Daily Roshni News

حضرت خواجہ  شمس الدین عظیمیؒ : وراثت

حضرت خواجہ  شمس الدین عظیمیؒ : وراثت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت خواجہ  شمس الدین عظیمیؒ : وراثت)تاریخ میں بعض ہستیاں ایسی گزری ہیں جن کی خدمات سے انسانی معاشروں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ایسی کئی شخصیات اپنے پیچھے قابل قدر وراثت چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ کچھ بڑی شخصیات نے اپنے پیچھے کوئی با قاعد وورثہ نہیں چھوڑا۔ اپنے والد محترم سلسلہ عظیمیہ  کے خانواده عظیمیہ  حضرت خواج ہ شمس الدین  عظیمی  کا شمار میں ان افراد میں کرتا ہوں جن کی شخصیت بہت بڑی ہے اور جنہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہت بڑا ورثہ بھی چھوڑا ہے۔ حضرت خواجہ شمس الدین  عظیمی کی شخصیت اور آپ کی وراثت دونوں میں ان کے عقیدت مندوں کے ساتھ ساتھ اہل علم اور عام افراد کے لیے

بھی غور و فکر اور تحقیق و تقلید کے کئی پہلو موجود ہیں۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒکبھی اسکول نہیں گئے۔ روحانی علوم کی تحصیل کے لیے آپ نے نوجوانی میں حضرت محترم عظیم  یرخیا قلندر بابا اولیاء کے سامنے 1950ء کے عشرے میں زانوئے تلمذ طے کیا۔ قلند بابا اولیا نے مثل جوہری اپنے اس شاگرد کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں تراش کر ہیر ابنادیا۔

 شاگرد خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے اپنے استاد مقیم پیا سے ملنے والی روحانی تربیت و تعلیم کا حق خوب ادا کیا۔ قلند با اولیاء کے وصال (جنوری 1979ء کے بعد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی  نے سلسلہ عظیمیہ کی ذمہ داریاں سنبھال کر صوفیانہ تعلیمات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کیا۔ آپ کے افکار دراصل قلندر بابا اولیاء کی تعلیمات کی شرح ہیں۔ ان افکار و تعلیمات کا اولین منبع قرآن پاک اور سنت نبوی ہے۔

 حضرت خواجہ شمس الدین  عظیمی  نے قلند با با اولیا سے ملنے والے علمی ورثہ کی خوب حفاظت کی اور اسے بہت اچھی طرح آگے بڑھایا۔ وہ ہستی جو رسمی تعلیم کے لیے کبھی اسکول نہ گئی ہو ، اس ہستی پر قلند بالا اولیاء کا فیض کچھ اس طرح ظاہر ہوا کہ پاکستان اور بیرون پاکستان بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں اس کی خوب پزیرائی ہوئی۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی کتابیں یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہو ئیں۔

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی  کے علمی کام  خدمت خلق کے لیے کئی بڑے بڑے اقدامات ان کی طرف سے انسانوں کے لیے خیر خواہی کا اظہار ہیں۔ آپ نے صوفیانہ تعلیمات اور سائنس کو یکساں اہمیت دی۔ اس کے ساتھ آپ نے انسانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کی فکر کو عام کیا۔ اللہ کے بندے، حضرت محمد نبی کریم کے امتی خواجہ شمس الدین عظیمی نے انسانوں کو خالق کائنات کی عبادت و فرماں برداری پر راغب کرتے ہوئے اس نکتے پر زور دیا کہ انسانوں کو اللہ کی سب مخلوقات کے لیے خیر کا سبب بننا چاہیے۔ اولیاء اللہ کی صدیوں سے جاری خدمات کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ ان ہستیوں نے ہر دور میں انسان کی فکری، روحانی ، معاشی اور معاشرتی ضرورتوں کو پیش نظر رکھا۔ اولیاء اللہ کے قائم کردہ سلاسل طریقت نے توحید کی دعوت کو فروغ دیا، دین اسلام کی خدمت کی اور نوع انسانی کو خیرکی طرف بلایا۔

قرآن اور تعلیمات نبوی کی روشنی میں اولیاء اللہ کی خدمات کو درج ذیل چار بڑے حصوں میں بیان کیا جا سکتا ہے:

 1 – توحید کا پر چار اور تبلیغ اسلام۔

2- تزکیہ اور تعلیم کا اہتمام۔

3۔اخلاق و بھائی چارہ کافروغ، معاشرتی اصلاح کی کوشش۔

 4 ۔خدمت خلق

1 – توحید کا پرچار اور تبلیغ اسلام :قرآن کا مخاطب انسان ہے۔ قرآن اور قرآن سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کے ذریعے انسان کو اللہ وحد ولا شریک پر اللہ کے فرشتوں پر اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر اللہ کے بھیجے گئے انبیاء اور رسولوں پر اور یوم قیات پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی الکریم نے انسانوں کے سامنے اس دعوت کا اعادہ کیا جو آپ سے پہلے اللہ کے انبیاء اور رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دی تھی۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺکی دعوت اس دنیا کے سب انسانوں کے لیے ہے۔ قرآن کا مخاطب تا قیامت ہر دور اور اس دنیا کے ہر محطے کا انسان ہے۔

ختم نبوت کے بعد توحید کی دعوت اور قرآن وسنت کی تعلیمات کا فروغ امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ اس ذمہ داری کو بعت کے علمائے حق اور اولیاء اللہ نے بطریق احسن پورا کرنے کی سعی کی۔۔۔جاری ہے ۔

بشکریہ ماہنا مہ روحانی  ڈائجسٹ  مارچ 2026

Loading