Daily Roshni News

دل کو کھلا اور صاف رکھو ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

دل کو کھلا اور صاف رکھو

انتخاب ۔۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دل کو کھلا اور صاف رکھو ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی)کہتے ہیں کہ انسان نے اپنے آپ کو بڑی مشکل میں ڈال لیا ہے۔ اس نے آنکھیں کھول لیں اور دنیا کو دیکھنے لگا، کان کھول لیے اور شور سننے لگا، منہ کھول لیا اور بے فائدہ باتیں کرنے لگا — اور ان سب مشغولیتوں میں وہ ایک دروازہ بھول گیا جو ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے تھا۔ وہ دروازہ جسے اللہ نے خود اپنا گھر کہا۔

> **قَلْبُ الْمُؤْمِنِ عَرْشُ الرَّحْمٰن**

> *”مومن کا دل رحمٰن کا عرش ہے۔”*

آنکھ بند کرو — تاکہ اصل نظر آئے

ظاہر کی آنکھ صرف رنگ و روپ دیکھتی ہے، چہرے پڑھتی ہے، دنیا کے نقش و نگار میں کھو جاتی ہے۔ لیکن جب یہ آنکھ بند ہوتی ہے تو ایک اور آنکھ بیدار ہوتی ہے — دل کی آنکھ، جسے صوفیاء “بصیرت” کہتے ہیں۔

حضرت ابن عطاءاللہ اسکندری رحمۃ اللہ علیہ اپنے حِکَم میں فرماتے ہیں:

> *”نورُ البصیرۃِ یُطفِئُہ الاشتغالُ بالخلق”*

> “بصیرت کا نور، مخلوق میں مشغولیت سے بجھ جاتا ہے۔”

جو شخص دنیا کو دیکھتا رہتا ہے، حق کو نہیں دیکھ پاتا۔ مولانا رومؔ نے اسی بات کو یوں کہا:

> *چشم را بر بند تا بینی عجب*

> *آنچہ می بینی بہ چشم، آن نیست رب*

“آنکھ بند کرو تاکہ عجب چیز دیکھو — جو آنکھ سے نظر آتا ہے وہ رب نہیں ہے۔”

 کان بند کرو — تاکہ اصل آواز سنائی دے

دنیا کا شور بہت ہے۔ ہر طرف الفاظ ہیں، رائیں ہیں، فتوے ہیں، تعریفیں ہیں، طعنے ہیں۔ جو ان سب میں کان لگا کر بیٹھا، وہ کبھی وہ آواز نہ سن سکا جو بغیر الفاظ کے آتی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> ﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا﴾

> *”تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ ان کے دل ہوتے جن سے وہ سمجھتے؟”* — الحج: ٤٦

یعنی عقل کا اصل مرکز دماغ نہیں، دل ہے۔ اور دل تبھی سنتا ہے جب باہر کا شور تھم جائے۔

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ خلوت — یعنی تنہائی اور خاموشی — سالک کی سب سے بڑی استاد ہے۔ جو خاموش ہوا، اس نے سنا۔ جو سنتا رہا شور، وہ محروم رہا۔

 منہ بند کرو — تاکہ اصل کلام نکلے

زبان بڑی خطرناک چیز ہے۔ یہ پل بھر میں دل کا سارا نور بہا دیتی ہے۔ صوفیاء کی روایت میں **”صمت”** — یعنی خاموشی — کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> “مَن صَمَتَ نَجَا”

> *”جو خاموش رہا، وہ نجات پا گیا۔”*

اور جب زبان کھلے، تو دل کی گہرائی سے کھلے — ریاکاری سے نہیں، حساب سے نہیں، دکھاوے سے نہیں۔ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ **فصوص الحکم** میں لکھتے ہیں کہ جو کلام دل سے نکلے وہ دلوں میں اترتا ہے، اور جو زبان سے نکلے وہ کانوں میں ہی رہتا ہے۔

 دل کو کھلا رکھو — کہ یہی اصل راستہ ہے

اب آتی ہے وہ بات جس پر سب کچھ ٹکا ہے۔

آنکھ بند، کان بند، منہ بند — یہ سب تیاری ہے اس لمحے کی جب دل پوری طرح کھل جائے۔ جب نہ باہر کی بصارت حائل ہو، نہ شور، نہ بے فائدہ کلام — تو دل اپنے اصل رب کی طرف پلٹتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> ﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾

> *”خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔”* — الرعد: ٢٨

دل کا کھلنا محبت ہے، توجہ ہے، حضوری ہے۔ یہ وہ حال ہے جسے صوفیاء **”فنا”** کے قریب سمجھتے ہیں — کہ “میں” مٹ جائے اور صرف “وہ” رہے۔

رومؔ نے کہا:

> *دل بہ دل راہیست از بہرِ خدا*

> *دل درِ دل را بکوب و بازیاب*

“دل سے دل تک خدا کا راستہ ہے — دل کا دروازہ کھٹکھٹاؤ اور پا لو۔”

دنیا نے انسان کو اُلٹا سکھایا — کہ جو بولے وہ عقلمند، جو دیکھے وہ ہوشیار، جو سنے وہ باخبر۔ لیکن حق کا راستہ اس کے برعکس ہے۔

جو چاہتے ہو — مانگنا چھوڑو مانگنے کے انداز سے اور دل کا دروازہ کھولو۔

جو جاننا چاہتے ہو — کتابیں بند کرو اور دل کی کتاب پڑھو۔

جو کہنا چاہتے ہو — الفاظ سنبھالو اور دل بولنے دو۔

کیونکہ آخر میں اللہ نے وعدہ کیا ہے:

> ﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ﴾

> *”اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔”* — الحدید: ٤

بس دل کا دروازہ کھلا رکھو۔ وہ پہلے سے وہاں ہے۔

“دل کو آئینہ بناؤ — کہ آئینہ تبھی دکھاتا ہے جب صاف ہو۔”

Loading