Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

شباب کی باتیں

تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب)یہ تو نہیں معلوم بلکہ اگر اسے تحقیق طلب مسئلہ قرار دیا جائے کہ مشاعروں کی ابتدا کب اور کہاں ہوئی تو شاید غلط نہ ہو،  یہ بھی ممکن ہے کہ محققین نے اس ضمن میں تحقیق کے گھوڑے دوڑا کر حقائق جاننے کی کوشش کر بھی رکھی ہو،  تا ہم اگر ایسا ہے تو ہم ایسی کوششوں سے بے خبر ہیں، یعنی یہ ہماری اپنی غلطی یا کم علمی ہو سکتی ہے کہ اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے البتہ جو تھوڑی بہت معلومات ہماری نظر سے گزری ہیں، ان سے مشاعروں کی اہمیت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قدیم دور کے شعراء کرام،  مشاعروں کا اہتمام دراصل ایک سماجی ادارے کے طور پر کرتے تھے، جو عوام کے لیے بھی تفریح  کا ایک ذریعہ ہوا کرتے تھے۔  اس دور کے مشاعروں کے انعقاد کے حوالے سے بھی ایک ضابطہ موجود تھا، اگرچہ کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی،  ان اصول و ضوابط سے انحراف کی کہانیاں بھی ادبی تاریخ کا حصہ رہی ہیں اور ایسا تب ہوتا تھا جب بعض استاد قسم کے شعرائے کرام کے مابین معاصرانہ چشمک کی صورت پیدا ہو جاتی تھی، اور ہر گروپ سے تعلق رکھنے والےاساتذہ کرام کے شاگردوں کے ٹولے مشاعروں میں داد دیتے دیتے بیدار گری کی سرحدوں کو چھونے لگتے تھے۔  یعنی اپنے استاد کو تو داد دیتے ہوئے دکھائی دیتے تھے جبکہ مخالف شاعر کو داد کی جگہ بیداد یعنی مضحکہ اڑانے میں ہر حد پار کر جاتے۔  گویا بقول مرزا غالب

بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات

 عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!

بات مشاعروں کی ہو رہی تھی کہ اس کی ابتدا کب اور کہاں سے ہوئی؟ قدیم دور میں جب بر صغیر میں مجلسی دلچسپی کے اور بہت سی چیزیں ہوا کرتی تھیں،  جن میں کچھ مروجہ اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتی تھیں،  مثلا ایک زمانے میں بٹیر بازی عام تھی اور رؤساء  اس لت میں مبتلا تھے، بٹیروں کی لڑائی عام تھی، جن پر بھاری شرطیں بھی لگائی جاتی تھیں، (اب بھی اکثر یہ کھیل کھیلا جاتا ہے)  اسی طرح مرغوں کی لڑائی، کتوں کی لڑائی وغیرہ جو دراصل ایک انحطاط پذیر معاشرے کی نشانی ہوتی ہے، ایسے میں شاید کہیں نہ کہیں،  کسی نہ کسی کے ذہن میں محافل مشاعرہ کے انعقاد کا خیال آیا ہوگا،  جن سے حسن تہذیب کے قیام کا مقصد حاصل کرنا مقصود رہا ہوگا،  اور یوں اساتذہ اور ان کے شاگرد ان محافل میں جوق درجوق شامل ہو کر ایک ادبی سرگرمی کے قیام کا باعث بنے ہوں گے۔ مگر مقابلے کا رجحان چونکہ ازل ہی سے ہر شعبہ زندگی کا حصہ رہنا انسانی فطرت میں شامل رہا ہے، اس لئے مشاعروں میں بھی ادبی چشمک نے اس مقابلے کے رجحان کو شامل ہونے کی راہ دکھائی ہوگی۔  اور تب سے آج تک یہ رجحان مشاعروں کے بنیادی وصف میں شامل ہے۔ اس حوالے سے مرزا غالب کا وہ شعر تو زبان زد عام ہے جس میں انہوں نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد، شیخ ابراہیم ذوق کے ساتھ معاصرانہ چشمک کی حدود پار کرتے ہوئے، ان پر مصاحب شہ ہونے کو طنزیہ انداز میں بیان کیا ہے۔

  اب وہ دور بھی نہیں رہا جب مشاعروں میں پوری پوری غزلیں بلکہ دو غزلیں، سہ غزلیں یہاں تک کہ غزل مسلسل سے فنی کمالات دکھائے جاتے تھے۔ یعنی بقول حفیظ جالندھری

حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے

 بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

مگر جس طرح وقت ایک سا نہیں رہتا اور زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی آتی رہتی ہے، یہی حال مشاعروں کا ہو رہا ہے بلکہ بہت حد تک ہو چکا ہے، اور جب سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر دنیا جہاں کی تبدیلیاں ایک کلک پر سامنے  آجاتی ہیں اسی طرح ایک تو دنیا کے مختلف ممالک میں آن لائن مشاعروں کا ایک نیا نظام متعارف ہو چکا ہے، جن میں دنیا بھر سے شعرائے کرام شرکت کر کے “عالمی شہرت”  پا رہے ہیں اور ان کی شہرت جو کبھی زیادہ تر اپنے آبائی شہروں یا زیادہ سے زیادہ  اپنے ملک کے اندر تک محدود رہتی تھی، اب ان مشاعروں کی وجہ سے شہرت عام کے وسیع کینوس پر پھیلتی جا رہی ہے۔  جو خوش آیند بات ہے۔  یعنی بقول مرزا محمود سرحدی مرحوم

سود کے مال پہ ہر اک جانب بٹ رہی ہے زکواۃ برسر عام

البتہ اس فیس بکی مشاعروں نے ایک اور طرح سے ات مچانا شروع کر رکھی ہے اور وہ یہ کہ اب پوری پوری غزلوں کی جگہ مختلف غزلوں کے ایک ایک، دو دو اشعار جو کسی نہ کسی طور ہٹ ہو چکے ہیں، وہی ہر جگہ مشاعروں میں سنا سنا کر نسل نو کی داد سیٹیوں اور تالیوں کی صورت وصول کرنے کے ساتھ ساتھ، بھاری معاوضے بھی ہتھیا لیے جاتے ہیں۔ یہ ایک بالکل ہی نیا ٹرینڈ ہے جو مشاعروں کی محفلوں میں جادو کی طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے۔  مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر شاعر صرف سوشل میڈیا پر ہی “دندناتے”  پھرتے ہیں اور مزید مزے کی بات یہ ہے کہ ان  شعراء کے اکثر اشعار بالکل بے معنی اور مبہم ہوتے ہیں،  جن کو سمجھنے کے لیے آپ کو بھی فیس بک کی اسی سطح پر اترنا پڑتا ہے جس کی کئی پوسٹوں میں مشہور شعراء کرام کے نام سے،  بے معنی اشعار خود ہی گھڑ کر مرحوم شعراء کی عاقبت کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔  اور ہمیں یقین ہے کہ اپنے نام سے یہ بے سروپا اشعار سن کر مرحومین کی روحیں تک قبروں میں بے چین ہوتی ہوں گی۔  اس پر ہمیں اپنا ہی ایک شعر یاد آگیا ہے کہ

 سورج کے ساتھ ساتھ تھا چلنا ہمیں حضور

 تو نے چرا کے دھوپ کو اندھیرا کر دیا

بہرحال دیکھتے ہیں کہ یہ نئی روایت کب تک ادب کے ساتھ چلتی ہے یا ادب کو ساتھ لے کر چلتی ہے اور کب لوگ بالآخر اس سے بھی اکتا کر مشاعروں کے اسی سنہری دور کی جانب واپس پلٹتے ہیں، جو تہذیبی ارتقاء کا باعث بنے رہے ہیں۔ مگر اس کے لیے سنجیدہ شاعری کرنے والے شعرائے کرام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا  اور ایسے ” نام نہاد” شعراء سے جان چھڑانے،  بلکہ اردو زبان کی جان چھڑانے کے لیے، مشاعروں کی محفلوں میں ان کی تعریفوں کے پل باندھنے اور ان پر واہ واہ کے ڈونگرے برسانے سے ہاتھ کھینچنا پڑیں گے۔  بصورت دیگر فیس بک نے تو شاعری کا بیڑا غرق کرنے میں پہلے ہی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی،  تو آگے  کیا حال ہوگا؟  کہ بقول ساقی فاروقی

 یہ کہہ کے ہمیں چھوڑ گئی روشنی اک رات

 تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے

Loading