Daily Roshni News

پرندوں کے ارتقا کا حیران کن راز : لاکھوں سال میں تبدیلیاں اچانک کیوں آئیں؟

پرندوں کے ارتقا کا حیران کن راز : لاکھوں سال میں تبدیلیاں اچانک کیوں آئیں؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ارتقا (Evolution) ہمیشہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے، تو نئی سائنسی تحقیق آپ کی یہ سوچ بدل سکتی ہے۔ امریکی یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دریافت کیا ہے کہ دنیا کے زیادہ تر گیت گانے والے پرندے (Songbirds) مسلسل نہیں بلکہ اچانک آنے والے “ارتقائی دھماکوں” کے ذریعے ترقی کرتے رہے۔

تحقیق کے دوران 2,000 سے زائد پرندوں کی انواع اور 15,000 سے زیادہ عجائب گھروں میں محفوظ ڈھانچوں (Skeletons) کا تجزیہ کیا گیا۔ اے آئی پر مبنی Skelevision نامی نظام نے صرف 45 سیکنڈ میں ہر نمونے کی ہڈیوں کی درست پیمائش کی، جس سے 170,000 سے زیادہ پیمائشیں حاصل ہوئیں۔ اس وسیع ڈیٹا نے سائنس دانوں کو تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ سال پر محیط ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے، جب زمین شدید عالمی ٹھنڈک کے دور سے گزری، پرندوں کی جسمانی ساخت میں غیر معمولی تیزی سے تبدیلیاں آئیں۔ اس کے بعد ارتقا کی رفتار نسبتاً سست ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق جب ماحول میں بڑی تبدیلی آتی ہے تو نئی رہائش گاہیں اور خوراک کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جس سے جاندار تیزی سے خود کو ڈھالتے ہیں۔

تحقیق نے ایک اور دلچسپ حقیقت بھی سامنے لائی کہ قطبین کے قریب رہنے والے پرندے، جہاں موسم میں شدید اتار چڑھاؤ ہوتا ہے، استوائی علاقوں کے پرندوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ارتقا کرتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف ماضی کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔ آج جب دنیا تیز رفتار موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے، تو یہ نتائج ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں مختلف جانور اور پرندے بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق خود کو کس حد تک ڈھال سکیں گے۔ یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت اور عجائب گھروں میں محفوظ حیاتیاتی ذخائر مل کر قدرت کے پوشیدہ راز آشکار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔

#birdlovers #birds #evolution #ArtificialIntelligence #science

Loading