حضرت موسیٰؑ کی پیدائش
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)فرعون کے محل میں حضرت موسیٰؑ کی آمد اور حضرت آسیہؑ کا تاریخی فیصلہ۔دریائے نیل کی موجیں خاموشی سے ایک چھوٹے سے صندوق کو اپنے ساتھ بہائے جا رہی تھیں۔ نہ اس صندوق میں بیٹھا ننھا بچہ جانتا تھا کہ اس کی منزل کیا ہے، نہ دریا کی لہریں سمجھتی تھیں کہ وہ تاریخ کے ایک عظیم ترین رسول کو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ لیکن ایک ہستی ضرور جانتی تھی، اور وہ اللہ رب العالمین تھے، جن کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہونے لگا تھا۔
جس بچے کو قتل کرنے کے لیے پورے مصر میں سپاہی تعینات تھے، وہی بچہ اللہ کی حفاظت میں ان موجوں پر سفر کر رہا تھا۔
صبح کی نرم کرنیں دریائے نیل پر بکھر رہی تھیں۔ شاہی محل کے قریب باغات میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے، کھجوروں کے درخت ہلکی ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے، اور محل کے خادم اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔
انہی لمحوں میں محل کے قریب بہتے پانی میں ایک عجیب صندوق نظر آیا۔
محل کے خادم حیران ہوئے۔
انہوں نے صندوق کو کنارے کی طرف کھینچا اور احتیاط سے اسے کھولا۔
اندر ایک نہایت خوبصورت، نورانی چہرے والا معصوم بچہ سکون سے لیٹا ہوا تھا۔
قرآن مجید اس لمحے کی حکمت کو یوں بیان کرتا ہے:
«وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي»
ترجمہ:
“اور میں نے اپنی طرف سے تم پر خاص محبت ڈال دی، تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔”
(سورۃ طٰہٰ: 39)
یہ صرف ایک بچے کی خوبصورتی نہیں تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوگوں کے دلوں میں خاص محبت پیدا کر دی تھی۔
حضرت آسیہؑ کی نظر
صندوق محل میں لایا گیا۔ جب فرعون کی اہلیہ حضرت آسیہؑ نے اس معصوم بچے کو دیکھا تو ان کے دل میں فوراً اس کے لیے محبت پیدا ہو گئی۔
قرآن مجید اس منظر کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
«وَقَالَتِ امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّي وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰ أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ»
ترجمہ:
“اور فرعون کی بیوی نے کہا: یہ میرے اور تمہارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، ممکن ہے یہ ہمارے کام آئے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں، اور انہیں اس حقیقت کا شعور نہ تھا۔”
(سورۃ القصص: 9)
یہ چند الفاظ تاریخ کا رخ بدلنے والے تھے۔
اگر حضرت آسیہؑ یہ بات نہ کہتیں تو شاید اسی وقت سپاہی بچے کو قتل کر دیتے۔
لیکن اللہ کا فیصلہ کچھ اور تھا۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہؑ کے دل میں ایسی محبت پیدا فرما دی کہ انہوں نے فوراً اس بچے کی جان بچانے کی کوشش کی، اور یہی اللہ کی تدبیر تھی۔
محل کے درباری حیران تھے۔
ایک طرف فرعون کا وہ حکم تھا جس کے مطابق بنی اسرائیل کے لڑکوں کو زندہ نہیں چھوڑا جاتا تھا، اور دوسری طرف محل میں ایک ایسا بچہ موجود تھا جس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔
کسی کو خبر نہ تھی کہ یہی بچہ ایک دن اسی فرعون کے سامنے اللہ کا پیغام لے کر کھڑا ہوگا۔
اگلی قسط کی جھلک
قسط نمبر 3 (حصہ دوم):
فرعون نے جب اس بچے کو دیکھا تو اس کا ردِعمل کیا تھا؟
حضرت آسیہؑ نے کس حکمت اور محبت بھرے انداز میں فرعون کو راضی کیا؟
اور کیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی جان اسی محل میں محفوظ کر دی جہاں سے ان کے قتل کا حکم جاری ہوا تھا؟
یہ ایمان افروز واقعہ اگلے حصے میں۔
—
(References)
-
قرآن مجید، سورۃ القصص: 9۔
-
قرآن مجید، سورۃ طٰہٰ: 39۔
-
تفسیر ابن کثیر۔
-
جامع البیان، امام طبری۔
-
البدایہ والنہایہ، ابن کثیر۔
#حضرت_موسیٰؑ #قسط_نمبر3 #حضرت_آسیہ #فرعون #قصص_الانبیاء #اسلامی_تاریخ #قرآن_مجید
#ProphetMusa #Moses #Asiya #Pharaoh #Quran #StoriesOfProphets #IslamicHistory #AncientEgypt
![]()

