Daily Roshni News

**حقیقتِ دھیان**

**حقیقتِ دھیان**

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی زندگی کے سفر میں ‘سکونِ قلب’ اور ‘حقیقتِ ذات’ کی تلاش ہمیشہ سے ایک بنیادی سوال رہی ہے۔ ہم اکثر ‘دھیان’ یا ‘میڈیٹیشن’ کو چند مخصوص جسمانی نشستوں، وظیفوں یا سانس کی مشقوں تک محدود سمجھ لیتے ہیں، لیکن کیا روحانیت محض آنکھیں بند کر کے بیٹھ جانے کا نام ہے؟

*(مرشد اور مرید کے درمیان ایک بصیرت افروز مکالمہ)*

**سائل:** مرشدِ من! ‘دھیان’ (Meditation) کی اصل حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ محض خیالات کا مشاہدہ اور مناظرِ فطرت کو بلا مداخلت دیکھنا ہے؟ میں نے کل دیر تک یہی سعی کی کہ کوئی خیال حائل نہ ہو اور فطری انداز سے دیکھتا رہوں۔

**مرشد:** میاں! اگر تم نے ‘کوشش’ کی، تو پھر وہ فطری پن کہاں رہا؟ سادگی اور فطرت تو اس کیفیت کا نام ہے جہاں ‘کوشش’ کی گنجائش ہی نہیں۔ تم کسی شے کو اس کی اصل صورت میں تبھی دیکھ سکتے ہو جب تمہیں اس سے کچھ ‘چاہیے’ نہ ہو۔ جس سے تمہارا مفاد یا طلب وابستہ ہے، اسے تم حقیقت میں نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے آئینے میں دیکھو گے۔

مشاہدہ

**مرشد:** یاد رکھو، ایک ہوتا ہے ‘دیکھنا’ اور ایک ہوتا ہے ‘دکھنا’۔ دیکھنے میں ‘انا’ (Ego) حائل ہوتی ہے جبکہ دکھنے میں ‘سپردگی’ (Surrender) ہوتی ہے۔ جیسا دکھ رہا ہے، ویسا ہی قبول کرو۔ اگر کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا، تو خرابی سامنے والے میں نہیں بلکہ تمہارے اندر چھپی رغبت (لگاؤ)، نفرت (عداوت)، خواہش اور توقع میں ہے۔ جب تم ہر شے کو اپنے پیمانے پر چاہتے ہو، یہی اصل فساد ہے۔

صرف دیکھتے رہنے سے کچھ نہیں بدلتا۔ اگر تختہ سیاہ (Blackboard) پر کچھ غلط لکھا ہے، تو محض ٹکٹکی باندھنے سے وہ مٹے گا نہیں۔ جس ہاتھ سے لکھا ہے، اسی ہاتھ سے ‘ڈسٹر’ اٹھا کر اسے مٹانا بھی پڑے گا۔

۔

عمل

**سائل:** مرشد! کس چیز کو مٹانے کی بات ہو رہی ہے؟

**مرشد:** ان اعمال اور یادوں کو، جن کے سبب تم پریشان ہو۔ تم نے خیالات کے بہاؤ کو زبردستی روکا ہوا ہے، مگر یہ بند کب تک قائم رہے گا؟ اصل کام تو اس ‘جڑ’ کو اکھاڑنا تھا جس کی وجہ سے یہ خیالات اٹھ رہے ہیں—یعنی کسی سے شدید رغبت یا شدید نفرت۔

کسی دشمن کو عمر بھر دھیان میں دیکھتے رہنے سے عداوت زائل نہیں ہوتی، مگر اس کے پاس جا کر معافی مانگ لینے سے اگلی صبح دل کا بوجھ ہٹ جاتا ہے اور چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ ہم ان ہی خیالات میں بہتے ہیں جن سے ہمارا لگاؤ یا عداوت ہو۔ اجنبیوں کے ساتھ کوئی نہیں بہتا۔ قفل جس چابی سے بند ہوتا ہے، اسی سے کھلتا بھی ہے۔ مشین خراب ہو تو اسے صرف دیکھنا نہیں، بلکہ نقص دور کر کے اسے ‘درست’ کرنا پڑتا ہے۔ یہی دھیان ہے۔

۔

توازن

**سائل:** مرشد! دشمنی میں تو معافی مانگ لی، مگر ‘رغبت’ (لگاؤ) کا سدِ باب کیا ہے؟

**مرشد:** لگاؤ ضرورت سے ہوتا ہے۔ جس دن ضرورت ختم ہوئی، تم اس شے کو کوڑے میں پھینک دو گے۔ اگر رغبت سے نجات چاہتے ہو، تو ‘لینے’ کا جذبہ ترک کر دو اور ‘دینے’ کی خو پیدا کر لو۔ لینے میں گرفت ہے اور دینے میں رہائی۔

**سائل:** اور اگر سامنے والا اپنی ‘انا’ کے نشے میں ہمیں ستا رہا ہو، تب کیا کریں؟

**مرشد:** یا تو اس سے زیادہ زور آور بنو، یا اس کے زیرِ اثر رہو، یا پھر اس مقام کو خیرباد کہہ دو۔ دھیان کی مشق اس لیے ہے کہ اگر تم بیرونی کائنات سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے، تو کم از کم اپنے اندر کے ہیجانات کو تو قابو کر سکو۔

عرفان

**سائل:** گرو جی! کیا دھیان ‘روح کے عرفان’ کی پہلی سیڑھی ہے؟

**مرشد:** میاں! دھیان سے تو بس باطنی شور تھمتا ہے، اسے منزل مت سمجھو۔ خاموشی تو گہری نیند میں بھی ہوتی ہے، تو کیا وہ روح شناسی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ محض دھیان کی تکنیکوں سے کسی نے سب کچھ نہیں پایا۔ مہاتما بدھ بھی تب پہنچے جب وہ سب کچھ ‘کر کے’ تھک گئے اور ہر سعی ترک کر دی۔ معرفت، خدمت اور ریاضت کے راستے اس لیے ہیں کہ تم دوڑ دوڑ کر نڈھال ہو جاؤ۔ جب تم تھک جاؤ گے، تبھی کچھ چھوڑ پاؤ گے۔ وصال تو تب ہوتا ہے جب سب کچھ چھوٹ جاتا ہے۔

مشاہد بننا اور جینے کا قرینہ

**مرشد:** دھیان کا مطلب یہ ہے کہ بیٹھ کر پرکھو کہ تمہاری توجہ جہاں مائل ہو رہی ہے، وہاں کیوں جا رہی ہے؟ اس کے پیچھے چھپی پرانی چاہت یا کدورت کو سمجھو۔ جب حقیقت سمجھ لو گے، تو گرفت ڈھیلی ہو جائے گی۔

زندگی کے معاملات میں ‘کرتا’ (Doer) مت بنو، بلکہ ‘مشاہد’ (Witness) بن جاؤ۔ تماشائی نہ ہارتا ہے نہ جیتتا ہے۔ اپنی ذات کے ادھورے پن کو دیکھ لو گے تو اس سے نجات پا لو گے۔ مگر یاد رہے، اس کے لیے ‘حق کی صحبت’ ناگزیر ہے تاکہ تم زندگی کا سلیقہ سیکھ سکو۔

تمہیں محنت کرنی ہوگی۔ اپنی باطنی صداقت کو تھام لو اور یہ دھیان رکھو کہ تمہارے کسی عمل سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ یہی اصل دھیان ہے اور یہی جینے کا قرینہ ہے۔

۔۔

 تماشائی سے تماشا بننے تک*

**مرشد نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے مرید کی آنکھوں میں جھانک کر کہا:**

“بیٹا! دھیان کوئی ایسی شے نہیں جسے تم بازار سے خرید کر گھر لے آؤ اور سجا لو۔ یہ تو اس آگ کا نام ہے جو تمہاری رغبتوں اور نفرتوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ جس دن تمہیں کسی سے کچھ نہیں چاہیے ہوگا، اس دن تمہیں کائنات کی ہر شے ویسی ہی دکھے گی جیسی وہ اصل میں ہے۔ تمہارا ‘میں’ جب تک درمیان میں ہے، حقیقت دھندلی رہے گی۔ اپنی انا کا ڈسٹر اٹھاؤ اور اس بورڈ کو صاف کر دو جس پر تم نے برسوں سے اپنی خواہشات کی کہانیاں لکھ رکھی ہیں۔ جب تختہ بالکل سادہ اور صاف ہو جائے گا، تو اس پر تمہاری روح کی وہ تحریر چمک اٹھے گی جسے قدرت نے تمہارے پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ دیا تھا۔”

*سائل کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان پھیل گیا۔ اس نے جھک کر مرشد کے قدموں کو چھوا۔ مرشد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور الوداعی کلمات کہے:*

“جاؤ! اب دھیان ‘کرنا’ چھوڑ دو اور دھیان میں ‘جینا’ شروع کرو۔ یاد رکھنا، تمہاری ایمانداری ہی تمہاری سب سے بڑی کرامت ہے اور کسی کا دل نہ دکھانا ہی تمہاری معراج۔ جب تم کسی بھوکے کو کھانا کھلاؤ یا کسی روتے ہوئے کو ہنساؤ، تو سمجھ لینا کہ تمہارا دھیان لگ گیا ہے۔”

*فضا میں ایک پراسرار خاموشی چھا گئی۔ مرشد اپنی جگہ سے اٹھے اور ہولے سے بڑبڑائے:* پہنچنا کہیں نہیں ہے… وصال تو تب ہوتا ہے جب پہنچنے کی خواہش بھی چھوٹ جائے۔”۔

۔

طبیب وجاہت عمر

03096207007

Loading