“اور ہم نے لوہا اتارا” — قرآن کے لفظی و تکوینی نزول اور جدید سائنس کا متوازن تجزیہ
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)قرآنِ مجید کی سورۃ الحدید میں لوہے کے تعارف اور اس کی اہمیت سے متعلق یہ فرمانِ الٰہی ہمیشہ سے اہلِ علم اور متلاشیانِ حق کی توجہ کا مرکز رہا ہے:
﴿وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾
ترجمہ: “اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔”
حوالہ: سورۃ الحدید، آیت نمبر 25
اس آیتِ مبارکہ میں وارد لفظ “وَأَنزَلْنَا” (اور ہم نے اتارا) کی تفہیم پر دو انتہائیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک طبقہ مبالغہ آرائی کرتے ہوئے یہ اصرار کرتا ہے کہ زمین پہلے سے لوہے سے بالکل خالی تھی اور سارا لوہا بعد میں یکلخت آسمان سے برسا۔ اس کے برعکس دوسرا طبقہ لفظ کے ظاہری اور مادی نزول کو یکسر نظرانداز کر کے اسے محض ایک مجازی مفہوم تک محدود کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا مطلب صرف “پیدا کرنا” ہے، جیسے مویشیوں یا لباس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک منصفانہ، سائنسی اور قرآنی تجزیے کی رو سے یہ دونوں زاویے اپنی اپنی جگہ ایک انتہا ہیں۔ قرآنی کلمات کی وسعت میں دونوں مفاہیم بیک وقت اپنی پوری سچائی کے ساتھ موجود ہیں: اس میں اللہ کی طرف سے نعمت اور تدبیر کی عطا بھی شامل ہے اور آسمان و خلا سے لوہے کا مادی نزول بھی۔
لوہا کائناتی طور پر کیسے اترا؟ — فلکیاتی حقیقت
جدید فلکیاتی طبیعیات (Astrophysics) کے مطابق کائنات کے ابتدائی دور یعنی بگ بینگ کے فوراً بعد صرف ہائیڈروجن اور ہیلیم جیسی ہلکی گیسیں موجود تھیں۔ لوہے کا ایٹم زمین کے قدرتی درجہ حرارت یا عام حالات میں خود سے نہیں بن سکتا تھا۔ لوہا درحقیقت دیو ہیکل اور قدیم ستاروں کے اندرونی دہکتے ہوئے بھٹوں میں پکا، اور جب وہ ستارے اپنی عمر پوری کر کے ہولناک سپرنووا (Supernova) دھماکوں سے پھٹے تو یہ لوہا خلائی بادلوں میں دور دور تک اچھال دیا گیا۔
اس بنیادی سائنسی سچائی کے تحت ہمارا پورا نظامِ شمسی اور زمین بعد میں اسی کائناتی گرد سے بنے۔ یعنی زمین کا ایک ایک لوہے کا ایٹم بنیادی طور پر بیرونی کائنات اور خلا کی وسعتوں سے ہی اس دھرتی پر اترا ہے۔
زمین پر لوہے کی موجودگی اور شہابیوں کا مسلسل نزول
یہاں یہ ارضیاتی حقیقت بالکل درست ہے کہ زمین کی ابتدائی تخلیق کے دوران اس کائناتی بادل کا بہت سا لوہا اندرونی دباؤ کے باعث زمین کے مرکز میں جمع ہو کر اس کا دھاتی کور بنا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اتنی ہی ٹھوس اور ناقابلِ تردید سائنسی حقیقت ہے کہ زمین بننے کے بعد اس پر خلا سے لوہے کے بڑے بڑے شہابیوں (Iron Meteorites) کی بارش ہوتی رہی۔
زمین کے ابتدائی ادوار (Late Heavy Bombardment) میں خلا سے اربوں ٹن وزنی لوہے اور نکل پر مشتمل شہابیے زمین کی سطح پر گرتے رہے، اور یہ سلسلہ آج بھی رکا نہیں ہے۔ ناسا (NASA) کے مطابق آج بھی روزانہ خلا سے لوہے اور چٹانوں کے ٹکڑے شہابِ ثاقب کی شکل میں زمین کے ماحول میں داخل ہوتے اور گرتے ہیں۔
یہ محض مفروضہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا مسلمہ مشاہدہ ہے۔ زمین سے لوہے کی کانیں کھود کر نکالنے کی ٹیکنالوجی دریافت ہونے سے صدیوں پہلے، قدیم انسان آسمان سے گرنے والے انہی شہابیوں کا لوہا اٹھا کر اپنے اوزار اور خنجر تیار کرتا تھا۔ قدیم مصری اور سممیری تہذیبوں میں لوہے کو باقاعدہ “آسمانی تحفہ” یا “آسمان کی دھات” کہا جاتا تھا۔ اس مشاہداتی حقیقت کی موجودگی میں لوہے کے مادی اور جسمانی نزول سے آنکھیں چرانا سائنسی و تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔
لفظ “أنزلنا” کی معنوی وسعت — دونوں مفاہیم کا بیک وقت اجتماع
عربی زبان اور قرآنی فصاحت کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ ایک ہی لفظ بیک وقت کئی سچائیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے:
مادی اور تکوینی نزول: لفظ “أنزلنا” کا اصل اور اولین لغوی معنی “اوپر سے نیچے اتارنا” ہے۔ کائنات کی اصل سے لے کر شہابیوں کی بارش تک، لوہے کا آسمان سے زمین پر مادی طور پر اترنا اس لفظ کے تحت پوری طرح سچ ثابت ہوتا ہے۔
عطائی اور تقدیری نزول: دوسری جانب، قرآنِ مجید میں جہاں لباس یا مویشیوں کے اتارنے کا ذکر ہے، وہاں اس سے مراد اللہ کی طرف سے تدبیر، فراہمی اور کمالِ نعمت ہے۔
لہٰذا یہ کہنا سراسر علمی ناانصافی ہوگی کہ لوہے کے معاملے میں صرف مجازی معنی لیا جائے اور اس کے خلا اور آسمان سے اترنے کے واضح شواہد کو رد کر دیا جائے۔ آیتِ مبارکہ میں یہ دونوں مفاہیم باہم دست و گریباں نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے لوہے کو کائناتی ستاروں سے پیدا کر کے خلا اور شہابیوں کے ذریعے زمین پر اتارا بھی ہے، اور اس دھرتی پر انسان کی بقا اور ترقی کے لیے اسے ایک عظیم نعمت بنا کر بھی اتارا ہے۔
قوت اور انسانی فوائد کا اعجاز
آیت کا اگلا حصہ لوہے کی ان دو بڑی خصوصیات کو سامنے لاتا ہے جس پر پوری انسانی تہذیب کھڑی ہے:
﴿فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾
”بأس شدید” یعنی لوہے کے اندر پائی جانے والی ناقابلِ تسخیر سختی اور طاقت۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تلوار، ڈھال اور بکتر سے لے کر جدید دور کے دفاعی نظام اور ریاستی قوت تک، عدل کے قیام اور شر کے تدارک کے لیے لوہا ہی طاقت کی علامت رہا ہے۔
ساتھ ہی “منافع للناس” کہہ کر اس کے لاتعداد تمدنی اور حیاتیاتی فوائد کا احاطہ کر دیا گیا۔ مکانات کی بنیادیں، اونچے پل، بحری جہاز، ریل کی پٹریاں، کارخانے، فیکٹریاں اور نازک ترین جراحی آلات سب لوہے کے مرہونِ منت ہیں۔ حتیٰ کہ انسان کے اپنے جسم کے اندر رگوں میں دوڑتے خون کا سرخ خلیہ (ہیموگلوبن) لوہے کے بغیر کام نہیں کر سکتا اور زندگی کا سانس لینا ممکن نہیں رہتا۔
حاصلِ کلام
سورۃ الحدید کی آیت 25 کا درست اور مبنی بر انصاف فہم یہی ہے کہ افراط اور تفریط کی دونوں انتہاؤں سے گریز کیا جائے۔ نہ تو اس ضد پر اڑا جائے کہ لوہے کا تعلق آسمان اور خلا کے نزول سے سرے سے ہے ہی نہیں، اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جائے کہ زمین پہلے لوہے سے بالکل خالی تھی۔
قرآنی لفظ “أنزلنا” میں دونوں جہتیں کمالِ حسن کے ساتھ سموئی ہوئی ہیں:
ایک طرف ستاروں کے اندر لوہے کا پکنا اور خلا سے شہابیوں کے ذریعے اس کا زمین کی سطح پر مادی طور پر اترتے رہنا، اور دوسری طرف ربِ کائنات کی وہ ہمہ گیر تدبیر جس نے اس کائناتی دھات کو انسان کی تمدنی عمارت اور دفاع کی ریڑھ کی ہڈی بنا دیا۔ قرآن کے الفاظ کی وسعت انسانی علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے اندر چھپے سچائی کے نئے نئے گوشے کھولتی چلی جاتی ہے۔
#قرآن_اور_سائنس #سورۃ_الحدید #لوہا #فلکیات #تدبر_قرآن #جدید_سائنس #طارق_اقبال_سوہدروی
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ الحدید، آیت نمبر 25
حوالہ: جامع البيان فی تاويل القرآن، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، سورۃ الحدید
حوالہ: تفسير القرآن العظيم، عماد الدين اسماعيل بن كثير، سورۃ الحدید
حوالہ: الجامع لاحكام القرآن، امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی، سورۃ الحدید
حوالہ: سائنسی رپورٹ، امریکی خلائی ادارہ ناسا (NASA) — ستاروں میں لوہے کی نیوکلیئر فیوژن اور کائناتی پھیلاؤ
حوالہ: ارضیاتی و فلکیاتی ڈیٹا، ناسا میٹیورائٹ اسٹڈیز — آئرن میٹیورائٹس اور زمین پر ان کا تاریخی و مسلسل نزول
![]()

