(رسول اللہ ﷺ کے علم کا معیار)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اگر انسان خُدا کے ساتھ رہتا اور محمدﷺکے ساتھ رہتا، اُس علمیت کا ادراک کرتا جو خدا نے رسول ﷺ کو عطا فرمایا، اور اس علمیت کوFollow کرتا جو رسولﷺ نے انسانوں کو دی، تو اتنی مشکل میں انسان نہ پڑتا، نہ تسخیر کائنات میں نہ تہہ فی الارض میں، کہ زمین و آسمان کو ایک شخص نے دلیلِ غالب سے قطع فرمایا، ایک شخص تھا آج جسکی حوس کی جاتی ہے، حضرت انسان کی سب سے بڑی منزل، اس منزل کو پُورا کرنے کرنے سے پہلے راکٹ پھینکے جارہے ہیں ،تسخیر ماہتاب کی جارہی ہے، مریخ و زہرہ کا خیال ہے، زُحل پہ پہنچے ، پھرMillions اور Trillions ٹائپ کی Galaxies پہ جانے کا خیال آئے گا، نئےSources آب وگیاہ کے ڈھونڈھے جائیں گے، نئے Sources نیوکلیئر، Fusion & Diffusion کے ڈھونڈھے جائیں گے، مگر ایک شخص اس سے بہت پہلے جب کوئی بھی سائنسی اصطلاح نہ تھی، کوئی سائنسی انفارمیشن نہ تھی کوئی سائنسی آلہ نہ تھا، ایک شخص جو ہے اس کائنات سے ، ساتوں کائنات سے بالا جنت ارض سماوات سے گزرتا ہوا حضور یزداں میں حاضر ہوا، وہ محمد رسولﷺ تھے، اور شب معراج کو یہ واقع پیش آیا۔ غائرانہ نظر بھی ڈال دی جائے تو سارے آسمان و زمین سے گزرتے ہوئے محمد رسول اللہﷺ کی علمیت کا پایہ استحقاق کیا ہوگا؟ کائنات میں اگر آخری غیب تک چلا جائے، اگر علم ہی جواز ہے اگر غیب ہی کسی کی کم علمی کا جواز بنتا ہے، کسی چیز کا نہ آنا ہی کم علمی ہے، نہ جاننا ہی کم علمی ہے تو تمام علوم بھی جمع کر لئے جائیں،تمام علامہ وقت بھی جمع کر لئے جائیں، تمام دانشور اور حکیم جمع کر لئے جائیں، تو ایک بات تو یقینی ہے کہ اس معیار میں علمیت تصور ملاقات یزداں کسی نے قائم نہیں کیا، اور صرف ایک شخص نے ان تمام معیارات کو عبور کرتے ہوئے ایک شخص محض، ایک شخص یہ دعویٰ رکھتا ہے، علمیت اس مقام کا دعویٰ رکھتا ہے، کہ تمام کائناتوں کا غیب صرف اللہ ہے، اور ایک شخص حضور یزداں، Vision of God کا حکم اور دعویٰ رکھتا ہے، اور وہ محمد رسول اللہﷺ ہیں،
پروفیسر احمد رفیق اختر
#AllahisTopPriority
#profahmadrafiqueakhtar
#QuranAndScience
#صلوا_على_النبي_محمدﷺ
![]()

