کہانی ۔۔۔ فارسی ادب سے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے محل کے صدر دروازے پر ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔ بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا تو ایک دوسرے دربان کی نسبت وہ بہت بوڑھا لگ رہا تھا، اور ساتھ ہی بہت کمزور بھی۔ بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اس عمر میں اس نے اسے اس عہدے پر کیوں لگا رکھا ہے، لیکن پھر وہ اس کے پاس سے گزر گیا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: “میاں! سردی نہیں لگ رہی؟” دربان نے جواب دیا: “بہت لگتی ہے حضور! مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔”
بادشاہ کے دل میں رحم آیا۔ اس نے کہا: “میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔”
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کیا اور بہت تشکّر کا اظہار کیا، لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔ محل کی گرمیوں، خوشنما ماحول اور دربار کی مصروفیات نے اسے اپنے وعدے سے غافل کر دیا۔
صبح جب بادشاہ اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ دروازے پر اُس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش پڑی ہے۔ قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی تھی:
“بادشاہ سلامت! میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔ سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ امیدیں کمزور کر دیتی ہیں۔”
بادشاہ نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے اپنی غفلت پر بہت پچھتاوا ہوا، لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔
اخلاقی سبق:
کسی سے وعدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنا ضروری ہے۔ امیدیں بانٹنا آسان ہے، لیکن ان کا ٹوٹنا کسی کی جان بھی لے سکتا ہے۔
حوالہ: یہ کہانی فارسی ادب کی ایک مشہور حکایت ہے جو اردو میں “Short Story of Persian King In URDU” کے عنوان سے موجود ہے ۔
![]()

