Daily Roshni News

خوش اخلاقی  روح سے قربت کا اظہار ہے۔۔۔۔قسط نمبر2

خوش اخلاقی  روح سے قربت کا اظہار ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خوش اخلاقی  روح سے قربت کا اظہار ہے) کی عطا نہیں بلکہ اپنے زور بازو کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ وہیہ نہیں سمجھ پاتے کہ خدا نے انہیں جو وسائل عطا کیے ہیں اس میں کس کا کتنا حق ہے ؟ کتنے ہی لوگ ایسے مل جائیں گے جو اپنے بزنس پارٹنرز سے نہایت خوش اخلاقی سے ملتے ہیں لیکن اپنے غریب رشتہ دار کو اپنے شاندار بنگلے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ خالق کا شکر بندے کے اندر ذمے داری کا احساس اور محاسبہ کا تصور پیدا کرتا ہے۔ یہی احساس آدمی کو راغب کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارے۔ اس کے دل میں یہ خیال نقش ہو جاتا ہے کہ اگر اس نے اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا نہ کیا تو اسے اس کا حساب دینا ہو گا۔کسی بد اخلاقی پر وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں خود کو غیر مطمئن پاتا ہے۔ اس کے بر عکس ایسا انسان جو خود کو ہر قسم کی جوابدہی سے خود کو آزاد خیال کر لیتا ہے وہ انسانوں کی بستی میں خوش پوش حیوان کی طرح رہنے لگتا ہے۔ اس کا پورا کردار غیر ذمہ دار بن کر رہ جاتا ہے۔جدید دور کے مہذب انسانوں کی اکثریت شاید اپنے آپ کو ہی سب کچھ سمجھنے لگی ہے، اکثر لوگ اس نفسیات میں جی رہے ہیں کہ ” میں جو چاہوں، کروں۔ میں اپنی زندگی کے ہر فیصلہ پر اختیار رکھتا ہوں۔“ انسان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قدرت نے اسے اشرف المخلوق بنایا ہے۔ جنگل کے حیوان اپنی جبلت Instinct پر قائم رہتے ہیں۔ ان کی جبلت میں صحیح اور غلط یا حق و باطل کا فرق موجود نہیں۔اس لیے وہ اس قسم کے احساسات سے عاری ہو کر زندگی گزارتے ہیں لیکن انسان پیدائشی طور پر صحیح اور غلط یا حق و باطل میں فرق رکھنے کا احساس لے کر پیدا ہوا ہے۔

اس لیے آدمی کے اندر جب غلطی کا احساس پیداہوتا ہے تو وہ اس کے اندر اپنی اصلاح Self Correction کا جذبہ ابھارتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ یقین اور اعتماد کا سرچشمہ آدمی کا یہ احساس ہے کہ میں سچائی کے راستے پر ہوں میں اپنے ضمیر کے مطابق چل رہا ہوں میں نے فطرت کے نظام سے بغاوت نہیں کی۔یہ احساس انسان کے اندر جذبہ طمانیت پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان پر خلوص دل کے ساتھ خوش اخلاق بن جاتا ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:لوگوں سے اچھی طرح خوش اخلاقی – بات کرو۔ [ سورہ بقرہ آیت 83]eایک میٹھا بول اور در گزر کر دینا اس خیرات سے کہیں زیادہ بہتر ہے جس کے پیچھے لوگوں کو اذیت دی جارہیہو۔ [ سورۂ بقرہ: آیت 263]ہم سب جانتے ہیں کہ نرم لہجے میں خوش اخلاقی کے ساتھ بات کرنے سے مخاطب پر اچھا تاثر پڑتا ہے۔ خوش اخلاقی سے بات کرنا اجنبی افراد کے درمیان بھی قربت کا سبب بن سکتا ہے۔اگر قربت نہ ہو پائے تو بھی اچھی طرح بات کرنا کم از کم کسی منفی سوچ کا سبب تو نہیں بنے گا۔ تلخ لیجے میں یا دوسروں کو ناگوار انداز میں بات کرنا غلط فہمی کو جنم دینے اور تعلقات میں خرابیاں ڈال دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے: خوش اخلاقی پروان چڑھتی ہے“۔[ سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ]

قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ :تصوف نویر باطن ہے۔ ایسا خالص ضمیرجس میں قطعی کوئی آلائش نہ ہو ۔جب انسان کا ضمیر مطمئن اور ہر قسم کی آلائشسے پاک ہو تو ایسا بندہ اپنی روح سے قریب ہوتا ہے اور ایسے ہی بندے حقیقی معنوں میں خوش اخلاق کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔انہی روشن چہروں کو دیکھ کر لوگوں کے دل ان کی جانب کھنچنے لگتے ہیں۔ لوگ ان کی قربت میں بیٹھ کر سکون اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ خوش اخلاقی انسان کے مزاج کا حصہ جب ہی بن سکتی ہے جب اس کے باطن میں لطافتیں ہوں۔حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں، خوش خلقی اور نرم مزاجی کو پرکھنے کا اصل میدان گھریلو زندگی ہے۔ گھر والوں سے ہر وقت واسطہ رہتا ہے اور گھر کی بے تکلف زندگی میں مزاج اور اخلاق کا ہر رخ سامنے آجاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہی مومن اپنے ایمان میں کامل ہے جو گھر والوں کے ساتھ خوش اخلاقی، محند و پیشانی اور مہربانی کا برتاؤ رکھے۔ گھر والوں کی دل جوئی کرے اور پیار و محبتسے پیش آئے “ ۔ (تجلیات ]ہر انسان سکون پسند کرتا ہے ۔ خوش رہنا چاہتا ہے۔ کوئی بھی بے سکونی پسند نہیں کرتا۔ لہذا خود بھی خوش رہنے اور دوسروں سے بھی خوش اخلاقی سے پیش آئے۔جب ہم خود خوش نہیں ہوں گے تو دوسروں کے ساتھ کیسے خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے۔سلسلہ عظیمیہ کے اغراض و مقاصد کا چھٹا آخری نکتہ یہی ہے ” تمام نوع انسانی کو اپنی برادری سمجھنا۔

بلا تفریق مذہب و ملت ہر شخص کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا اور حتی المقدور ان کے ساتھ ہمدردی کرنا – [تذکرہ قلندر بابا اولیاء، صفحہ 170] سلسلہ عظیمیہ کا پیغام ہے اور خواہش ہے کہ ہرفرد خوش رہے۔خوش رہنے کا فارمولا یہ ہے کہ جو اللہ تعالٰی نے ہمیں عطا کر دیا ہے ہم اس پر شکر گزار ہوں ۔ اس عطا کو بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ جو چیزیں ہمیں حاصل نہیں ہیں ان پر ہم شاکی نہ ہوں ، البتہ ان کے حصول کے لئے کوشش جاری رکھیں۔آپ کے پاس ایک بہت قیمتی اور خوبصورت گھڑی ہے جو صحیح ٹائم بناتی ہے آپ نے اسے الماری میں بند کر کے رکھ دیا تو وہ گھڑی آپ کو خوشی نہیں دے گی لیکن جب وہی گھڑی آپ ہاتھ پر باندھ لیں گے تو جتنی بار آپ اسے دیکھیں گے گھڑی کی خوب صورتی اور کار کردگی آپ کو خوشی دے گی۔ اگر ہم نے اپنے مزاج میں خوشی کو داخل کر لیا تو ہم دوسرے لوگوں سے بھی مل کر خوش ہوں گے ان سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے۔ لوگوں کے ساتھ ہم ہمدردی اس وقت کرتے ہیں جب ہم خود اپنے ہمدرد ہوں۔ بعض کے سامنے اپنی ذات کے علاوہ کوئی چیز اہم نہیں ہوتی اپنی ذات کے علاوہ کہ دوسرے کی ذات کو اہمیت نہ دینا اور نظر انداز کرنا انا کے خول میں بند رہنے کی علامت ہے۔ جو انسان بزعم خود اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتا ہے اس کے اندر کبر ہے، تکبر ہے، غرور ہے یاوہ نفسیاتی مریض ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ و مسکراہٹ بھی ایک صدقہ ہے۔“ [ ترندی]

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری2026

Loading