ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دنیا میں دکھ تکلیف کیوں ہیں ؟۔۔انتخاب ۔۔۔ میاں عاصم محمود) ایک بچہ بیمار کیوں پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا؟
انسان اچانک اپنے کسی پیارے کو ایک ہی لمحے میں کیوں کھو دیتا ہے؟
ایسا حادثہ کیوں پیش آتا ہے جو پورے خاندان کی زندگی بدل کر رکھ دیتا ہے؟
کچھ لوگ نعمتوں میں کیوں جیتے ہیں، جبکہ دوسرے درد کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں؟
۔ قرآنِ حکیم نے سوال کرنے سے منع نہیں کیا،
بلکہ ہمیں یہ سکھایا ہے کہ سوال کیسے کیا جائے، عقل کی حد کہاں ختم ہوتی ہے، اور غیب کا دائرہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔
قرآن ہم سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ہم زندگی میں رونما ہونے والے ہر واقعے کی تفصیلی حکمت کو جانیں۔
۔دوسری بات وہ یہ کہ ہم اللہ کی ان صفات کو پہچانیں جن کی بنیاد پر ہم اس کی تقدیروں کو سمجھتے ہیں۔
وہ سبحانَہُ علیم ہے، حکیم ہے، رحیم ہے، اور عادل ہے؛ وہ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔
یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن پر ایک مومن زندگی کے بارے میں اپنا نقطہ نظر قائم کرتا ہے۔
رہا کسی واقعے یا حادثے کی تفصیلی حکمت کا معاملہ،
تو اسے اللہ نے اپنے علم کے دائرے میں محفوظ رکھا ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
﴿وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾
(اور تمہیں علم میں سے نہیں دیا گیا مگر بہت تھوڑا)
یہ آیت عقل کی اہمیت کو کم نہیں کرتی، بلکہ اس کی حدبندی کرتی ہے۔ عقل ایک عظیم نعمت ہے، لیکن یہ علمِ مطلق نہیں ہے۔
ی
اسی لیے قرآنِ حکیم ہمیں اللہ کی تقدیروں کی تعبیر میں جرات سکھانے کے بجائے غیب کے سامنے عاجزی و تواضع کی تربیت دیتا ہے۔
اس کی سب سے بہترین مثال سورۃ الکہف میں اس لڑکے (غلام) کا واقعہ ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک لڑکے کو قتل کر دیا گیا،
تو ظاہری طور پر انہیں صرف ایک بے گناہ بچہ نظر آیا، چنانچہ انہوں نے اعتراض کرتے ہوئے فرمایا:
(اور رہا وہ لڑکا، تو اس کے ماں باپ مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا – سو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار انہیں اس کے بدلے ایسا بچہ دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور محبت میں اس سے زیادہ قریب ہو)
یہ واقعہ ہمیں ہر بیمار بچے کی وجہ، ہر کمسن بچے کی وفات کا سبب، یا ہر مصیبت کی وجہ نہیں بتاتا۔
اگر اللہ چاہتا کہ ہم اسے ہر بات پر لاگو کریں، تو صراحت فرما دیتا۔
لیکن یہ واقعہ ہمیں اس سے کہیں زیادہ گہری حقیقت سکھاتا ہے:
انسان حادثہ تو دیکھ سکتا ہے، لیکن اس کی حکمت نہیں دیکھ سکتا۔
وہ شروعات تو دیکھتا ہے، لیکن انجام نہیں دیکھ سکتا۔
وہ درد تو دیکھتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی رحمت نہیں دیکھ سکتا۔
اسی لیے بندۂ صالح نے سفر کے آغاز میں ہی حضرت موسیٰ علیہما الصلاة والسلام سے فرمایا تھا:
(جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے)
اور سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾
(اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی کے ذریعہ آزماتے ہیں)
۔ 1….شر بھی آزمائش ہے۔
2…خیر بھی آزمائش ہے۔
3….صحت آزمائش ہے۔
4….بیماری آزمائش ہے۔
5…طاقت آزمائش ہے۔
6…کمزوری آزمائش ہے۔
7…امیری آزمائش ہے۔
8…اور غریبی بھی آزمائش ہے۔
لیکن اصل فرق اس شخص میں ہے جو آزمائش کو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ دیکھتا ہے، اور اس شخص میں جو اسے راستے کا اختتام سمجھتا ہے۔
یہاں قرآنِ حکیم کا حسن اور جمال ظاہر ہوتا ہے۔
وہ انسان سے یہ وعدہ نہیں کرتا کہ وہ ہر چیز کو سمجھ جائے گا۔
نہ ہی یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ درد کے بغیر زندگی گزارے گا۔
اور نہ ہی یہ وعدہ کرتا ہے کہ دنیا اپنی ہر معاملے میں بالکل عادلانہ ہوگی۔
بلکہ وہ اس سے اس سے بھی بڑی بات کا وعدہ کرتا ہے:
یہ کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
اس کی رحمت ہمارے ادراک اور سوچ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
اس کی حکمت کو ہماری محدود عقلیں باطل نہیں کر سکتیں۔
اور عدلِ الٰہی صرف اس دنیاوی زندگی کی حدوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس دن مکمل ہوگا جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
اگر دنیا ہی وجود کا آخری نقطہ ہوتی، تو بہت سے سوالات بغیر جواب کے رہ جاتے۔
لیکن قرآنِ حکیم دنیا کو ایک طویل راستے کا صرف ایک مرحلہ بناتا ہے،
اور آخرت کو عدل کے کامل ہونے، حقائق کے ظاہر ہونے، اور آنکھوں سے اوجھل رازوں کے کھلنے کا مقام قرار دیتا ہے۔
اسی لیے، ایک مومن ہر تقدیر کے موقع پر یہ نہیں کہتا: "میں حکمت سمجھ گیا ہوں”،
اور نہ ہی یہ کہتا ہے: "کوئی حکمت ہے ہی نہیں”۔
بلکہ وہ ایک عالم کی عاجزی اور معرفت والے کے ایمان کے ساتھ کہتا ہے:
حکمت مجھ سے پوشیدہ ہو سکتی ہے، لیکن اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
میری عقل احاطہ کرنے سے قاصر ہو سکتی ہے،
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حکمت موجود ہی نہیں ہے۔
اسی لیے سب سے کامل ترین موقف:
ادعا اور دعویٰ کرنا نہیں، بلکہ عاجزی و تواضع اختیار کرنا ہے۔
ہر تقدیر کی تشریح کرنا نہیں، بلکہ اللہ کے عدل پر ایمان لانا اور اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔
چنانچہ اگر ہم کسی بیمار کو دیکھیں تو اس پر رحم کریں۔
اگر کسی یتیم کو دیکھیں تو اس کی کفالت کریں۔
اور اگر ہم پر خود کوئی مصیبت نازل ہو تو صبر کریں، اسباب کو اختیار کریں، اور اللہ سے عافیت کا سوال کریں۔
یہی وہ راستہ ہے جو قرآنِ حکیم نے ہمارے لیے روشن کیا ہے۔
رہا غیب کا معاملہ، تو اسے اللہ نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے تاکہ انسان بندہ (عبد) ہی رہے، اور اللہ ہی علیم و حکیم رہے۔
اے ہمارے رب! ہمارے ساتھ خیر، بھلائی اور عافیت کا معاملہ فرما، ہمیں تمام مصائب، بلاؤں اور شرور سے اپنی امان میں رکھ اور ہماری خطاؤں اور گناہوں کو معاف فرما۔ آمین یا رب العالمین!”