خاموشی اور نا انصافی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک سرد اور سادہ دوپہر تھی۔ ایک چھوٹے سے گھر کے کمرے میں ایک آدمی میز کے سامنے بیٹھا کاغذات اور حساب کتاب میں گم تھا۔ قلم کی آواز اور کاغذ کی سرسراہٹ کے سوا وہاں خاموشی تھی۔
اسی وقت اس نے اپنی بچوں کی آیا کو بلایا۔
یولیا واسیلیونا اندر داخل ہوئی۔
وہ ایک سادہ، دبلی پتلی، شرمیلی سی عورت تھی۔ اس کے ہاتھ کام سے سخت ہو چکے تھے اور آنکھوں میں ایک مستقل تھکن تھی، مگر چہرے پر اب بھی نرمی تھی۔
آدمی نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے کہا:
“آؤ یولیا، بیٹھ جاؤ… آج حساب کر لیتے ہیں۔ تمہیں تو ہمیشہ جلدی پیسے کی ضرورت رہتی ہے، مگر تم مانگتی نہیں۔”
یولیا خاموشی سے بیٹھ گئی۔
آدمی نے کاغذ دیکھتے ہوئے کہا:
“ہم نے طے کیا تھا کہ تمہیں ماہانہ تیس روبل ملیں گے۔”
یولیا نے آہستہ سے کہا:
“چالیس…”
آدمی نے فوراً سر ہلا دیا:
“نہیں، تیس ہی تھے۔ میرے پاس ریکارڈ ہے۔”
یولیا نے کچھ نہیں کہا۔ صرف نظریں جھکا لیں۔
آدمی نے حساب شروع کیا:
“تم نے دو مہینے کام کیا ہے۔ یعنی ساٹھ روبل بنتے ہیں۔”
وہ رک کر بولا:
“لیکن اتوار کے نو دن ہم نکال دیتے ہیں، کیونکہ ان دنوں تم نے صرف بچے کے ساتھ وقت گزارا، پڑھایا نہیں۔ پھر تین دن کی چھٹیاں بھی تھیں…”
یولیا خاموش تھی۔
آدمی ایک ایک کر کے کٹوتیاں بتاتا گیا:
“بچے کی بیماری کے دن… تم نے کم کام کیا… پھر تمہارے دانت میں درد تھا… اس دن بھی کمی…”
ہر لفظ کے ساتھ یولیا کا چہرہ مزید زرد پڑتا جا رہا تھا۔
اس کی انگلیاں کپڑوں کے کونے کو زور سے پکڑ رہی تھیں، جیسے وہ خود کو گرنے سے بچا رہی ہو۔
آخرکار آدمی نے کاغذ دیکھ کر کہا:
“کل ملا کر تمہیں دس روبل بنتے ہیں۔”
وہ دس روبل اس کے سامنے رکھ دیے گئے۔
یولیا نے آہستہ سے انہیں لیا، تہہ کیا اور جیب میں رکھ لیا۔ اس کے چہرے پر نہ شکایت تھی، نہ غصہ… صرف ایک خاموش قبولیت۔
آدمی نے حیرت سے اسے دیکھا:
“تم کچھ نہیں کہو گی؟ تمہیں لگتا ہے میں نے تمہارے ساتھ انصاف کیا ہے؟”
یولیا نے دھیرے سے جواب دیا:
“نہیں… میں بس یہ سوچ رہی ہوں کہ اتنی کم رقم میں میں کیا کروں گی…”
یہ جواب سن کر آدمی کے ہاتھ رک گئے۔
اس نے یولیا کو غور سے دیکھا۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ کس کے ساتھ بیٹھا ہے—ایک ایسی عورت جو اپنا حق بھی مانگنا نہیں جانتی، اور جس کی خاموشی نے اسے اور بھی کمزور بنا دیا ہے۔
اس کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔
وہ بے چین ہو گیا:
“یولیا… میں نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ تمہیں اس سے زیادہ ملنا چاہیے تھا۔”
مگر یولیا نے صرف مسکرا کر کہا:
“آپ ہی مالک ہیں… جو آپ نے کہا، وہی ٹھیک ہے۔”
یہ جملہ آدمی کے دل پر ایک چوٹ کی طرح لگا۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ ظلم صرف وہ نہیں ہوتا جو زبردستی کیا جائے… بلکہ وہ بھی ہوتا ہے جو خاموشی سے قبول کر لیا جائے۔
اخلاقی سبق
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
خاموشی ہمیشہ نیکی نہیں ہوتی
بعض اوقات شرم اور تحمل انسان کے حقوق چھین لیتے ہیں
انصاف صرف دینے والے کی نہیں، مانگنے والے کی بھی ذمہ داری ہے
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا سیکھنا چاہیے
کیونکہ بعض اوقات
خاموشی، ناانصافی کو اور زیادہ مضبوط بنا دیتی ہے۔
![]()

