Daily Roshni News

🌼جب موت دشمن نہیں، انسان کا آخری سامع بن جائے🌼

🌼جب موت دشمن نہیں، انسان کا آخری سامع بن جائے🌼

The Last Friend (Death and the Artist) — Zygmunt Andrychiewicz (1901)

آرٹ کبھی کبھی نفسیات سے زیادہ سچ بولتا ہے

تاریخ میں بعض پینٹنگز ایسی ہوتی ہیں جن کا مقصد خوبصورتی پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو اس کے اپنے وجود کے سامنے لا کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ پولش مصور Zygmunt Andrychiewicz کی 1901 میں تخلیق کردہ پینٹنگ The Last Friend (Death and the Artist) انہی چند شاہکاروں میں شمار ہوتی ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک مرنے والے فنکار کی تصویر معلوم ہوتی ہے، لیکن چند لمحے اس کے ساتھ گزارنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ مصور دراصل موت کی تصویر نہیں بنا رہا، بلکہ زندگی کا احتساب کر رہا ہے۔

ایک کمزور فنکار بستر پر اپنی آخری سانسوں کے قریب لیٹا ہے۔ اس کے گرد ادھورے کینوس، رنگ اور کاغذات بکھرے ہوئے ہیں۔ کمرہ خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں ایک عجیب وقار ہے۔ سب سے حیران کن منظر یہ ہے کہ اس کے پاس بیٹھا وجود موت ہے، لیکن اس کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں، ایک وائلن ہے۔ وہ فنکار کو خوفزدہ کرنے نہیں آئی، بلکہ اس کی زندگی کے اختتام کو ایک دھن میں ڈھال رہی ہے۔ شاید اسی لیے اس پینٹنگ کا نام The Last Friend رکھا گیا؛ گویا جب پوری دنیا چلی جائے، تب بھی موت انسان کو تنہا نہیں چھوڑتی۔

🔸وجودی نفسیات کا سب سے بنیادی سوال🔸

وجودی نفسیات (Existential Psychology) انسان سے ایک ایسا سوال پوچھتی ہے جس سے ہم پوری زندگی بچنے کی کوشش کرتے ہیں: “اگر تم جانتے کہ تمہاری زندگی محدود ہے، تو کیا تم آج بھی یہی زندگی جیتے؟”

زیادہ تر لوگ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ وہ زندگی گزار ضرور رہے ہیں، مگر شاید اپنی مرضی کی نہیں۔ وہ دوسروں کی توقعات پوری کر رہے ہیں، سماجی کردار نبھا رہے ہیں، کامیابیاں جمع کر رہے ہیں، مگر ان سب کے درمیان یہ سوال کہیں گم ہو جاتا ہے کہ “میں آخر کس مقصد کے لیے زندہ ہوں؟”

یہی وہ مقام ہے جہاں یہ پینٹنگ ایک عام منظر سے بڑھ کر انسانی نفسیات کی گہری علامت بن جاتی ہے۔ بستر پر لیٹا ہوا فنکار صرف موت کا انتظار نہیں کر رہا، بلکہ اپنی زندگی کے معنی کے ساتھ آخری ملاقات کر رہا ہے۔

🔸انسان کو موت سے زیادہ کس چیز کا خوف ہوتا ہے؟🔸

جدید نفسیات میں Terror Management Theory ایک نہایت اہم نظریہ پیش کرتی ہے۔ اس کے مطابق انسان کو صرف مرنے کا خوف نہیں ہوتا، بلکہ اس بات کا خوف زیادہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی بے معنی ثابت نہ ہو جائے۔ یہی خوف اسے ایسی چیزیں تخلیق کرنے پر آمادہ کرتا ہے جو اس کے بعد بھی باقی رہ سکیں؛ کتابیں، فن پارے، سائنسی دریافتیں، عمارتیں، خاندان، یا کوئی ایسا کردار جسے دنیا اس کی غیر موجودگی میں بھی یاد رکھے۔

اسی نظریے کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس پینٹنگ کا فنکار اپنی موت سے خوفزدہ نظر نہیں آتا۔ اس کے چہرے پر اضطراب کے بجائے تھکن ہے، جیسے وہ ایک طویل سفر کے بعد آرام کرنے جا رہا ہو۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وہ مرنے والا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس نے وہ زندگی جی جسے وہ جینا چاہتا تھا؟

یہ سوال ہر اس انسان کے لیے ہے جو اپنی خواہشات کو مسلسل مؤخر کرتا رہا، جو اپنی اصل شناخت کے بجائے دوسروں کی توقعات کے مطابق زندگی گزارتا رہا، اور جس نے اپنے وجود کی قیمت دوسروں کی منظوری سے طے کی۔

🔸معنی کے بغیر زندگی کیوں بوجھ بن جاتی ہے؟🔸

ماہرِ نفسیات Viktor Frankl نے نازی کیمپوں میں قید رہنے کے باوجود ایک حیران کن نتیجہ اخذ کیا۔ اس نے لکھا کہ انسان ہر تکلیف برداشت کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے اپنی زندگی کا کوئی مقصد معلوم ہو۔ اس مشاہدے کی بنیاد پر اس نے Logotherapy کی بنیاد رکھی، جس کا مرکزی تصور یہ ہے کہ انسان کی سب سے بنیادی نفسیاتی ضرورت خوشی نہیں، بلکہ معنی (Meaning) ہے۔

یہ پینٹنگ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فنکار کے گرد موجود ادھورے کینوس صرف نامکمل تصویریں نہیں، بلکہ زندگی کے وہ سوال ہیں جو شاید ہر انسان اپنے آخری دن اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ مرنے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے کتنی دولت کمائی، بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ کیا ہم نے وہ زندگی جی جس پر ہمیں فخر ہو سکتا تھا۔

🔸تھراپی ہمیشہ بیماری کا علاج نہیں کرتی، کبھی کبھی زندگی کا رخ بدلتی ہے🔸

جب کوئی انسان مسلسل بے مقصدی، اندرونی خلا، یا وجودی بے چینی (Existential Anxiety) کا شکار ہو، تو مسئلہ صرف اداسی نہیں ہوتا۔ ایسے افراد اکثر اپنی زندگی کے بنیادی معنی سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ کام کرتے ہیں، تعلقات نبھاتے ہیں، ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں، مگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندر کچھ خاموشی سے مر رہا ہے۔

ایسے حالات میں Existential Therapy اور Logotherapy انسان کو تیار جواب نہیں دیتیں، بلکہ اسے اپنے سوالوں کے ساتھ ایمانداری سے بیٹھنا سکھاتی ہیں۔ تھراپی کا مقصد یہ نہیں کہ انسان کو ہر حال میں خوش کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ذمہ داری قبول کرے اور اپنے وجود کے لیے ایسا مقصد دریافت کرے جو حالات سے بڑا ہو۔

اس پینٹنگ کو جتنا زیادہ دیکھا جائے، اتنا ہی واضح ہوتا ہے کہ مصور نے موت کو خوفناک نہیں بنایا۔ خوفناک چیز موت نہیں، بلکہ ایک ایسی زندگی ہے جو اپنے حقیقی مقصد سے خالی گزر جائے۔ وائلن بجاتی ہوئی موت شاید ہمیں یہی یاد دلانے آئی ہے کہ زندگی کی طوالت کبھی بھی اس کی قدر کا معیار نہیں رہی۔ اصل سوال ہمیشہ یہی رہے گا کہ ہم نے اپنے محدود وقت کو کس معنی کے ساتھ جیا۔

شاید اسی لیے The Last Friend آرٹ کی تاریخ میں موت کی تصویر نہیں، بلکہ زندگی کا سب سے خاموش اور سب سے ایماندار آئینہ ہے۔ جب انسان اس آئینے میں دیکھتا ہے تو اسے اپنا انجام نہیں، اپنی موجودہ زندگی دکھائی دیتی ہے۔ اور شاید یہی کسی عظیم فن پارے کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سعدی

Psychoremedy

Loading