Daily Roshni News

*ویانا میں (آئی اے ای اے) کے سائنسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر محمد کامران اختر کا کہنا تھا*۔

*ویانا میں (آئی اے ای اے) کے سائنسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر محمد کامران اختر کا کہنا تھا*۔

آسٹریا (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔رپورٹ۔۔۔ محمد عامر صدیق، ویانا، آسٹریا) آئی اے ای اے (IAEA) نے ویانا، آسٹریا میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سفیروں اور سفارت کاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس پروگرام کے دوران مختلف نشستیں منعقد کی گئیں۔

پاکستان کے سفیر محمد کامران اختر نے ‘نوری’ (آئی اے ای اے) اینکر سینٹر) اور ‘انمول’ ( آئی اے ای اے کولیبریٹنگ سینٹر) کے ذریعے آئی اے ای اے کے ‘ریز آف ہوپ’ (Rays of Hope) پروگرام میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا، اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی مہارت اور تجربہ شیئر کرنے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔

سفیرِ پاکستان نے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے کینسر کی تشخیص اور علاج کے شعبے میں پاکستان کی کامیابیوں کو نمایاں کیا۔ انہوں نے ‘نوری’ اور ‘انمول’ مراکز کے ذریعے آئی اے ای اے کے ‘ریز آف ہوپ’ پروگرام میں پاکستان کے تعاون کا بھی ذکر کیا اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی مہارت اور تجربہ دیگر ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے پاکستان کی تیاری کا اظہار کیا۔ سفیرِ پاکستان محمد کامران اختر نے اس موقع پر پینلسٹ (مباحثے میں شامل ماہرین) کے طور پر بھی شرکت کی۔

سفیرِ پاکستان نے آئی اے ای اے کے ان اقدامات کو سراہا جو براہِ راست عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے نظام کی افادیت پر اعتماد کو تقویت دیتے ہیں۔

Loading