہ مجھے زندہ چاہیے!”**

پورے ملک میں سپاہی پھیل گئے۔

پہاڑ…

غاریں…

جنگلات…

ہر جگہ حضرت الیاسؑ کو تلاش کیا جانے لگا۔

مگر اللہ اپنے نبی کی حفاظت فرما رہا تھا۔

دور ایک خاموش غار میں حضرت الیاسؑ سجدے میں گرے ہوئے تھے۔

آپؑ اپنی جان کے لیے دعا نہیں کر رہے تھے…

بلکہ انہی لوگوں کے لیے رو رہے تھے…

جنہوں نے انہیں جھٹلایا تھا۔

آپؑ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

اور لبوں پر صرف ایک دعا تھی:

**”اے اللہ! اگر ان میں کوئی خیر باقی ہے تو انہیں ہدایت دے۔”**

لیکن…

اللہ نے اس قوم کے لیے ایک ایسا دن مقرر کر دیا تھا…

جب ہزاروں لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے تھے…

کہ آسمان سے آگ کس کی دعا پر اترتی ہے۔

پہاڑ کی چوٹی پر ہزاروں لوگ جمع تھے۔

ایک طرف بعل کے سینکڑوں پجاری کھڑے تھے…

اور دوسری طرف…

صرف ایک شخص…

**حضرت الیاس علیہ السلام۔**

سارا دن بعل کے پجاری اپنے معبود کو پکارتے رہے۔

وہ چیختے…

دعائیں کرتے…

قربانیاں پیش کرتے…

لیکن آسمان خاموش رہا۔

نہ کوئی آواز آئی…

نہ کوئی نشانی۔

پھر حضرت الیاسؑ آگے بڑھے۔

آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے دعا کی:

**”اے میرے رب! آج اپنی قدرت ظاہر فرما، تاکہ یہ لوگ جان لیں کہ معبود صرف تو ہی ہے۔”**

بعض تاریخی روایات کے مطابق اسی لمحے اللہ کے حکم سے آسمان سے آگ نازل ہوئی اور قربانی کو جلا دیا۔

لوگ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

کئی لوگوں کے دل کانپ اٹھے۔

وہ سمجھ گئے کہ سچا رب صرف اللہ ہے۔

اسی کے بعد حضرت الیاسؑ نے بارش کے لیے دعا کی۔

کافی عرصے سے خشک آسمان پر پہلے ایک چھوٹا سا بادل نمودار ہوا…

پھر دوسرا…

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارا آسمان سیاہ بادلوں سے بھر گیا۔

چند لمحوں بعد موسلا دھار بارش برسنے لگی۔

سوکھی زمین نے جیسے نئی زندگی پا لی۔

دریا پھر بہنے لگے…

کھیت دوبارہ سرسبز ہو گئے…

اور لوگ اللہ کی قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگے۔

لیکن…

ہر معجزہ ہر دل کو نہیں بدلتا۔

کچھ لوگوں نے ایمان قبول کیا…

مگر بہت سے لوگ دوبارہ اپنی پرانی گمراہی کی طرف لوٹ گئے۔

حضرت الیاسؑ نے برسوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔

آپؑ نے کبھی دولت نہیں مانگی…

کبھی حکومت نہیں چاہی…

آپؑ کی پوری زندگی صرف ایک مقصد کے لیے تھی:

**”لوگ اپنے رب کو پہچان لیں۔”**

قرآن مجید حضرت الیاسؑ کے بارے میں فرماتا ہے:

*”سلام ہو الیاس پر۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔”**

> *(سورۃ الصافات: 130-132)*

### حضرت الیاسؑ کا آخری وقت

قرآنِ مجید حضرت الیاسؑ کی وفات یا آخری ایام کی تفصیل بیان نہیں کرتا۔

بعض اسرائیلی روایات میں ذکر ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص شان کے ساتھ اٹھا لیا، جبکہ دیگر روایات کے مطابق آپؑ کی وفات معمول کے مطابق ہوئی۔

**چونکہ اس بارے میں کوئی صحیح اور قطعی اسلامی دلیل موجود نہیں، اس لیے ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں جو قرآن نے بیان کیا ہے کہ حضرت الیاسؑ اللہ کے برگزیدہ رسولوں میں سے تھے اور اللہ نے انہیں عظیم مقام عطا فرمایا۔**

## **اس داستان سے حاصل ہونے والے سبق**

* حق پر ایک انسان بھی پوری قوم کے مقابلے میں کھڑا ہو سکتا ہے۔

* طاقت، حکومت اور دولت ہمیشہ سچائی پر غالب نہیں آتیں۔

* معجزہ دیکھ لینا بھی ہدایت کی ضمانت نہیں، اگر دل ضد سے بھرا ہو۔

* اللہ کے نبی اپنی قوم سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ آخری لمحے تک ان کی ہدایت چاہتے ہیں۔

**حضرت الیاس علیہ السلام کی داستان ختم ہوئی…**

**مگر ان کا یہ سوال آج بھی ہر انسان سے پوچھتا ہے:**

> **”کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہترین پیدا کرنے والے اللہ کو چھوڑ دیتے ہو؟”**

اللہ تعالیٰ ہمیں خالص توحید، استقامت اور انبیائے کرام علیہم السلام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ **آمین۔**

Loading