Daily Roshni News

حکیم محمد سعید شہید: پاک سرزمین سے دیوانہ وار محبت کا لافانی استعارہ

حکیم محمد سعید شہید: پاک سرزمین سے دیوانہ وار محبت کا لافانی استعارہ

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تاریخ کے جھروکوں میں کچھ نام ایسے درخشاں ہوتے ہیں جن کی تابانی کسی ایک دور تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کا جادہ و منزل روشن کرتی ہے۔ حکیم محمد سعید شہید (رحمۃ اللہ علیہ) ایک ایسا ہی درخشندہ ستارہ تھے—ایک ہمہ جہت مصلح، یگانہ روزگار معالج، عظیم مفکر، اور سب سے بڑھ کر پاکستان سے والہانہ اور دیوانہ وار محبت کرنے والے سچے عاشقِ وطن۔

​آبا و اجداد کی وراثت اور ہجرتِ عشق

9 جنوری 1920ء کو دہلی کی مردم خیز مٹی میں جنم لینے والے حکیم محمد سعید کو حکمت، طہارت اور خدمت کا درس ورثے میں ملا۔ قیامِ پاکستان کے وقت دہلی میں ایک قائم شدہ اور خوشحال طبی امپائر کو خیرباد کہہ کر، محض ایک سو روپے کی قلیل رقم اور جذبہِ ایمانی کے ساتھ کراچی کا رخ کرنا کوئی عام فیصلہ نہ تھا۔ یہ اپنے ماضی سے رشتہ توڑ کر ایک نظریاتی مملکت کے ساتھ اپنی روح کا سودا کرنے کی وہ تاریخی ہجرت تھی جس کی بنیاد صرف اور صرف پاکستان کی مٹی سے لازوال محبت تھی۔

​طبِ یونانی کا احیاء اور ہمدرد کی تعمیر

کراچی کی تپتی سڑکوں پر ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان سے شروع ہونے والا ‘ہمدرد’ کا سفر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی معاشی، علمی اور طبی خود مختاری کا شاندار مظہر بن گیا۔ حکیم صاحب نے نہ صرف طبِ مشرقی کو عالمی سطح پر معتبر اور سائنسی بنیادوں پر استوار کیا، بلکہ اپنی شبانہ روز محنت سے تسخیرِ شفا کے وہ معرکے سر کیے جن کی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے اپنی ذات کے لیے کوئی محل نہیں بنایا، بلکہ ہمدرد کو ایک قومی امانت اور وقف بنا کر اس کا تمام تر ثمرہ ملک و ملت کی فلاح پر نچھاور کر دیا۔

​شمعِ علم اور بچوں کے پاسبان: مدینۃ الحکمۃ

حکیم صاحب کا ماننا تھا کہ کسی قوم کی بقا اس کے بچوں کی اخلاقی اور علمی تربیت میں پنہاں ہے۔ انہوں نے ‘ہمدرد نونہال’ کا رسالہ جاری کر کے، نونہال اسمبلی قائم کر کے اور بچوں کے لیے لٹریچر کا ایک وسیع ذخیرہ فراہم کر کے نئی نسل کی روح کو سنوارا۔ ان کے لازوال خوابوں کی سب سے حسین تعبیر ‘مدینۃ الحکمۃ’ (City of Education and Science) کے روپ میں سامنے آئی—علم و حکمت کا ایک ایسا بین الاقوامی مرکز جہاں سکولوں سے لے کر جامعہ (جامعہ ہمدرد) اور عظیم الشان بیت الحکمۃ لائبریری تک، علم کے لاکھوں چراغ روشن ہوئے۔

​اقتدار کا زہد اور سندھ کی گورنری

1993ء میں جب انہیں صوبہ سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، تو ایوانِ صدر سے لے کر گورنر ہاؤس کے در و دیوار نے زہد، قناعت اور بپتا سہتے عوام کی بے لوث خدمت کا ایک نیا روپ دیکھا۔ انہوں نے گورنر ہاؤس کے تمام پرتعیش مراعات اور پروٹوکول کو ٹھکرا دیا۔ وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر بھی ایک سچے درویش رہے جن کا دامن سیاست کے گندے چھینٹوں اور مفاد پرستی کی آلودگی سے یکسر پاک رہا۔

​وطن سے جنون کی حد تک محبت اور شہادت

حکیم صاحب کے لیے پاکستان محض ایک ملک نہیں، بلکہ ان کی سچی عبادت اور عشق کا نام تھا۔ وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ “پاکستان کی تعمیر، میری زندگی کی سب سے بڑی آرزو ہے۔” وہ سحر خیز اور سخت کوش انسان تھے، جو طویل ترین دوروں اور مسلسل مصروفیات کے باوجود دن رات وطن کی ترقی کے لیے سرگرداں رہے۔

​ان کی روحانی زندگی بھی مثالی تھی — ہمیشہ باوضو رہنا، حضرت داؤد علیہ السلام کی سنت کے مطابق ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا، اور لباس و خوراک میں انتہائی سادگی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔

مگر تقدیر کا ایک ظالم دن بھی آنا تھا۔ 17 اکتوبر 1998 کو، روزے کی حالت میں، اپنے مطب کے سامنے، اس عظیم محسن کو بہیمانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا۔ ایک ایسی روح جس نے ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار دی، بندوق کی گولیوں کا نشانہ بن گئی۔ مگر شہادت نے ان کے مشن کو ختم نہیں کیا — بلکہ امر کر دیا۔

آج بھی ہمدرد کا ہر ادارہ، ہر مطب، ہر نونہال کا صفحہ اس عظیم انسان کی یاد دلاتا ہے کہ سچی خدمت کبھی نہیں مرتی۔ حکیم محمد سعید شہید — علم، خدمت اور ایثار کا وہ چراغ جو ہمیشہ روشن رہے گا۔

حکیم محمد سعید شہید ہم سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی قائم کردہ علمی و طبی تحاریک، ان کی پاکستان سے پاکیزہ محبت اور ان کا طاہرہ کردار آج بھی ہر سچے پاکستانی کے دل میں چراغ بن کر جل رہا ہے۔ وہ ایک ایسے لافانی کردار ہیں جو ہمیشہ ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہیں گے۔

#حکیم_محمد_سعید #شہید_پاکستان #ہمدرد #حکیم_محمد_سعید_شہید #پاکستانی_ہیرو #علم_و_خدمت #ElephantAcademia

#facebook

Loading