Daily Roshni News

ظہیر الدین محمد بابر سیریز ۔۔۔ مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

ظہیر الدین محمد بابر سیریز ۔ قسط نمبر 2

ذیلی عنوان: کابل کا مستقر اور ہندوستان کی جانب پیش قدمی

مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔ ظہیر الدین محمد بابر سیریز ۔۔۔ مؤلف: طارق اقبال سوہدروی)1504 عیسوی میں کابل کی پرامن فتح نے ظہیر الدین محمد بابر کی انتہائی ہنگامہ خیز، خانہ بدوش اور پرآشوب زندگی میں ایک زبردست اور فیصلہ کن استقامت پیدا کر دی۔ وسطی ایشیا کی برفانی وادیوں اور شیبانی خان کے مسلسل تعاقب سے بچنے کے بعد، کابل کے محفوظ اور قدرتی پہاڑی حصار نے بابر کو اپنی بکھری ہوئی فوجی طاقت کو دوبارہ مجتمع کرنے کا ایک شاندار موقع فراہم کیا۔ اس نے اس شہر کو محض ایک فوجی چھاؤنی نہیں بنایا، بلکہ یہاں شاندار باغات لگوائے، تجارتی راستوں کو محفوظ کیا اور ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم کیا۔ کابل کی اسی سرزمین پر بابر نے 1507 عیسوی میں باقاعدہ طور پر اپنے لیے ‘پادشاہ’ (بادشاہ) کا اعلیٰ اور خود مختار لقب اختیار کیا، جو اس بات کا واضح اعلان تھا کہ وہ اب کسی تیموری یا ازبک سردار کا ماتحت نہیں، بلکہ ایک آزاد اور مقتدر حکمران ہے۔

کابل کی اس مستحکم اور محفوظ ریاست میں رہتے ہوئے بھی بابر کی عقابی اور طامع نگاہیں کسی اور ہی منزل کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔ اس کا حتمی خواب اگرچہ سمرقند کی دوبارہ تسخیر تھا، لیکن شیبانی خان کی بے پناہ عسکری طاقت اور وسطی ایشیا کے پیچیدہ سیاسی حالات نے اس دروازے کو عملی طور پر بند کر دیا تھا۔ ایسے میں بابر کی توجہ اپنے جدِ امجد امیر تیمور کی فتوحات کی یادداشتوں اور جنوب مشرق میں واقع ایک انتہائی وسیع، دولت مند اور زرخیز خطے، یعنی ہندوستان کی جانب مبذول ہونے لگی۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بابر نے ہندوستان پر حملے کا فیصلہ کسی اچانک جذبے کے تحت نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے کئی سالوں تک اس خطے کی جغرافیائی سیاست، فوجی طاقت اور اندرونی کمزوریوں کا انتہائی باریک بینی اور گہرائی سے تجزیہ کیا تھا۔

سولہویں صدی عیسوی کی پہلی چوتھائی میں برصغیر کا سیاسی اور سماجی منظرنامہ ایک انتہائی شدید خلفشار، طوائف الملوکی اور عدم استحکام کا واضح اور خوفناک نمونہ پیش کر رہا تھا۔ دہلی کے تخت پر لودھی خاندان کا آخری حکمران، سلطان ابراہیم لودھی براجمان تھا، جو اپنی انتہائی متکبرانہ، سخت گیر اور غیر لچکدار طبیعت کے باعث اپنے ہی افغان امراء اور ریاستی گورنروں میں شدید غیر مقبول ہو چکا تھا۔ اس کے جابرانہ طرزِ عمل اور شکی مزاجی نے سلطنت کے سب سے طاقتور ستونوں کو اس سے مکمل طور پر برگشتہ کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں پنجاب کا طاقتور گورنر دولت خان لودھی اور دیگر اہم سردار کھلم کھلا بغاوت پر آمادہ ہو چکے تھے۔ یہ داخلی ٹوٹ پھوٹ ایک ایسی کمزوری تھی جس نے کسی بھی بیرونی حملہ آور کے لیے دہلی کے دروازے خود بخود کھول دیے تھے۔

دہلی سلطنت کی اس کمزوری کے متوازی، راجپوتانہ کے وسیع اور سنگلاخ خطے میں ایک اور انتہائی طاقتور اور جنگجو حکمران، رانا سانگا، تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہا تھا۔ رانا سانگا میواڑ کا وہ ناقابلِ شکست اور سخت گیر راجپوت سردار تھا جس کے جسم پر درجنوں جنگی زخم موجود تھے اور جو دہلی کے تخت پر قبضہ کر کے برصغیر میں ایک عظیم سلطنت قائم کرنے کے پرعزم اور مستقل خواب دیکھ رہا تھا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان کے ان دونوں متحارب دھڑوں، یعنی دولت خان لودھی اور رانا سانگا، نے دہلی کے تخت کو گرانے کے لیے کابل کے حکمران ظہیر الدین محمد بابر کو عسکری مداخلت کی باقاعدہ دعوت اور سفارتی پیغامات بھیجے تھے۔ ان مقامی حکمرانوں کی یہ سب سے بڑی اور مہلک تاریخی بھول تھی کہ وہ بابر کو بھی امیر تیمور کی طرح محض ایک لٹیرا سمجھ رہے تھے جو مالِ غنیمت سمیٹ کر واپس چلا جائے گا۔

ان سفارتی دعوتوں اور اپنے ذاتی تزویراتی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے، بابر نے 1519 عیسوی میں ہندوستان کی سرحدی ریاستوں پر اپنے ابتدائی اور آزمائشی عسکری حملوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ بھیرہ اور باجوڑ کے قلعوں کی تسخیر ان ابتدائی مہمات کا حصہ تھی، جن کا بنیادی مقصد ہندوستان کے سرحدی دفاع کا جائزہ لینا اور اپنی فوج کو یہاں کے موسمی اور جغرافیائی حالات کا عادی بنانا تھا۔ انھی ابتدائی مہمات کے دوران بابر نے برصغیر کی عسکری تاریخ میں ایک ایسا زبردست اور تباہ کن انقلاب متعارف کروایا جس نے جنگ کے روایتی طریقوں کو ہمیشہ کے لیے فرسودہ کر دیا۔ اس نے پہلی مرتبہ میدانی جنگ میں بارود، توپ خانے اور تفنگ (میچ لاک بندوقوں) کا انتہائی منظم اور مؤثر استعمال کیا، جس کی کمان اس کے ماہر عثمانی توپچی استاد علی قلی اور مصطفیٰ رومی کے ہاتھوں میں تھی۔

ہندوستان کے حکمران اس جدید، ہولناک اور بارودی جنگی ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر ناآشنا تھے، اور ان کی پوری عسکری طاقت کا انحصار محض ہاتھیوں کے رسالے اور روایتی گھڑ سواروں پر تھا۔ 1525 عیسوی کے اواخر میں ظہیر الدین محمد بابر نے کابل کو اپنے بیٹے کامران مرزا کے حوالے کیا اور اپنی انتہائی منظم، تجربہ کار اور جدید ہتھیاروں سے لیس 12000 سے 15000 کی فوج کے ساتھ ہندوستان کی حتمی تسخیر کے لیے اپنا فیصلہ کن اور تاریخی مارچ شروع کر دیا۔ یہ ایک انتہائی پرخطر اور یک طرفہ سفر تھا، کیونکہ بابر جانتا تھا کہ اگر اسے ہندوستان میں شکست ہوئی تو اس کے پاس واپس لوٹنے کے لیے کوئی محفوظ اور مستحکم ریاست باقی نہیں بچے گی۔ اس نے دریائے سندھ کو عبور کیا اور پنجاب کے راستے انتہائی تیزی سے دہلی کی جانب اپنی پیش قدمی جاری رکھی، جب کہ دوسری جانب سلطان ابراہیم لودھی ایک عظیم الشان لشکر لے کر اسے روکنے کے لیے نکل پڑا تھا۔

اپریل 1526 عیسوی میں تاریخِ ہند کا وہ فیصلہ کن اور انتہائی ڈرامائی لمحہ آ پہنچا جب ظہیر الدین محمد بابر کا مختصر مگر انتہائی چاک و چوبند لشکر پانی پت کے وسیع، گرد آلود اور تاریخی میدان میں خیمہ زن ہوا۔ پانی پت کا یہ میدان دہلی سے محض چند میل کے فاصلے پر واقع تھا اور صدیوں سے ہندوستان کی تقدیر کے فیصلوں کا خاموش گواہ رہا تھا۔ بابر کی انٹیلی جنس اور جاسوسوں نے اسے اطلاع دی کہ ابراہیم لودھی کا لشکر ایک لاکھ پیدل سپاہیوں اور لگ بھگ 1000 جنگی ہاتھیوں پر مشتمل ایک ایسا عظیم سیلاب ہے جو اپنے حجم اور تعداد کے لحاظ سے کسی بھی دشمن کو باآسانی کچل سکتا ہے۔ بابر کی قلیل فوج اس عظیم الشان لودھی لشکر کے سامنے سمندر میں ایک قطرے کی مانند انتہائی حقیر اور کمزور دکھائی دے رہی تھی۔

اس انتہائی غیر مساوی اور بظاہر ناممکن صورتحال میں ظہیر الدین محمد بابر نے اپنی غیر معمولی، شاندار اور جدید عسکری منصوبہ بندی کا وہ کمال دکھایا جو آج بھی جنگی حکمتِ عملی کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس نے پانی پت کے میدان میں محض اپنی فوج کو کھڑا نہیں کیا، بلکہ اس نے ایک ایسا ناقابلِ تسخیر دفاعی اور جارحانہ جال بنا جس میں دشمن کی کثیر تعداد خود بخود پھنس جانے والی تھی۔ اس نے اپنے دائیں پہلو کو پانی پت کے شہر کی خندقوں اور عمارتوں سے محفوظ کیا، اور اپنے سامنے لکڑی کی 700 بیل گاڑیوں کو چمڑے کے مضبوط رسوں سے آپس میں باندھ کر ایک انتہائی مضبوط اور عارضی فصیل قائم کر دی۔ ان بیل گاڑیوں کے درمیان اس نے اپنے عثمانی توپچیوں اور تفنگ داروں کے لیے محفوظ خندقیں اور مورچے تعمیر کروائے۔ یہ تمام جنگی تیاریاں اس بات کی واضح اور دوٹوک نشاندہی کر رہی تھیں کہ اگلے چند گھنٹوں میں پانی پت کے میدان میں جو معرکہ بپا ہونے والا ہے، وہ برصغیر کی تاریخ، تہذیب اور طاقت کے توازن کو آنے والی کئی صدیوں کے لیے ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دے گا۔

یہ مواد صرف تاریخی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی فرد، تنظیم یا نظریے کی حمایت یا تشہیر نہیں۔

حوالہ جات:

تزکِ بابری (بابر نامہ) از ظہیر الدین محمد بابر

تاریخِ فرشتہ از محمد قاسم ہندو شاہ

The Empire of the Great Mughals by Annemarie Schimmel

ہیش ٹیگز:

#ظہیر_الدین_محمد_بابر #مغل_سلطنت #پانی_پت_کی_جنگ #تاریخی_حقائق #گلوبل_تاریخ_ہب

Loading