تحریر ۔۔۔۔۔۔ محمد شعیب عمر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ محمد شعیب عمر)قرآن انسان کے ہاتھ میں آ جانے کے بعد اس کا اگلا سفر شروع ہوتا ہے۔ وحی نازل ہو چکی، کتاب محفوظ ہو چکی، حق اور باطل کے درمیان معیار سامنے آ گیا؛ مگر اب ایک بنیادی سوال باقی ہے: انسان اس کتاب کو سمجھے کیسے؟ کیونکہ کتاب کا موجود ہونا اور اس کی مراد تک پہنچ جانا ایک ہی چیز نہیں۔ قرآن پڑھ لینا آغاز ہے، قرآن کو سننا اس کے بعد کا مرحلہ ہے، اسے سمجھنا اس سے آگے کا سفر ہے، اور پھر اپنے آپ کو اس کے مطابق بدل لینا قرآن فہمی کی تکمیل ہے۔
قرآن کیسے پڑھا جائے؟ سب سے پہلے اس شعور کے ساتھ کہ یہ کسی انسان کی تصنیف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس لیے قرآن کے ساتھ تعلق صرف ایک ادبی متن کے ساتھ تعلق نہیں بلکہ رب العالمین کے خطاب کے ساتھ تعلق ہے۔ تلاوت میں ادب، اخلاص، حضورِ قلب اور غور و فکر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن خود کہتا ہے: ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾۔ ترتیل صرف الفاظ کو خوب صورت انداز میں پڑھنے کا نام نہیں؛ اس میں ٹھہراؤ، وضاحت اور معنی کی طرف توجہ بھی شامل ہے۔ انسان جب یہ سمجھ کر پڑھتا ہے کہ خطاب اسی سے ہو رہا ہے تو آیات محض آوازیں نہیں رہتیں، آئینہ بن جاتی ہیں۔
اسی لیے تلاوت اور تدبر کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ تلاوت زبان کا عمل ہے اور تدبر عقل و دل کا سفر۔ قرآن سوال کرتا ہے: ﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾۔ تدبر کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی ذاتی رائے کو قرآن کا مفہوم قرار دے دے، بلکہ یہ ہے کہ انسان آیات کے معانی، ان کے باہمی تعلق، ان کے مقاصد اور اپنے اوپر ان کے تقاضوں پر غور کرے۔ تلاوت دل کو قرآن سے جوڑتی ہے، تدبر قرآن کو زندگی کے شعور میں داخل کرتا ہے۔
اس فہم کے سفر میں ترجمہ ایک اہم دروازہ ہے۔ جو شخص عربی نہیں جانتا، اس کے لیے ترجمہ قرآن کے معنی تک پہنچنے کا بنیادی ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن ترجمہ خود قرآن نہیں بلکہ قرآن کے معنی کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کی انسانی کوشش ہے۔ مترجم زبان، سیاق، علمی پس منظر اور اپنے فہم کے مطابق الفاظ منتقل کرتا ہے، اس لیے ایک سنجیدہ طالب علم کے لیے ترجمہ مفید اور ضروری ہونے کے باوجود تفسیر، عربی زبان اور معتبر علمی توضیحات سے بے نیاز نہیں کرتا۔
یہیں سے تفسیر کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ قرآن کی بہت سی آیات ایسی ہیں جن کا بنیادی مفہوم عام قاری سمجھ سکتا ہے، مگر بعض مقامات پر لغت، سیاق، اسبابِ نزول، احادیث، قراءات، فقہی اصول، عربی اسلوب اور دیگر آیات کو سامنے رکھے بغیر درست مفہوم تک پہنچنا دشوار ہو جاتا ہے۔ تفسیر کا مقصد قرآن پر اپنی رائے مسلط کرنا نہیں بلکہ ان ذرائع اور اصولوں کے ذریعے قرآن کی مراد تک پہنچنے کی کوشش کرنا ہے جو اہلِ علم نے صدیوں کی علمی محنت سے مرتب کیے۔
اسی ضرورت نے اصولِ تفسیر کو جنم دیا۔ قرآن کی تفسیر کا دروازہ محض ذوق، جذبات یا شخصی تاثر سے نہیں کھلتا۔ قرآن کو قرآن سے سمجھنا، سنت سے اس کی توضیح لینا، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کو دیکھنا، عربی زبان کے اصول ملحوظ رکھنا، سیاق و سباق کو سامنے رکھنا اور قطعی و ظنی امور کے درمیان فرق کرنا اس منہج کے بنیادی اجزا ہیں۔ جتنا بڑا دعویٰ ہو، اتنی ہی مضبوط علمی بنیاد درکار ہوتی ہے۔
قرآن فہمی میں محکم اور متشابہ کی تمیز بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن خود بتاتا ہے کہ اس میں محکم آیات ہیں جو کتاب کی بنیاد ہیں، اور متشابہ آیات بھی ہیں۔ محکم نصوص کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے اس طرح چلنا کہ انسان اپنی خواہش کے مطابق معنی تراشنے لگے، فکری انحراف کا سبب بن سکتا ہے۔ صحیح منہج یہ ہے کہ واضح نصوص کو بنیاد بنایا جائے اور مشکل مقامات کو پورے قرآنی، نبوی اور علمی نظام کی روشنی میں سمجھا جائے۔
اسی طرح ناسخ و منسوخ کا مسئلہ قرآن فہمی میں خاص احتیاط چاہتا ہے۔ بعض احکام شریعت میں تدریج کے ساتھ تبدیل ہوئے، اور قرآن نے خود نسخ کے اصول کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مگر ہر بظاہر مختلف آیت کو ناسخ و منسوخ قرار دینا درست نہیں۔ کبھی فرق سیاق کا ہوتا ہے، کبھی حکم کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، کبھی ایک آیت دوسری کی تخصیص یا توضیح کرتی ہے۔ اس لیے نسخ کا دعویٰ مضبوط نقلی دلیل کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن فہمی کا اصول یہ ہے کہ اختلافِ ظاہری کو فوراً تضاد یا نسخ نہ سمجھا جائے بلکہ پہلے تمام ممکنہ علمی توجیہات کو دیکھا جائے۔
پھر قرآن کے مکی اور مدنی ہونے کا علم آیات کے فہم میں ایک اہم کلید فراہم کرتا ہے۔ مکی دور میں توحید، آخرت، رسالت، ایمان، اخلاق اور انسانی ضمیر کی بیداری پر خاص زور نمایاں ہے، جبکہ مدنی دور میں ایک تشکیل پاتی ہوئی مسلم جماعت کے عبادات، معاملات، معاشرت، قانون اور اجتماعی زندگی سے متعلق احکام زیادہ تفصیل کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اس تاریخی پس منظر کو جاننے سے انسان سمجھ پاتا ہے کہ قرآن کس مرحلے پر کس انسانی ضرورت سے خطاب کر رہا ہے۔
اسی سے اسبابِ نزول کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ بعض آیات مخصوص واقعات، سوالات یا حالات کے پس منظر میں نازل ہوئیں۔ ان اسباب کا علم آیت کے سیاق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، لیکن قرآن کے حکم کو صرف اسی واقعے تک محدود کر دینا بھی درست نہیں۔ اصول یہ ہے کہ سبب خاص ہو سکتا ہے مگر حکم کا دائرہ نص کے الفاظ اور شرعی اصولوں کے مطابق وسیع ہو سکتا ہے۔ اس لیے سببِ نزول آیت کی روشنی فراہم کرتا ہے، اسے قید نہیں کرتا۔
قرآن فہمی کے لیے قرآن کے جمع و تدوین کی تاریخ سے واقفیت بھی اہم ہے، کیونکہ جس کتاب سے انسان ہدایت لینا چاہتا ہے، اس کے محفوظ ہونے کا سوال بنیادی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن لکھا بھی جاتا تھا اور صحابہ اسے اپنے سینوں میں محفوظ بھی کرتے تھے۔ بعد ازاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں اسے ایک مصحف کی صورت میں جمع کیا گیا، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں مصاحف کی توحید و اشاعت کے ذریعے امت کو قراءت کے اختلافات میں انتشار سے محفوظ کیا گیا۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن محض ایک نسل سے دوسری نسل تک غیر منظم طور پر منتقل نہیں ہوا بلکہ حفظ، کتابت، تعلیم اور جماعتی توثیق کے متعدد ذرائع سے محفوظ رہا۔
یہاں قراءت کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ قرآن کے نزول میں متعدد صحیح قراءات کا مسئلہ موجود ہے، اور متواتر قراءات قرآن کے معتبر نقل شدہ وجوہ میں شامل ہیں۔ قراءت کو ذاتی تلفظ یا علاقائی اندازِ خواندگی سمجھ لینا درست نہیں۔ یہ ایک باقاعدہ منقول علمی روایت ہے جس کی اپنی سند اور اصول ہیں۔ اس حقیقت کا علم قرآن کے الفاظ، ادائیگی اور بعض مقامات پر معنی کے لطیف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
یوں قرآن کی حفاظت کا تصور صرف یہ نہیں کہ ایک کتاب آج بھی موجود ہے۔ قرآن کی حفاظت میں اس کا متن، تلاوت، حفظ، کتابت، تعلیم، قراءات اور امت کی مسلسل علمی روایت سب شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾۔ یہ حفاظت قرآن کے ساتھ امت کے تعلق میں بھی ظاہر ہوتی ہے: ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے جنہوں نے اسے حفظ کیا، پڑھا، پڑھایا، سمجھا، لکھا، تفسیر کی اور آگے منتقل کیا۔
اس کے بعد قرآن فہمی کا ایک نہایت اہم دروازہ سیاق ہے۔ کسی آیت کو اس کے پہلے اور بعد کے کلام سے کاٹ کر پڑھنا اکثر مفہوم کو محدود یا بدل سکتا ہے۔ لفظ کا معنی جملے سے، جملے کا مفہوم آیت سے، آیت کا تعلق رکوع و سورت سے اور سورت کا مجموعی پیغام پورے قرآنی نظام سے روشن ہوتا ہے۔ اس لیے کسی ایک جملے کو پورے قرآن سے الگ کر کے اپنی پسند کا مطلب نکالنا قرآن فہمی نہیں بلکہ متن سے انتزاع ہے۔
اسی کے ساتھ قرآن کے نظم پر غور انسان کو سورتوں اور آیات کے اندر موجود معنوی ترتیب کا احساس دلاتا ہے۔ قرآن محض الگ الگ اقوال کا مجموعہ نہیں۔ آیات کے درمیان مناسبت، موضوعات کی ترتیب، سوال و جواب، دلیل و نتیجہ، وعدہ و وعید اور قصص و احکام کے باہمی روابط ایک گہرا معنوی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ نظم کا علم انسان کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ آیت صرف اپنے الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے پورے مقام میں کیا کہہ رہی ہے۔
اسی لیے آیات کے باہمی تعلق کو نظر انداز کرنا قرآن فہمی کو ناقص کر دیتا ہے۔ ایک آیت کسی دوسری آیت کی وضاحت کر سکتی ہے، ایک مقام پر اجمال ہو سکتا ہے اور دوسرے مقام پر اس کی تفصیل، ایک جگہ اصول بیان ہو سکتا ہے اور دوسری جگہ اس کی عملی صورت۔ قرآن کو سمجھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک مسئلے سے متعلق تمام بنیادی نصوص کو جمع کر کے دیکھا جائے، نہ کہ ایک آیت کو پورے قرآنی نظام کا واحد نمائندہ بنا دیا جائے۔
پھر قرآن اور سنت کا تعلق سامنے آتا ہے۔ قرآن نے خود رسول اللہ ﷺ کو قرآن کی توضیح اور تعلیم کا منصب دیا۔ ﴿وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾۔ اس لیے قرآن فہمی سنت سے الگ ہو کر مکمل نہیں ہوتی۔ نماز، زکوٰۃ، حج اور بہت سے دیگر شرعی احکام کی عملی تفصیل ہمیں سنت سے ملتی ہے۔ قرآن اصول اور ہدایت دیتا ہے اور رسول اللہ ﷺ اپنے قول، فعل اور تقریر سے اس ہدایت کی عملی توضیح فرماتے ہیں۔
اسی سے قرآن اور حدیث کا تعلق واضح ہوتا ہے۔ حدیث قرآن کے مقابل کوئی الگ وحیاتی نظام نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپ کی تعلیمات کے ذریعے قرآن کے فہم و اطلاق کا بنیادی ذریعہ ہے۔ البتہ حدیث کے باب میں بھی صحتِ سند، متن، درایت، جمعِ طرق اور محدثین کے اصول ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ہر منقول روایت کو بلا تحقیق قرآن کی تفسیر بنا دینا درست منہج نہیں۔ قرآن فہمی بھی علمِ حدیث کے اصولی شعور کا تقاضا کرتی ہے۔
پھر قرآن اور فقہ کا رشتہ سامنے آتا ہے۔ قرآن میں احکام موجود ہیں، مگر ان احکام کو جزئیات، تطبیق، شرائط، موانع، تعارضِ ظاہری، عام و خاص، مطلق و مقید اور دیگر اصولوں کے ساتھ سمجھنے کے لیے فقہی منہج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے فقہ محض قانونی آراء کا مجموعہ نہیں بلکہ نصوص سے عملی احکام اخذ کرنے کی ایک منظم علمی کوشش ہے۔ قرآن سے براہِ راست ہر جزئی مسئلے کا حکم نکالنے کی کوشش، اگر اصولِ استنباط سے خالی ہو، تو بسا اوقات ظاہری سادگی کے باوجود علمی پیچیدگی پیدا کر دیتی ہے۔
لیکن قرآن فہمی کا آخری مقصد علمی بحث میں کامیابی نہیں بلکہ عمل ہے۔ اگر انسان نے آیات کے الفاظ سمجھ لیے، تفسیری اختلافات پڑھ لیے، لغوی نکات جان لیے اور پھر بھی اس کی نماز، اخلاق، معاملات، زبان، نگاہ، نیت اور کردار میں قرآن کا کوئی اثر نہ آیا تو اس کے علم میں ایک بنیادی کمی باقی ہے۔ قرآن انسان سے صرف یہ نہیں پوچھتا کہ تم نے کیا سمجھا؛ وہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ سمجھنے کے بعد تم نے کیا کیا۔
قرآن سے زندگی تک کا یہی سفر دراصل قرآن فہمی کی تکمیل ہے۔ جب انسان قرآن پڑھتا ہے تو وہ الفاظ سنتا ہے؛ جب تدبر کرتا ہے تو معنی دیکھتا ہے؛ جب تفسیر پڑھتا ہے تو مفہوم کا علمی پس منظر سمجھتا ہے؛ جب سنت سے جڑتا ہے تو نبوی تطبیق دیکھتا ہے؛ جب فقہ کے ذریعے احکام سمجھتا ہے تو عملی حدود پہچانتا ہے؛ اور جب عمل کرتا ہے تو قرآن اس کی زندگی میں اترنا شروع ہو جاتا ہے۔
اس مقام پر قرآن محض زیرِ مطالعہ کتاب نہیں رہتا بلکہ انسان کی شخصیت کا معیار بن جاتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کو قرآن کے سامنے رکھتا ہے، اپنی رائے کو قرآن کے سامنے پرکھتا ہے، اپنے اخلاق کو قرآن کے آئینے میں دیکھتا ہے، اپنے معاملات کو اس کی ہدایت کے مطابق جانچتا ہے اور اپنی کامیابی کا تصور بھی اس کے معیار سے تشکیل دیتا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس میں قرآن کا علم زندگی کا نور بن جاتا ہے۔
قرآن فہمی کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان قرآن کو اپنے لیے پڑھنے کے بجائے دوسروں کے لیے پڑھنے لگے۔ پھر ہر آیت میں اسے کسی مخالف کی غلطی دکھائی دیتی ہے، مگر اپنے نفس کی اصلاح کا مقام نظر نہیں آتا۔ صحیح قاری پہلے یہ پوچھتا ہے: یہ آیت مجھ سے کیا چاہتی ہے؟ پھر یہ دیکھتا ہے کہ اس کا حکم فرد، خاندان، معاشرے اور انسانیت پر کیسے منطبق ہوتا ہے۔ اس طرح قرآن دوسروں پر حکم لگانے کی کتاب کے بجائے اپنے آپ کو بدلنے کی کتاب بن جاتا ہے۔
یہی قرآن سے تعلق کی پختگی ہے کہ انسان آیات کو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے وجود سے پڑھنے لگے۔ تلاوت میں زبان شریک ہو، تدبر میں عقل، خشیت میں دل، اطاعت میں ارادہ اور عمل میں پورا انسان۔ تب قرآن فہمی محض ایک علمی فن نہیں رہتی بلکہ انسان کی تشکیل کا عمل بن جاتی ہے۔
یوں پچھلے ابواب کا سفر بھی ایک نئے مقام پر پہنچتا ہے۔ سوال نے بیداری پیدا کی، علم نے حقیقت کی تلاش سکھائی، ذرائعِ علم نے معرفت کے راستے دکھائے، عقل نے غور و استدلال کی قوت دی، فطرت نے حق کی طرف داخلی میلان دکھایا، وحی نے الٰہی ہدایت عطا کی، قرآن نے اس وحی کو محفوظ کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے رکھا، اور قرآن فہمی نے اب یہ سکھایا کہ اس کتاب کو صحیح طریقے سے پڑھنا، سمجھنا اور جینا کیسے ہے۔
مگر قرآن کو سمجھنے کے بعد بھی ایک سوال باقی رہتا ہے: قرآن کے معانی اور احکام کو بیان کرنے والے اہلِ علم نے تاریخ میں کون کون سے مناہج اختیار کیے؟ مفسرین نے قرآن کو کن اصولوں سے سمجھا؟ روایتی، فقہی، لغوی، کلامی، صوفیانہ، ادبی اور جدید تفسیری مناہج میں کیا فرق ہے؟ کون سا منہج کہاں معتبر ہے اور کہاں انسانی رائے قرآن پر غالب آ جاتی ہے؟
یہ سوال ہمیں اگلے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے: تفسیر و مفسرین — یعنی قرآن کے فہم کی تاریخ، اصول اور مختلف علمی مناہج کا مطالعہ۔
![]()

