Daily Roshni News

دعوت اسلامی آسٹریا کے زیر اہتمام عید میلاد النبیﷺ کا جلوس و عظیم الشان روح پرور اجتماع*۔

دعوت اسلامی آسٹریا کے زیر اہتمام عید میلاد النبیﷺ کا جلوس و عظیم الشان روح پرور اجتماع*۔

آسٹریا ( ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔رپورٹ۔۔۔ محمد عامر صدیق) دعوت اسلامی آسٹریا کے زیر اہتمام عید میلاد النبیﷺ کا جلوس فیضان مدینہ ویانا 10 ڈسٹرکٹ سے نکالا گیا۔ جو مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا واپس فیضان مدینہ آکر ختم ہوا۔  جلوس میں آسٹریا بھر کے چھوٹے بڑے شہروں سے نوجوانوں بزرگوں اور بچوں نے شرکت کی۔

جلوس کی قیادت آسٹریا کے نگران ارشد عطاری کابینات کے نگراں عبدالحبیب عطاری،عثمان عطاری،زاہد عطاری، علماے کرام، مفتیان کرام نے کی۔ جلوس میلاد میں کثیر تعداد میں حفاظ کرام، نعت خواں،کی تعداد میں عاشقان رسولﷺ اور مدنی منوں نے اپنے ہاتھوں میں جھنڈے اٹھاے ہوئے تھے۔ جلوس میں مرحبا یا مصطفیٰ، آقا کی آمد مرحبا، حضور کی آمد مرحبا، مرحبا یا مصطفیٰ اور ﷺ کی آمد کے نعرے فضائوں میں گونجتے رہے جلوس بعد نماز ظہر شروع ہوا۔ جلوس کے شرکا نے باجماعت نماز ادا کی۔ جلوس کے موقع پر پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے جلوس دعوت اسلامی سنٹر فیضان مدینہ 10ڈسٹرکٹ ویانا سے شروع ہو کر دس ڈسٹرکٹ کی مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا کئی کلومیٹر سفر طے کرنے کے بعد واپس فیضان مدینہ میں اختتام پزیر ہوا۔ جلوس کے اختتام پر نگران آسٹریا ارشد عطاری نے اجتماعی دعائیہ کلمات میں شرکاء کیلئے امت مسلمہ اور پاکستان کیلئے خصوصی دعائیں کیں۔

جلوس کے اخر میں دعائیہ کلمات کے بعد فیضانِ مدینہ میں ربیع الاول کے سلسلے میں ایک عظیم الشان روح پرور اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں اراکین شوریٰ، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عاشقان رسول شریک ہوئے۔ اجتماع کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ جس کے بعد حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ نعت پیش کی گئی۔ اجتماع میں شریک عاشقان رسول کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ سبز پرچموں کی بہار، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ کی صدائیں اور محبت رسول ﷺ سے لبریز ماحول نے ایک روحانی منظر پیش کیا۔ نعت خوانوں نے بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے نعتیہ کلام پڑھے جس سے اجتماع میں سماں باندھ گیا۔

 نگران آسٹریا ارشد عطاری نے اخلاق مصطفیٰ ﷺ کے موضوع پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا اخلاق بہترین اور بے مثال تھا،حضور نبی پاک ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی ایسا حسن سلوک فرمایا کہ وہی دشمن بعد میں جان نثار صحابہ بن گئے، فتحِ مکہ کے موقع پر عام معافی، طائف میں ستائے جانے کے باوجود دعا دینا، غلاموں، یتیموں اور عام لوگوں سے شفقت و نرمی، یہ سب وہ روشن مثالیں ہیں جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں.

 انہوں نے اجتماع میں شریک عاشقان رسول کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں صرف میلاد منانے تک محدود نہیں رہنا بلکہ میلاد والے نبی ﷺکے اخلاق کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔  انہوں نے عاشقان رسول کو نمازوں کی پابندی، علم دین کے حصول کیلئے قافلوں میں سفر کرنے اور نیکی کے دیگر کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب بھی دی۔ اس موقع پر شرکائے اجتماع نے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اپنی زندگیاں سنت رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے کا عزم کیا، یہ روح پرور اجتماع صلوٰۃ و سلام اور دعائے خیر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں امت مسلمہ کی خیر و بھلائی، پاکستان کی سلامتی اور دین اسلام کی سربلندی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ بعداز لنگر تقسیم کیا گیا۔

Loading