Daily Roshni News

ہے ہجر درمیاں جاناں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )احسن، میرا آپ سے افیئر نہیں تھا۔ اب ایسے بھی نہ کہیں کہ لو میرج کے لیے افیئر چلتا ہے۔آپ نے پرپوز کیا، میں نے تو اقرار تک نہیں کیا تھا۔ آپ نے رشتہ بھیج دیا۔ شادی ہوگئی۔

All Rights Reserved — Author Sadia Abid

✨ آج کی قسط جذبات، آزمائش اور رشتوں کی خوبصورتی سے بھرپور ہے۔

احسن اور منیٰ (AhMin) میرے ناول کے وہ کردار ہیں جو مرکزی کرداروں کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ اگرچہ ان کی کہانی کم لکھی گئی ہے، لیکن جتنی بھی لکھی ہے، دل سے لکھی ہے۔

شاید اس قسط کے جذبات وہی پوری طرح محسوس کر سکیں گے جنہوں نے کبھی اپنے ساتھی کو درد میں سہارا دیا ہو، یا خود مشکل وقت میں اپنے جیون ساتھی کا سہارا پایا ہو۔

🤍 یہ قسط میرے دل کے بہت قریب ہے۔

پڑھیے… اور ان رشتوں کو صرف پڑھیے نہیں، بلکہ محسوس کیجیے۔

❤️ لائک | 💬 کمنٹ | 📤 شیئر | 🔖 سیو

Happy Reading!

ہے ہجر درمیاں جاناں

سعدیہ عابد

قسط 200

“اسلام علیکم۔”احسن ہاسپٹل پہنچا تھا اور بیوی پر سلامتی بھیجی تھی اور جھک کر اس کا ماتھا چوما تھا۔

“فیور ابھی بھی ہے، ڈاکٹر نے کیا بتایا؟”احسن نے سوال کیا تھا اور وہ احسن کا ہاتھ تھام گئی تھی۔

“احسن! کیا ہوا ہے، پریشان لگ رہے ہیں۔”منیٰ اسے دیکھتے ہی بولی تھی۔

“منیٰ میں نے ڈسچارج شیٹ ریڈی کروا لی ہے۔ ہم گھر جا رہے ہیں۔”احسن نے سوال کے جواب میں بتایا تھا۔

“اتنی اچانک سے، سب ٹھیک ہے احسن؟”منیٰ پریشان ہوئی تھی۔

“سب خیریت ہے۔ گھر چل کر بتاؤں گا سب۔”احسن بدقت تمام مسکرایا۔

“نشاط ٹھیک ہے، احسن؟”منیٰ نے ہاتھ پر گرفت بڑھائی تھی۔

احسن نے اسے دیکھا تھا جو اس کے چہرے سے ہی تکلیف کی وجہ تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے دیکھتے ہی منیٰ مسکرائی۔

“ہاں! نشاط کی ہی بات ہے، ٹھیک ہے نشاط، تم پریشان نہ ہو۔ گھر چل رہے ہیں۔ وہیں جا کر بات کریں گے۔”احسن نے کہا تھا اور ہاتھ چھڑا کر اس نے اسے اٹھنے میں مدد کی تھی اور اسے عبایا پہنایا تھا۔

“نشاط کی کیا بات ہے، پلیز کچھ تو بتائیں۔”احسن کی غیر معمولی سنجیدگی منیٰ کو مضطرب کر رہی تھی۔

“منیٰ۔”احسن نے اس کی طرف دیکھ کر پکارا تھا اور وہ “سوری” کہہ گئی تھی اور دوبارہ کوئی سوال نہیں کیا تھا کہ اس تنبیہہ پکار کی ضرورت شاز و نادر ہی پڑتی تھی مگر اس کے بعد منیٰ آگے سے کچھ کہتی نہیں تھی۔

احسن نے اس کو سلیپر پہنائی تھی اور سارا سامان سمیٹا تھا۔

“ڈاکٹر کی مشاورت سے ہی ڈسچارج کروا رہا ہوں۔ تم اور میرا بیٹا بہت اہم ہو، مگر اس وقت میری بہن کو میری بہت ضرورت ہے، میرا دھیان تمھاری طرف رہتا اس لیے ساتھ لے جا رہا ہوں۔ لیکن، تمھیں رسک میں ڈال کر ہرگز نہیں، ڈاکٹر نے کہا ہے تم گھر جا سکتی ہو۔”سارا سامان سمیٹنے کے بعد احسن نے کہا تھا۔

“آپ کال کر دیتے شیری کو، میں اسی کے ساتھ آ جاتی۔”منیٰ نے کہا تھا۔

“میں ہوں نا، تمھارا بوجھ اٹھانے کے لیے، اس لیے تمام فارمیلیٹیز تو شیری نے ہی مکمل کی ہیں، میں نے ڈآکٹر سے مشورہ کیا ہے، نرس کا انتظام بھی ہو گیا ہے، اپنے مہریار کے ساتھ گھر چلو۔”اسے وہیل  چیئر پر بٹھایا تھا اور اسی پل نرس مہریار کو لے کر آئی تھی اور منیٰ کو دے دیا تھا۔

“شیری، اپنے بھانجے کو اٹھاؤ گود میں، پہلی دفعہ اپنے گھر جا رہا ہے۔ معوذتین پڑھ کر اپنے بھانجے پر دم کرو۔ راستے میں اس کا صدقہ بھی دے دینا۔”روم سے نکلے تھے اور باہر کھڑا شہریار ان کے پاس آن رکا تھا۔ منیٰ نے بیٹے کو بھائی کے حوالے کر دیا تھا۔

وہ تینوں گھر پہنچے تھے۔

“شیری، تم آرام کرنے چلے جاؤ۔ ماما، مہریار کو اپنے پاس رکھ لیں۔ زوہا بیٹا، ناشتہ بن جائے تو بلا لینا۔”گھر پہنچنے پر سب نے ان دونوں کو مسکرا کر ویلکم کیا تھا لیکن منیٰ سب کے بجھے چہرے اور غیر معمولی خاموشی پر مضطرب ہو گئی تھی۔

“پھپھی جان، کیا ہوا ہے۔ بتائیے مجھے، احسن نے بھی مجھے کچھ نہیں بتایا۔”منیٰ ساس سے بولی تھی۔

“احسن بتا دے گا، احسن کمرے میں لے جاؤ، میں ناشتہ بجھوا دوں گی۔”ہادیہ نے پوتے کو گود میں لیتے ہوئے کہا تھا۔

احسن اس کی وہیل چیئر چلاتا اسے بیڈروم میں لے گیا تھا، اسے بستر پر بٹھا کر عبایا اتار کر اسے تکیوں کے سہارے بیٹھنے میں مدد دی تھی اور پانی کا گلاس بھر کر اس کی طرف بڑھایا تھا۔

“مجھے پیاس نہیں لگی، آپ پی لیں اور فریش ہو کر آئیں۔ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔”منیٰ بولی تھی۔

“ہاں، میں شاور لے کر آتا ہوں پھر بات بتا دوں گا۔ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہے۔”احسن پانی پی کر گلاس رکھتا کبرڈ کی طرف بڑھا اور کپڑے لیے نہانے چلا گیا تھا۔ پندرہ منٹ بعد اس کی واپسی ہوئی اس نے پہلے فجر پڑھی، دعا مانگی اور مصلہ سمیٹ کر بستر پر آیا اور بیوی کے برابر بیٹھتا اس کا ہاتھ تھام کر اسے تمام بات بتاتا چلا گیا۔

“احسن، اتنا بڑا الزام وہ لڑکی لگا بھی کیسے سکتی ہے ؟”تفصیل سن کر منیٰ شاکڈ رہ گئی تھی اور پریشان بیٹھے احسن کو دیکھا تھا۔

“سب اتنا اچانک ہوا کہ کوئی کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھا۔”احسن بولا۔

“نشاط چپ کیوں رہی اسی وقت اس لڑکی کے منہ پر سچ مار دیتی۔ ہماری نشاط کسی لڑکے سے بات کرنا پسند نہیں کرتی اور اس زبان دراز نے ایک مرد کا نام لے کر اسے بدنام کیا اور سب چپ رہے یہ کیسے کر سکتے ہیں سب؟”منیٰ تو تفصیل سن کر ہی مضطرب سی بول رہی تھی۔

“چپ رہنا بھی مجبوری تھا منیٰ، کہ کوئی کچھ جانتا ہی نہیں تھا اور الزام کی تصدیق یا تردید تو بات جاننے کے بعد ہی ممکن ہے لیکن ماموں اس کی ڈھال بن گئے جتنا ساتھ دے سکتے تھے دیا، اور نشاط نے ماموں کو بتایا ہے کہ….”احسن نے کہا تھا اور باقی تفصیل بھی کہتا چلا گیا تھا۔

“نشاط پاگل ہے، وہ اتنی بڑی حماقت کر بھی کیسے سکتی ہے۔ اتنا کچھ ہوا اس کے ساتھ اس نے آپ کو بتایا ہی نہیں۔ اسی وقت بتاتی اس لڑکی کی ساری سازش کھول دیتی۔ نشاط، یہ کیا بےوقوفی کر گئی ہے۔”منیٰ تو عالیانہ کی سازش سن کر ہی ششدر رہ گئی تھی۔

“جانتی تو ہو اس کی انا اور عزت نفس کو ترجیح دینے والی فطرت کو، اس نے اپنا سچ نہیں کہا کہ اسے لگا ہوگا کہ اس سب میں اس کی انسلٹ ہے لیکن بات ابھی چھپانے یا بتانے کی نہیں ہے، بات تو اس تکلیف کی ہے جس سے میری بہن گزری اور میں انجان رہا۔”احسن نے بےبسی سے کہا تھا۔

منیٰ اسے زندگی میں پہلی دفعہ اتنا شکست خوردہ دیکھ بےچین ہو گئی تھی۔

“کتنا کچھ سہا، کومے میں چلی گئی۔ جب طبعیت سنبھلی کیسے بلک کر روتی تھی اور میں جان نہیں پایا کہ اس رونے کے پیچھے کتنا کرب چھپا ہے۔ میں اچھا بھائی نہیں بن سکا منیٰ۔”احسن کی آواز کانپ رہی تھی۔ منیٰ بھیگتی آنکھوں سے اسے تکلیف میں دیکھ رہی تھی۔

“میری نشاط آزمائش سے گزری، سازش کا شکار ہوئی۔ اسے اپنی عزت کی جنگ اکیلی لڑنی پڑی فاتح لوٹی مگر اسے اپنا ساتھ نہ دے سکا۔ کیوں نشاط نے اپنی عزت نفس اور خودداری میں، اپنا درد مجھ سے بھی چھپالیا، مجھے بتاتی تو کیا میں اس کا ساتھ نہ دیتا۔؟ مجھ پر بھروسہ ہی نہیں کیا۔ کیا میں اتنا کمزور اور لاپرواہ بھائی ہوں کہ میری بہن مجھ سے اپنا درد بیان نہ کر سکی۔”احسن کے آنسو گرنے لگے تھے۔

“احسن، ایسے کیوں سوچ رہے ہیں آپ، آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کی بہن اتنی بہادر اور مضبوط کردار کی ہے کہ اس نے کسی کے بھی سہارے کے بناء اپنے حصے کی جنگ لڑی۔ خاندان کے وقار اور اپنی حرمت پر اس نے آنچ بھی نہیں آنے دی۔”منیٰ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔

“یہی سوچ کر میری روح لرز اٹھی ہے۔ وہ وہاں اکیلی تھی اس کے ساتھ کچھ ہو جاتا تو…”احسن کے چہرے سے وحشت عیاں ہوئی تھی۔

 “اس ‘تو’ پر میری جان اٹک جاتی ہے اور نشاط اس کرب سے گزری۔ اپنی طرف سازش و برے ارادوں سے بڑھتے ہاتھ و قدم دیکھ کیسے ڈر گئی ہوگی، کس شدت سے اس نے ہم سب کو پکارا ہوگا۔ کس کرب سے موت کی آرزو کی ہوگی، کس تڑپ سے زندگی چاہی ہوگی… سوچ رہا ہوں تو میرا خون میری رگوں میں جم سا رہا ہے۔”احسن اپنے چہرے پر رکھے بیوی کے ہاتھ کو تھام گیا تھا۔ اس کے آنسو رواں تھے۔

“میری نشاط کے کردار پر انگلی اٹھی ہے جبکہ اس نے محبت کے حصول کے لیے ایک بہت چھوٹی سی بھی کوشش تک نہ کی، اس کی اچھائی اس کی نیک فطرت اس کی حیا اس کے لیے جرم بن گئے۔ دسیوں لوگو کے سامنے اس سازشی عورت نے میری بہن پر الزام لگایا اور میری بہن سچی ہو کر بھی سچ منہ سے کہہ نہ سکی۔  اب کس کس کو اپنی صفائی دے گی، کس کس کو اپنے اجلے دامن کی گواہی دے گی۔ کیوں ہو گیا ہے یہ سب منیٰ… میری نشاط تو یہ سب ڈیزرو نہیں کرتی۔”احسن کہتے ہوئے رو پڑا تھا۔

“احسن، آپ حوصلہ کریں۔ نشاط کے ساتھ غلط ہوا ہے، لیکن تیر کمان سے نکل چکا ہے اس لیے آپ نے اب خود کو سنبھالنا ہے، نشاط نے آپ سے سہارا نہیں مانگا اپنی زندگی کی جنگ اس نے خود لڑی، اب آپ تک سچ پہنچا ہے تو اب آپ نے اسے اکیلا نہیں پڑنے دینا اور اس لڑکی کو بتانا ہے کہ نشاط لاوارث نہیں ہے، اس کا بھائی اس کے حق کے لیے لڑ سکتا ہے۔”منیٰ نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر، اس کے ماتھے پر نرمی سے لب رکھے تھے اور اس کے آنسو صاف کر کے دھیمے لہجے میں بولتی چلی گئی تھی۔

“آپ ایسا کریں، پاکستان چلے جائیں۔ نشاط کو آپ کی ضرورت ہے۔ سب کے سامنے سچ رکھیں، اس لڑکی کو بےنقاب کر کے سزا دلوائیں اور اس لڑکے کا گریبان پکڑ کر پوچھیں کہ اس نے یہ سب کیسے ہوجانے دیا، جس لڑکی سے محبت کا دعوی کیا تھا اس پر اعتبار نہ کر سکا، تنہا وہاں چھوڑ گیا جہاں اس کے لیے بقا کی جنگ میں جان بھی جا سکتی تھی اور عزت…”منیٰ کہتے کہتے لب دانتوں تلے داب گئی تھی، آنکھ سے آنسو گرنے لگے تھے۔

احسن کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا۔

“اس لڑکے سے مجھے جواب نہیں مانگنا منیٰ، وہ اگر ساتھ دیتا تو نوبت یہاں تک پہنچتی ہی نہیں۔ اور میں پاکستان نہیں جا رہا۔ نشاط یہاں سعودیہ آ رہی ہے۔”احسن نے خود کو کمپوز کر کے کہا تھا۔

“یہاں اسے بلانے کی کیا ضرورت تھی، آپ سب پاکستان چلے جاتے، میرے ساتھ یہاں شیری اور زوہا رک جاتے۔ نشاط کی ذہنی حالت ہرگز اتنے سفر کے لیے مناسب نہیں ہے۔ آپ روکیں اور خود جائیں۔”منیٰ تفصیل سن کر بولی۔

“ایک گھنٹے پہلے ماموں اور مامی کے ساتھ نشاط پرائیوٹ جیٹ سے سعودیہ کے لیے نکل گئی ہے۔ کچھ گھنٹوں میں یہاں پہنچ جائے گی۔ ہم پاکستان جاتے تو بھی اتنا ہی وقت لگتا اس لیے نشاط کو ہی یہاں بلایا گیا ہے۔ ماموں اور مامی ساتھ ہیں تو نشاط کی اتنی فکر نہیں ہے، وہ سنبھال لیں گے۔”احسن نے تفصیل کہی تھی۔

“نشاط بہت مضبوط لڑکی ہے، وہ خود کو سنبھال لے گی لیکن اصل مسئلہ تو الزام کا ہے اس کا دھلنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے آپ کو جانا چاہیے۔ جا کر سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بہن کی بےگناہی رکھنی چاہیے۔ ہمارے بزرگوں کی بےعزتی ہوئی، ہماری پاکدامن بیٹی پر الزام لگا ہے اور ہم صبر کرلیں۔ ظلم کے خلاف صبر کرنے کی تو ہمارا مذہب بھی اجازت نہیں دیتا۔”منیٰ اسے پانی کی بوتل سے پانی گلاس میں نکال کر دیتے ہوئے بولی تھی۔

“منیٰ! ہم ڈینی نامی شخص کے ساتھ تعلق کو جھٹلا کر اس عورت کو بےنقاب کرسکتے ہیں لیکن کاظم کے نام کے ساتھ جڑے الزام کی تردید نہیں کرسکتے کہ الزام شدید و بدتر ہے اسے جھوٹا ثابت بھی کر دیں تو نشاط کی انوالومنٹ کو زیرو ثابت نہیں کر سکتے، وہ اپنے معیار سے نیچے نہیں آئی، دین کے احکامات کی نفی نہیں کی، والدین کی تربیت کی لاج رکھی، اپنے حیا پر قائم رہی لیکن ایک تعلق تو تھا، اور اس تعلق کو منفی رنگ دیا گیا ہے، ہم مثبت ثابت بھی کر دیں تو ایک انگلی ہم پر اٹھی رہے گی۔”احسن نے بہت بےبسی سے کہا تھا، اس کے چہرے پر فکر کا جال سے بنا ہوا تھا، گلاس ہاتھ میں لرزا تھا۔

احسن نے سبحان شاہ اور مہرالنساء کے ذریعے علم میں آئی تمام بات بھی کہہ دی تھی۔

“کیسی باتیں کررہے ہیں احسن، محبت کرنا کوئی عیب نہیں ہے وہ بھی اس صورت کہ معاشرتی و اسلامی تقاضے بھی فراموش نہ کیے گئے ہوں۔ جب پھپھو نے بتایا ہے کہ نشاط نے اس لڑکے کے ساتھ ڈیٹنگ نہیں کی، کال پر بات نہیں کی تو آپ کو کیا ضرورت ہے اٹھی انگلی کی پرواہ کرنے کی؟”منیٰ کے انداز میں ناگواری تھی۔

“پرواہ کرنا مجبوری ہے منیٰ! مجھے بھروسہ ہے، بابا اور پھپھا سب کو یقین ہے نشاط پر اور پھپھو کی گواہی کے بعد تو ہمارے یقین مزید مضبوط ہو گئے ہیں لیکن لوگ ہماری طرح وسعت نظری کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، میں اپنی بہن کو بےگناہ مان سکتا ہوں، کسی کو یقین کیسے دلاؤں گا۔ فارس کی فیملی تک بات پہنچے گی تو جانے کیا ہو، انھوں نے منگنی ختم کردی تو نشاط کے لیے کتنے مسائل ہو جائیں گے، ہمارا معاشرہ بےقصور عورت کو ہی سزا دینے کا قائل ہے، بےقصور مانتا ہی نہیں صرف گناہگار ٹھہرا دیتا ہے۔”احسن نے اپنی وہ الجھن بیوی کو کہی تھی جو سارے معاملے کے منظر پر آنے کے بعد اسے پریشان کر رہی تھی۔

“نشاط کو پسند تھا شادی کی خواہش تھی تو اس میں کونسا عیب ہے، جو ہم ڈر کر بیٹھ جائیں۔ میں بھی تو آپ کو پسند کرتی تھی، شادی کی خواہش تھی تو اس بنیاد پر میرا کریکٹر سرٹیفیکٹ جاری ہوگا؟”منیٰ اپنے مخصوص سادہ انداز میں بولی تھی۔

“یہی میں نے کہا تھا منیٰ، کہ میں نے خود لو میرج کی ہے اور لو میرج کے لیے افیئر چلتا ہی ہے۔”احسن غیر معمولی سنجیدگی سے بولا تھا۔

“استغفراللہ! احسن، میرا آپ سے افیئر نہیں تھا۔ اب ایسے بھی نہ کہیں کہ لو میرج کے لیے افیئر چلتا ہے۔آپ نے پرپوز کیا، میں نے تو اقرار تک نہیں کیا تھا۔ آپ نے رشتہ بھیج دیا۔ شادی ہوگئی۔”منیٰ بہت تڑپ کر بولی تھی۔

“یہی میری جان! لوگ نہیں چین پاتے، پسند کا سن کر لو افیئر کی کئی داستانیں سوچ لیتے ہیں، شادی سے پہلے تمھارے ساتھ میں کبھی باہر نہیں گیا، تمھیں کوئی تحفہ نہیں دیا۔ جذبات بدلے تو اظہار کیا اور ہماری خوش قسمتی ہماری شادی ہو گئی۔ لیکن کیا تم اور میں لو میرج کے ساتھ کسی کو یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ افیئر ٹائپ کچھ نہیں تھا، ڈیٹنگ اور ٹیلی فونک رابطہ نہیں تھا، حتی کہ تم تو نکاح کے بعد بھی بات نہیں کرتی تھیں۔ مگر کیا کسی کے سوال پر اسے مطمئن کر سکتی ہو۔ جبکہ ہم کزن ہیں تو ہماری شادی کا سن کر تو بہت یقین سے کہا جاتا ہے لو میرج ہوگی۔کبھی ہم بھی جواب نہیں دے سکے اس لیے میں تو بےخوف کہتا ہوں، ہاں میری لو میرج ہے الحمداللہ۔” احسن بیوی کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔

جس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔

“میں آپ کے جذبات سمجھ رہی ہوں احسن، کہ جیسے میں تڑپ کر بولی میرا آپ سے افیئر نہیں تھا، یہی سچوایشن بہت بدتر انداز میں نشاط کو درپیش ہے۔ کیونکہ عورت سب برداشت کرسکتی ہے اپنی حیا و کردار پر شہیتر برابر بھی الزام برداشت نہیں کر سکتی، اس لیے آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے لوگ کیا کہیں گے سوچنے کی، نشاط کی ذہنی حالت سمجھنے کا ہم صرف دعوی کرسکتے ہیں، اس درد کو اس طرح محسوس نہیں کر سکتے جس شدت سے نشاط سہہ رہی ہے۔ اس لیے آپ نے صرف نشاط کا سوچنا ہے، اس الزام سے وہ کیسے بری ہوگی۔ پوچھیں اس لڑکے سے کہ اس کے سامنے اتنی بکواس کی گئی اتنا کمزور تھا تو ایک لڑکی کو محبت کی رنگین تتلی سے روشناس ہی کیوں کروایا تھا۔”منیٰ نم لہجے میں کہتی باقاعدہ رونے لگی تھی۔

نشاط اس کی پھپھو کی اکلوتی بیٹی تھی، دونوں میں بہنوں جیسی محبت اور دوستو جیسی بےتکلفی تھی۔ نند بن جانے کے بعد بھی اس کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا تھا وہ پہلے سے زیادہ اسے اہمیت دینے لگی تھی، اور ساری بات جان کر اسے انثی کے نکاح کی شام نشاط سے ہوئی گفتگو یاد آنے لگی تھی کہ دکھی تو وہ سب کو ہی لگتی تھی مگر بات یہ ہوگی کسی نے سوچا نہیں تھا۔

“کسی کو پسند کرنا یا پسند کی شادی کرنا، عیب نہیں ہے۔ پسند کو عیب تو اس لڑکے کی کمزوری نے بنادیا ہے، عقل سے کام لیتا تو نشاط کا سہارا بنتا۔ پہلے بھی تنہا کر دیا، پلٹ کے سچ جاننے کی کوشش نہ کی اور آج بھی اس کے سامنے اتنا کچھ کہا گیا اور وہ تماش بین بنا رہا، نشاط کا سچ جان کر اس کی طرف پلٹے گا، سب کے سامنے اعتراف بھی کر لے گا تو اس اذیت کا حساب کون دے گا جو نشاط تنہا جھیل گئی۔ سارا سچ کھل گیا ہے۔ اب ان سب کی شرمندگی نشاط کی بےعزتی کا ازالہ تو نہیں ہو سکتی۔”احسن بیوی کا ہاتھ تھام کر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا تھا۔

“کیا بول رہا ہے وہ، کسی کی اس سے بات ہوئی ہے؟”منیٰ نے سوال کیا تھا اور وہ پرپوزل دینے کا بتا گیا تھا۔

“کاظم کی فیملی بھی کچھ نہیں جانتی، ازمیر نے کال کر کے فقط اتنا کہا کہ نشاط بےقصور ہے اور یہ سب کاظم کی ہونے والی بیوی کی سازش ہے۔ ماموں نے کچھ بھی نہ جانتے ہوئے نشاط کے حق میں گواہی دی اور فیصلہ سنادیا کہ نشاط وہاں نہیں ٹھہرے گی اور کاظم کو ہاسپٹل میں دیکھ نشاط سے سوال کیا اور کاظم نے سچ جان کر پرپوزل دیا ہے، اب اس کی فیملی کیا چاہتی ہے، داجان وغیرہ سے کیا بات ہوئی ہے میرے علم میں فی الحال نہیں آیا۔ داجان سے بات ہوئی تھی انھوں نے یہی کہا کہ نشاط بےقصور ہے لیکن کاظم کو وہ پسند کرتی تھی یہ ہمارا کمزور پوائنٹ ہے اس لیے صبر و تحمل سے معاملے کو سلجھانا چاہتے ہیں، نشاط واپس آ رہی ہے۔ داجان سچ سب کے سامنے آنے اور نشاط کے بےگناہ ثابت ہوجانے کے بعد نکاح اٹینڈ کر کے ہی آئیں گے۔”احسن نے تفصیل سے کہا تھا۔

“اس لڑکے نے پرپوزل دیا ہے اور اس کی فیملی؟ وہ کیا کہتی ہے جب لڑکا اب بھی شادی کرنا چاہتا ہے، بات منہ سے بھی نکال دی ہے تو اس کی فیملی نے نہیں دیا پرپوزل، رشتہ تو اس کی فیملی کو مانگنا چاہیے تھا۔”منیٰ تفصیل سننے کے بعد بولی تھی۔

“کاظم، ہاسپٹل میں ہی تھا وہیں ماموں سے رشتے کی بات کی، وہ اپنی حویلی گیا نہیں۔ نہ اس کی فیملی نے پرپوزل کی بات کی۔ نشاط کے واپس آنے پر ان سب کو اپنی بےعزتی لگ رہی تھی۔مگر ماموں نے ہم سے بھی یہی کہا کہ نشاط ٹھہرے انھیں پسند نہیں آئے گی یہ بات، اس کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا ہے اب وہ اس حویلی کی دہلیز پر جائے یہ انھیں گوارا نہیں، بابا کو بھی یہی مناسب لگا، کاظم کی فیملی نے روکا تو مگر رشتے کی بات نہیں کی اور مجھے یہی لگتا ہے کہ جتنا ہم انجان تھے اس کی فیملی بھی انجان ہے۔”احسن کہتا ہوا بیوی کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔ رات یونہی گزر گئی تھی، وہ سویا نہیں تھا۔

“اس کی فیملی تو خیر انجان نہیں ہو سکتی، نشاط نے پرپوزل لانے کی ڈیمانڈ رکھی تھی تو پرپوزل فیملی نے ہی لانا تھا اس لیے فیملی انجان تو نہیں ہوسکتی ہاں وہ لڑکی نشاط ہے شاید یہ نہیں جانتے ہوں گے۔”منیٰ اس کا سر دبانے لگی تھی۔

“جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، میں اپنی بہن کی شادی وہاں نہیں کروں گا۔ جو مرد مشکل میں ساتھ چھوڑ جائے اس پر اعتبار نہیں کر سکتا۔ پھپھی جان بہت جذباتی ہو رہی ہیں یہی چاہتی ہیں کہ کاظم سے بات کروں، اس کی شادی رکوا دوں۔ نشاط بہت محبت کرتی ہے۔ اس کی خوشی کاظم ہے لیکن جو ساتھ ہی دکھ کا باعث ہو ایسے ساتھ کو خوشی کی وجہ نہیں بنا سکتا۔”احسن غیر معمولی سنجیدگی سے بولا تھا اور منیٰ خاموشی سے اسے سنتی سر دبا رہی تھی۔

“نشاط کو ماموں نے کاظم سے بات کرنے کی اجازت دی تھی اور یقیناً نشاط نے اس کے تمام ایکسکیوزز ریجیکٹ کردیے ہیں اور وہ واپس آ رہی ہے۔”احسن نے بتایا تھا، بات کے بعد اس نے کچھ نہیں کہا تھا اور رکنے کو راضی نہیں تھی تو احسن کو یہی لگا تھا کہ وہ کاظم کو معاف نہیں کرنا چاہتی۔ کیونکہ اگر زرا بھی وہ لچک دکھانے کا ارادہ کرتی تو سبحان شاہ سے ضرور کچھ کہتی اور اس نے انثی کی فکر کے جواب میں جو سبحان شاہ سے کہا تھا۔ وہ سبحان شاہ نے صرف احسن کو بتا دیا تھا کیونکہ کاظم کے تیور تو انھیں بھی پسند نہیں آئے تھے۔

“تایاجان نے نشاط کو اس لڑکے سے بات کرنے دی وہ بھی اکیلے میں؟”منیٰ تو بےیقین رہ گئی تھی۔

“حیران اتنا ہی میں بھی ہوا تھا، پھپھا نے تو اختلاف بھی کیا جبکہ پھپھو نے درپردہ حمایت کی اور میں نے بھی کیونکہ مجھے ماموں پر بھروسہ ہے کہ اگر انھوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے تو کچھ سوچ کر ہی اٹھایا ہوگا،

اور مجھے ایسے بات کرنے میں برائی نظر نہیں آئی باوجود اس کے کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا مگر معاشرتی لحاظ سے اتنا بھی برا نہیں ہے اور اسی لیے ماموں نے سوچا ہوگا کہ نشاط بات کر کے فیصلہ کر لے کیونکہ آج کاظم کا نکاح ہے۔

اور سچ جاننے کے بعد وہ اس عورت سے نکاح نہیں کرے گا بول کر اس نے نشاط کے لیے، ماموں کو اپنا پرپوزل دیا ہے۔ مگر فیملی کی طرف سے ایسی کوئی بات کہہ کر روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

 یہ ضرور درخواست کی کہ نشاط واپس نہ جائے، مگر یہاں ماموں نے کسی کی نہیں سنی اور اس کے پیچھے بھی یقیناً نشاط کی بہتری ہے تب ہی اللہ سے خوف کھانے والے نہایت پھوک پھوک کر قدم اٹھانے والے انسان نے ایک وہ قدم اٹھایا جسمیں دینی اور دنیاوی مسائل ہیں اور نرمی نہ دکھا کر ڈٹ گئے۔

بابا اور ماما بھی ماموں کے فیصلے سے مطمئن ہیں کیونکہ یہی لگتا ہے کہ ماموں نے لیا ہے فیصلہ تو اس میں یقیناً خیر چھپی ہے۔”

احسن بیوی کے بازو پر سر رکھے لیٹا دھیمے لہجے میں بہت تفصیل سے بول رہا تھا اور منیٰ اس کا سر دباتے ہوئے اسے غور سے سن رہی تھی۔

سبحان شاہ کے فیصلے پر اعتراض تو اسے آدھا فیصد بھی نہیں تھا اسے تو حیرانی ہی یہی تھی کہ تایاجان نے یہ فیصلہ لیا ہے۔

“احسن! برا نہ مانیں تو ایک مشورہ دینا چاہتی ہوں۔”منیٰ جھجھک کر بولی۔

“اوہوں۔”احسن نے گویا اجازت دی تھی۔

“نشاط کی مرضی جانے بناء کوئی فیصلہ نہ لیں۔

نشاط کو اس لڑکے سے اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی شادی کرنی ہے، تو آپ کروا دیں شادی احسن۔”منیٰ بہت ہمت کر کے بولی تھی۔

احسن نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا اور منیٰ “سوری” کہہ گئی تھی۔

“بات مکمل کرو منیٰ۔”احسن نے اس کا سر دباتا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا۔

“آپ کو شاید مشورہ برا لگے۔”منیٰ جھجھک گئی تھی۔

“تم مشورہ دو، برا لگنا ہوگا تو لگ جائے گا۔ اچھا لگے گا تو عمل کر لوں گا۔”احسن نے کہا تھا۔

“آپ کی نشاط نے آپ کو مدد کے لیے نہیں پکارا، اس نے اپنی ماں کی تربیت اور اپنے حوصلے سے مشکل وقت کاٹ لیا مگر اب اسے آپ کا ساتھ چاہیے اسے آپ تنہا نہ کریں۔ فارس اچھا لڑکا ہے لیکن دل اگر برے لڑکے پر بھی آ جائے تو اس کا نعم البدل دنیا کا سب سے اچھا لڑکا بھی کبھی ثابت نہیں ہو سکتا۔”منیٰ بھیگے لہجے میں، جھجھک کر بولی تھی۔

خدشہ تھا کہ کہیں احسن برا نہ مان جائے۔ وہ نشاط کے لیے کوئی بھی جملہ بےدھڑک نہیں بولتی تھی۔ اس وقت تو معاملہ ہی بہت حساس تھا۔ بہن کے لیے جذباتی ہوا احسن، اس کے مخلصانہ مشورے کو غلط نہ سمجھ بیٹھے اس لیے بہت سنبھل کر سب کہا تھا۔

“اور یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ نشاط کسی ایسے ویسے لڑکے کو پسند کر ہی نہیں سکتی۔ وہ اچھا لڑکا ہی ہوگا، قسمت سے اگر برا ثابت ہو گیا ہے، وقت پر نشاط کا ساتھ نہ دے سکا تو اس سے بھی بات کرنی چاہیے۔ ایک سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ کاظم ہماری نشاط کی پسند ہے، تو بری تو ہو نہیں سکتی اس لیے سکے کا دوسرا پہلو جاننے کی کوشش کریں۔”منیٰ اپنے مخصوص سنجیدہ اور مثبت انداز میں بول رہی تھی۔ احسن چپ رہا تھا۔

“پھپھو ماں ہیں نشاط کی اور ایک ماں سے بڑھ کر بیٹی کے جذبات کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اموجان کی خواہش تھی کہ میری شادی.. تمثیل سے ہو لیکن میرے جذبات آپ کے لیے وقف ہو گئے تھے، جب رشتے کی بات چلی تب میں نے فقط ایک بار آپ کا نام لیا تھا اموجان کے سامنے پھر سب انھوں نے سنبھال لیا تھا۔”احسن اسے دیکھنے لگا تھا اس نے یہ پہلے کبھی نہیں بتایا تھا کہ ضرورت ہی نہیں پڑی تھی کہ وہ پوچھتا کہ سب کیسے مانے۔

البتہ تمثیل کے لیے اس کا رشتہ موجود ہے یہ احسن جانتا ہی تھا کہ جب ماں سے رشتہ لے جانے کا کہا تھا تب ہادیہ نے بتا دیا تھا کہ بی جان کی کیا خواہش ہے اور تب احسن نے دل کی بات بتا دی تھی پھر سارے راستے بنتے چلے گئے تھے کیونکہ ان کا ساتھ لوح محفوظ میں درج تھا۔

” نشاط نے تو پھپھو کو اپنے دل کی ہر بات بتائی ہے، ان کی تمام ہدایات پر عمل کیا ہے۔ لڑکا سامنے تھا، کورٹ میرج کے راستے کھلے تھے لیکن نشاط اس راستے کی طرف ایک قدم نہیں بڑھی۔ پھپھو کی تربیت کی لاج رکھ کر نشاط نے پھپھو کو اپنے بھائی بھابھی کے سامنے شرمندہ ہونے سے بھی بچایا ہے۔ اتنی قربانیاں دینے کے بعد اب نشاط کو وہ سب ملنا چاہیے جو اس کے دل کی خواہش ہے۔”منیٰ نے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ پر نرم سی گرفت بڑھائی تھی۔

“احسن! آپ صرف نشاط کے منہ سے اقرار و انکار سن کر ہی فیصلہ لیں، باقی دنیا کو چھوڑ دیں۔ شادی سے اگر الزام کی تصدیق ہو بھی جائے گی تو کیا فرق پڑے گا۔ چار دن بعد سب بھول جائیں گے، نشاط کا سوچنا ہے ہم نے صرف اور میں چاہتی ہوں کہ پرپوزل اگر فیملی کی جانب سے آئے تو آپ کو سوچنا چاہیے۔ بلکہ نشاط کی اگر یہی مرضی ہو تو فیملی سے خود بھی بات کر سکتے ہیں، آپ کی انا و غیرت بہن کی خوشی اور اس کے بہتر مستقبل سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔”منیٰ اس کے چہرے پر نرمی دیکھ اپنا نکتہ نظر کہتی چلی گئی تھی۔

“آ جائے نشاط تو ہی پتہ لگے گا کہ وہ اب کیا چاہتی ہے۔ اور ہوگا وہی جو نشاط چاہے گی، میں نے تو تمثیل سے ہی صاف کہہ دیا تھا کہ نشاط اگر اس لڑکے کو معاف کر کے اس کو محرم بنا کر زندگی گزارنا چاہے گی تو میں اپنی بہن کا رشتہ بھی خود لے جاؤں گا تاکہ اچھے سے پروف ہو جائے کہ نشاط محسن ہاشمی کا کاظم خانزادہ سے افیئر تھا اور نشاط کے بھائی نے اس کے جذبات کو معاشرے میں رائج رواجوں سے بغاوت کر کے اس کا نکاح خود کروایا تھا، کہ دنیا چاہے جو کہے ہمیں اپنی بیٹی کے کردار و وقار کی تعظیم پر بھروسہ ہے اور ہم اس کے ساتھ ہیں۔”احسن اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولا تھا اور منیٰ مسکرانے لگی تھی۔

“یہ کی ہے نا آپ نے، نشاط کو مضبوط ثابت کرنے والی بات۔”منیٰ نے کہا تھا اور احسن نے بیوی کو دیکھا تھا جس کا چہرہ متورم ہو رہا تھا۔

“میری بہن مضبوط ہے اس نے ثابت کر دیا ہے۔ اب میں اس کا ساتھ دوں گا۔ بہن بیٹیوں کو بےسہارا کیا جائے تب ہی وہ غلط قدم اٹھاتی ہیں کیونکہ اپنوں کا ساتھ میسر نہیں ہوتا تو غیر ہی اپنے لگتے ہیں، پھپھو نے نشاط کی ڈھال بن کر اپنی بیٹی کو کورٹ میرج سے روکا۔ اب میں نشاط کی ڈھال بن کر اپنی بہن پر اٹھی  زمانے کی انگلی کو جھکاؤں گا۔اور اسے اپنے لیے درست قدم اٹھانے کی جانب مائل کروں گا۔”احسن نے بیوی کے چہرے کو محبت سے دیکھا تھا اور بستر سے اٹھ کر جگ سے پانی نکالا تھا اور پانی پینے کے دوران کہا تھا۔

“مہر کے بابا تو بہت ہی سمجھدار اور اچھے انسان ہیں، مل کر خوشی ہوئی۔”منیٰ نے کہا تھا اور احسن کا بےساختہ قہقہہ کمرے میں گونجا تو منیٰ کو کچھ تسلی ہوئی تھی۔

“مہر کی مما سڑی ہوئی خاتون ہیں، مل کر بالکل خوشی نہیں ہوئی۔”بیوی کی طرف پانی کا گلاس بڑھاتے ہوئے کہا تھا اور وہ منہ بنانے لگی تھی۔

“کتنی جلدی برا مان جاتی ہو، تعریفیں سننے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے تمھیں جانِ احسن۔”اس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے جھک کر اس کا گال چوما تھا اور وہ مسکرا کر گلاس اس کے ہاتھ سے لے گئی تھی۔

“مجھے آپ کو پریشان دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی۔ آپ یقین رکھیں سب اچھا ہو جائے گا، بدی کا انجام اور نیکی کا صلہ صرف اللہ دیتا ہے اور آپ کی نشو کو اس کے صبر کا صلہ ملے گا کیونکہ وہ اللہ کے ذمے ہے کسی سازشی عورت کے اختیار میں نہیں ہے۔”منیٰ پانی پی کر گلاس واپس دینے کے بعد، پلٹتے ہوئے احسن کا ہاتھ تھام کر بولی۔

“بےشک، اللہ نے جب نشاط کو تب محفوظ رکھا جب ہر راستہ بند تھا تو اب تو راستے کھلنے کا وقت ہے۔”احسن مسکرایا۔

“انشاءاللہ، اور آپ دیکھیے گا نشاط کو سب اس کی اچھی نیت اور نیک عمل کے عوض انعام کی صورت ملے گا۔”منیٰ اسے کچھ پرسکون محسوس کرتی، اطمینان سے بولی تھی۔

“رونے کیوں لگی ہو، یار۔”منیٰ کو روتے دیکھ وہ اس کے پاس ہی ٹک گیا۔

“پھپھی جان اور پھپھو کو میری ضرورت ہے، مجھے پھپھی جان کے پاس لے چلیں۔ بات کریں گی تو کچھ اچھا محسوس کریں گی۔”منیٰ سوں سوں کرتی بولی تھی۔

“ماما کا تو پتہ ہی ہے شکوے نہیں کرتیں، طبعیت بگڑ گئی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی جاگ کر ہال میں پہنچی تھیں اپنے پوتے کے استقبال کے لیے۔ پھپھو نے تو رو کر دل کی بات کہہ کر اپنے آپ کو کچھ پرسکون کر لیا ہے لیکن ماما ضبط کرتے بکھر سی رہی ہیں۔ ماموں ہی آ کر انھیں سنبھالیں گے، کیونکہ میری کوئی تسلی ان کی ممتا کے لیے سکون کا باعث تب تک نہیں بنے گی جب تک وہ اپنی بیٹی کو دیکھ نہیں لیں گی۔”احسن دھیمے سے کہتا بیوی کے آنسو پونچھ گیا تھا۔

“لڑکیوں کے آنسو نہیں رکتے۔ روتے ہوئے زرا نہیں سوچتیں، مرد اپنی پسندیدہ لڑکی چاہے وہ کسی بھی رشتے کی صورت میں ہو۔ روتے نہیں دیکھ سکتا۔ میں، ماما اور پھپھو کو دیکھ کر آتا ہوں۔ رو رو کر حشر کیا ہوا ہے، میمنے کی سمجھدار دلہن نے سب سنبھالا ہوا ہے۔ اللہ نصیب اچھے کرے، زوہا کے لیے بےشمار دعائیں دل سے آزاد ہو رہی ہیں۔ کڑے وقت میں وہ اس پیار و خلوص سے ساتھ کھڑی ہے کہ شیری کی خوش بختی کا یقین ہو گیا ہے ماشاءاللہ۔”احسن نے کہا تھا اور منیٰ فخریہ مسکائی۔

“زوہا سے مل کر ڈر سی گئی تھی لیکن اس کی فطرت میں خیر ہے اس لیے وہ اپنی خامیوں اور کمزوریوں پر ازخود قابو پا لیتی ہے اور جو کرتی ہے بہت دل اور مرضی سے کرتی ہے۔ میرا شیری واقعی خوشنصیب ہے جسے زوہا ملی۔ آپ زوہا کو دعا اس کے سامنے اسے سراہتے ہوئے دیجیے گا، اسے اچھا لگے گا۔”منیٰ اپنی بھابھی کی تعریف پر سکون سا محسوس کر کے بولی تھی۔

“زیادہ اچھا لگ گیا تو تمھارے اُس میمنا کا جینا حرام کردے گی تمھارے میمنے کی خوشنصیبی۔”احسن نے کہا تھا اور منیٰ ہنسنے لگی تھی۔

“ہنستی رہا کرو، زندگی حسین محسوس ہوتی ہے۔”احسن نے اسے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

“میری زندگی حسین آپ کے دم سے ہے احسن، آپ پریشان نہ ہوا کریں۔ آپ میرا، نشو اور پھپھو کا سہارا ہیں۔”منیٰ اس کا ماتھا چوم گئی تھی۔ وہ دلگرفتہ اور اداس لگ رہا تھا، منیٰ کو اس کی فکر ہو رہی تھی۔

“پریشان ہوں نشو کے لیے، اور مجھے تمھارے سہارے کی ضرورت ہے۔ میں پھپھو، ماما اور اپنی نشو کو سنبھال لوں گا۔ تم مجھے سنبھال لو۔ یہ آزمائش مجھے بےسکون کر گئی ہے۔ میری بہن وہاں اکیلی تھی، کچھ ہو جاتا کا خوف مجھے چین نہیں لینے دے رہا منیٰ۔”احسن بیوی کی گود میں سر رکھ گیا تھا۔

“احسن، آپ کی کیفیت سمجھ رہی ہوں۔لیکن آپ ایسے پریشان ہوں گے تو نشاط کو کیسے سنبھالیں گے۔ جب تک اپنا بھرم رکھنا چاہتی تھی ضبط کر گئی۔ اب نہیں سنبھال پائے گی خود کو، اس لیے خود کو آپ مضبوط کریں تاکہ نشاط کو سنبھال سکیں۔”منیٰ اس کے سر پر ہاتھ رکھتی، انگلیاں بالوں میں الجھاتی نرمی سے مساج کرتے ہوئے بولی تھی۔

“نشاط کے لیے بہت ڈر گیا ہوں، مرد بہت باظرف بھی ہو تو بیوی کے معاملے میں کمظرف ثابت ہو جاتا ہے۔ فارس اچھا ہے، مجھے ہر لحاظ سے وہ اپنی بہن کے لائق لگتا ہے لیکن سچ سن کر جانے کیسا ردعمل دے۔ اس کا ایک بھی طعنہ نشاط سہہ نہیں سکے گی۔”احسن نے اپنی الجھن کہی تھی۔

“تھوڑا سا انتظار کر لیں۔ نشاط آئے گی جو وہ کہے آپ کر لینا فیصلہ۔ کاظم کو معاف کرنا چاہے تو آپ ساتھ دیجیے گا، فارس سے شادی کے لیے رضامندی ظاہر کرے تو یہی فیصلہ کیجیے گا۔ فارس ہو یا کاظم بھروسہ صرف اسی پر کیجیے گا جس پر نشاط بھروسہ کرنے کا کہے باقی آپ سمجھدار ہیں بہن کی ضد جائز لگے تو ڈھال بنیں اور لگے جس کو چن رہی ہے وہ بہتر نہیں ہے تو آپ سمجھا کر فیصلہ کیجیے گا۔ اور اب آپ پلیز پریشان نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”منیٰ نے آہستگی سے کہتے ہوئے اس کے سر پر لب رکھے تھے۔

“تم جانتی ہو نا منیٰ! مجھے اپنی بہن سے کتنی محبت ہے۔ اس کی کمی کے احساس سے کتنے خوشگوار لمحوں کو اداسی کی لپیٹ میں محسوس کیا ہے۔ ہمارے گھر کی رونق ہم سے دور رہی ہے۔ اب اس کی تکلیف پر لگتا ہے کاش! اسے خود سے دور ہی نہ جانے دیتا۔ بابا نے فیصلہ کیا تھا مگر میں اپنی بہن کو لے آتا لیکن پھپھو کا سوچتا ہوں، ان کی تربیت پر نگاہ جاتی ہے تو ہر دکھ کا مداوا ہو جاتا ہے۔ کاش! یہ سب نہ ہوتا، نشو مجھ سے کچھ تو کہتی۔ اتنا پرایا کیوں کردیا۔”احسن نے کہتے ہوئے سر اٹھایا تھا۔ منیٰ کا دل مٹھی میں آ گیا تھا۔ اس کا سرخ چہرہ اور بھیگی آنکھیں دیکھ تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔

“آپ خود کو کیوں اذیت دے رہے ہیں احسن۔ ہو سکتا ہے پھپھو نے منع کر دیا ہو، پھپھو کتنی حساس ہیں نشاط کو لے کر، اور عزت نفس اور بھرم پر تو وہ کوئی سمجھوتہ ہی نہیں کرتیں انھیں یقیناً اچھا نہیں لگا ہوگا کہ ان کی بیٹی کی محبت کا زکر ہو اور انسان جب اچھی سوچ اور بہت اچھا ہو، نیکی کی طرف گامزن ہو تو شیطان اپنی چال چلتا ہے۔ نشاط کے ساتھ جو ہوا وہ شیطانی چال ہے۔ آپ کی بہن نے آپ کا سر جھکنے نہیں دیا، اس کی جان  و عزت محفوظ رہی۔ یہ شکر کا مقام ہے۔ آپ زیادہ کاش میں نہ الجھیں۔ نشاط سے یہ سب شکوے کریں گے تو اس کو شرمندگی ہوگی۔ آپ خود کو سنبھال لیں۔”منیٰ نے اس کے چہرے کی جانب ہاتھ بڑھایا اور اس کے آنسو صاف کر گئی۔

“ابھی آپ جائیے، سب سے مل کر آئیے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت آپ کا اور پھپھی جان کا ویسے سہارا نہیں بن سکتی جس قدر آپ کو میری ضرورت ہے۔”منیٰ اس کا ہاتھ تھام کر بولی تھی اور وہ مسکرایا تھا۔

“تمھارا ساتھ ہونا ہی میرا سہارا ہے۔ میں آتا ہوں۔ اپنے بیٹے کو بھی دیکھ کر آؤں۔ پہلی دفعہ گھر آیا ہے۔ اتنے سارے پلانز بنائے تھے اس کے استقبال کے لیے، پہلے جلد باز وقت سے پہلے ہی آ گیا اور اب اس کی پھپھو روتی شکل پریشان کر کے بیٹھ گئی ہے۔”احسن نے اس کا ماتھا چوما تھا اور کھڑے ہوتے ہوئے بولا تھا۔

“مہر کا استقبال اس کی پھپھو آ کر کر لے گی اتنی روتی شکل نہیں ہے۔ نشاط نے کافی کچھ پلان کیا تھا۔ آپ دیکھ لینا جو اس نے آرڈر کیا تھا سارے آرڈرز آ گئے ہیں یا نہیں۔”منیٰ نے کہا تھا اور احسن اسے لیٹنے میں مدد کرنے لگا تھا۔

“تمھارا استقبال تو مجھے ہی کرنا تھا، ویلکم گفٹ ادھار سمجھو اور ویلکم ریٹرن گفٹ دے دو۔”احسن نے کہا تھا اور منیٰ کچھ سمجھتی یا احتجاج کرپاتی کہ احسن اس کے لبوں پر جھکا تھا۔

All Rights Reserved — Author Sadia Abid

“ازمیر ماما۔”شانزے اپنے کمرے میں جانے کے لیے قدم اٹھا رہی تھی کہ ازمیر کو دیکھ اس کی طرف لپکی تھی۔

شانزے کو دونوں بچیوں کے ساتھ کاظم خانزادہ کے کمرے میں بھیج دیا تھا کیونکہ کاظم خانزادہ کا کمرہ ساؤنڈ پروف تھا۔

“چاچو کو نظر انداز کر کے ماما کی طرف بڑھ رہی ہو شونی، دس از ناٹ فیئر۔”کاظم خانزادہ آگے تھا اور ازمیر اس کے پیچھے اور چاچو کی بات پر شانزے ہنسنے لگی تھی۔

کاظم خانزادہ کے چٹختے اعصاب پر نرم سی بارش ہوئی تھی، اذیت کے منہ بند ہوتے لگے تھے۔

“آپ تو روز ہی ملتے ہیں۔ میرے ازمیر ماما تو بہت دن بعد آئے ہیں۔”شانزے اپنے ماما کے کندھے سے لگتی، چاچو کو زبان چڑا گئی تھی۔

“تمھارے اس بہت دن بعد آئے ماما نے تمھارے بغیر اپنی منگنی کی، نکاح کیا اور دھوم دھام سے سب کرنے کے بعد میسنا آ گیا ہے نمبر بڑھانے کو۔”کاظم خانزادہ بھتیجی کو دیکھ سکون محسوس کرتا، بظاہر چڑ کر بولا تھا۔

“ماما کی غلطی تھوڑی ہے، پہلے میرا ایگزام تھا پھر مجھ سے اجازت لیے بغیر بخار آ گیا۔ ماما کا نکاح، عزت خالا کی شادی سب مس ہو گیا۔”شانزے نے منہ بنایا تھا۔

ازمیر بھانجی کی بات پر مسکرایا تھا۔

“سردار ازمیر خان، کوئی قانون بناؤ تاکہ آئندہ بخار شانزے خبیب خانزادہ کی اجازت لیے بنا آ نہ سکے۔”کاظم خانزادہ کہتا ہوا ہنسا تھا اور شانزے بھی ہنسنے لگی تھی۔

“بن جائے گا قانون اور کوئی حکم۔”ازمیر نے محبت سے بھانجی کو دیکھا تھا۔

“ماما قانون بنانے ہی لگے ہیں تو ایک قانون میری مورے کے لیے بھی بنادیں بہت سختیاں کرتی ہیں مجھ پر۔”شانزے نے رفعت کو دیکھ کہا تھا۔

“مورے کی سختی میں بھی پیار ہوتا ہے، مگر تمھیں تو اپنے چاچا کی طرح من مانی کی عادت ہو گئی ہے۔ جب منع کیا تھا چاچو کے کمرے سے مت نکلنا تو کیوں نکلیں؟”رفعت نے اسے ڈپٹا تھا۔

وہ منہ بنانے لگی تھی۔ کاظم خانزادہ لب بھینچ گیا تھا بھابھی اس سے شدید ناراض ہے یہ اس کے ایک جملے سے پتہ لگ گیا تھا۔

“شانے، کمرے میں جاؤ۔ لنچ ساتھ کریں گے تب تک میری آپا کی شکایات کی فہرست تیار کر لو۔ قانون بنائے گا تمھارا ماما۔ کسی کی مجال نہیں ہوسکتی میری بھانجی کو تنگ کرے اس پر حکم چلائے۔”ازمیر نے کہا تھا اور رفعت بھائی کو ناراضی سے دیکھنے لگی تھی۔

“میری مورے کسی نہیں ہیں ماما، بس بابا جیسی سڑیل ہوتی جا رہی ہیں۔ اس لیے قانون بنانے کی ضرورت تو ہے۔”شانزے ہنس کر بولی اور کمرے میں چلی گئی۔

کاظم خانزادہ ہی باپ اور لالہ کو سڑیل اور کھڑوس کہتا تھا اور یہی وہ بھی سیکھ گئی تھی۔

“بھابھی، آپ کا غصہ اور ناراضی بجا ہے لیکن آپ پریشان نہ ہوں۔ شانزے پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔”کاظم خانزادہ نے رفعت سے کہا تھا۔

“بھروسہ ہے تم پر مجھے کاظ، لیکن سوال اٹھے تو اذیت جواب دینے اور صحیح ثابت ہوجانے کے بعد بھی رہتی ہے اس لیے میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کے کورے ذہن پر وہ سوال نقش ہوں کہ جن کے جواب دیتے اس کا بچپنا ہی کھو جائے۔”رفعت کے آنسو گرنے لگے تھے۔ ازمیر نے آگے بڑھ کر بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔

“جب ہم نے کبھی کسی کی عورت پر اچھی بری نظر نہیں ڈالی تو ہماری عزتیں بھی محفوظ رہیں گی۔شانزے کو بیٹی کہا ہے تو ایک ساتھ دینے والا شفیق باپ بن کر دکھاؤں گا، شانزے پر آنچ بھی نہیں آئے گی اور نہ ہی اس کا بچپنا کسی سازش یا روایت کی نذر ہوگا یہ آپ سے میرا وعدہ ہے۔”کاظم خانزادہ نے کہا تھا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔

“آپ کے دیور کے سارے کس بل آپ کی ہونے والی دیورانی نے نکال دیے ہیں۔”ازمیر نے بہن کو پریشان دیکھ شرارت سے کہا تھا۔

“کیا کوئی امید ہے ازمیر، کیا تیرے سسرالی مان جائیں گے؟”رفعت نے آنسو پونچھتے ہوئے سوال کیا تھا۔

“لالہ نے جتنا سہا ہے اس پر تو لگتا ہے رب کرم ضرور کرے گا۔”ازمیر یقین سے بولا تھا۔

“اللہ کرے کہ مان جائیں، کاظم کی مجھے بہت فکر ہوتی ہے، کیسا شاندار پٹھان تھا، اب تو نہ رنگت رہی اور نہ ہی اس کا خالص انداز۔ جس طرح میری شانزے کی ہمیشہ ڈھال بنا ہے میرے دل سے ہمیشہ دعائیں ہی نکلتی ہیں اور نشاط نے جتنا کچھ سہا ہے میری دعا ہے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کے ذریعے بہتر صلہ ملے تاکہ عالیانہ کی ہر سازش اور مکاری رب کے فیصلے سے ہار جائے۔”رفعت نے کہا تھا۔

اس نے بھی کاظم کو تڑپتے دیکھا تھا، ایک ایک کی منتیں کرتے دیکھا تھا اور وہ اس کے لیے کچھ کر نہیں سکتی تھی سوائے دعا کے جس میں اس نے کمی نہیں چھوڑی تھی۔

“انشاءاللہ آپا، کاظ لالہ کی زندگی میں بھی من چاہی بہاریں اتریں گی آپ دعا کرتی رہیں اور جا کر اپنی لاڈلی کو بھی دیکھیں۔ زیادہ سختی نہ کریں میں اور لالہ سب سنبھال لیں گے۔ شانزے کا نکاح ایک باحیا اور باکردار مرد سے ہوگا انشاءاللہ۔”ازمیر بہن کے سر پر ہاتھ رکھتا نکلتا چلا گیا تھا۔

وہ دونوں آگے پیچھے ڈائننگ ہال میں پہنچے جہاں شاہ محل کے تینوں مردوں کے ساتھ خانزادہ حویلی اور خان حویلی کے مرد موجود تھے اور خواتین میں صرف فاطمہ شاہ بیٹھی تھیں۔

ازمیر کرسی پر بیٹھ گیا جبکہ کاظم خانزادہ بھی اپنی مخصوص چیئر پر بیٹھ گیا تھا۔ ان دونوں کے پہنچنے کے بعد سب نے کھانا، کھانا شروع کیا تھا۔

سب بہت خاموشی سے کھا رہے تھے۔ ماحول کی افسردگی اور سردمہری سب سے زیادہ کاظم خانزادہ کو کھل رہی تھی۔

نوالہ اس کے حلق میں اٹکا تھا اور ساتھ بیٹھے احسان شاہ نے اس کی پیٹھ سہلائی تھی۔

وہ حیرانی سے انھیں دیکھنے لگا تھا۔

“معاف کر دیا ہے اسی لیے یہاں بیٹھے ہیں۔”احسان شاہ مسکرائے اور پانی کا گلاس بھر کر اس کے سامنے رکھ دیا۔

“جو ہوا ہے ایسا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ نشاط سے محبت تھی، اور میری محبت اس کے گلے کا طوق بن جائے گی اندازہ نہیں تھا۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آپ سب نے ہماری مہمان نوازی قبول کی بےحد شکریہ۔نشاط کے ساتھ جو ہوا ہے اس کا ذمہ دار میں ہی ہوں ہو سکے تو معاف کردیجیے گا۔ اور یقین رکھیں، عالیانہ کسی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ ناشتے کے بعد میں عالیانہ کی ہر سازش کو ناکام بنا دوں گا۔”کاظم خانزادہ کہہ کے اٹھا تھا اور آگے بڑھا تھا، بےدھیانی میں گرتا کہ؛

“تم ناشتہ کرو ازمیر۔ منہ کے بل گر گیا ہوں اس سے زیادہ اپنا کیا نقصان کروں گا۔ نہیں کر رہا خودکشی۔اب مروں گا نہیں۔ ناشتے سے فری ہوکر میرے کمرے میں آنا، بہتر سمجھو تو تم بھی آ جانا عرشمان، تمھارے سامنے ہی عالیانہ کی سازش کو ناکارہ بناؤں گا تاکہ تم تسلی کر کے، نشاط کی پرواہ کرنے والوں کو اطمینان دلا دینا۔”کرسی کھسکنے کی آواز پر کاظم خانزادہ سنبھل کے بولا تھا اور نکلتا چلا گیا تھا۔

ان سب نے بڑی بے دلی سے ناشتہ ختم کیا تھا اور جانے کے لیے اٹھ گئے تھے۔

“عرشمان تم ابھی جا کر ریسٹ کر لو۔ جیسے ہی لالہ کی کال آئے گی میں تمھیں بھی بلا لوں گا۔”ازمیر نے کہا تھا کیونکہ ازمیر جانتا تھا کہ کاظم خانزادہ کو اپنا لیپ ٹاپ اتنی آسانی سے ملے گا نہیں اور ملنے کے بعد بھی عالیانہ کی سازش کو ناکام کرنا آسان نہیں ہوگا۔

 مردان خانے میں پہنچ کر ازمیر کو ان سب کی واپسی کا پتہ چلا تھا۔

“داجان! اگر ٹھہر جاتے آپ، تو ہمیں بہت اچھا لگتا۔”ملازم نے قہوہ پیش کیا تھا اور ازمیر سنجیدگی سے بولا تھا۔

“ہادیہ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے ہمارا جانا ضروری ہے۔ ہادیہ کی بی جان ہی اسے سنبھال سکتی ہیں۔ تم بےفکر رہو۔ جلد پھر آئیں گے۔”عثمان شاہ نے بات کو باوزن کرنے کے لیے کہا تھا۔

ازمیر کچھ کہتا کہ باپ کے اشارے پر چپ کر گیا اور وہاں سے نکل کر کچھ سوچ کر اس نے تمثیل کو کال ملائی تھی۔

“شاہ جی! تمھاری فیملی واپس جا رہی ہے۔ کاظ لالہ کا نکاح آج ہی ہوگا۔ عالیانہ سے نہیں برادری کی کسی لڑکی سے یا ہو سکتا ہے لالہ کی بچپن کی منگ سے کہ شادی ختم کرنے کا اعلان بدنامی کا باعث بنے گا۔ مگر یہاں جو کچھ ہوگیا ہے اس کے بعد تمھاری فیملی کو روکا نہیں جا رہا کہ داجان نے درست کہا ہے کہ؛ زیادہ لچک آزمائی جائے تو بھی ڈال ٹوٹ جاتی ہے اس لیے تمھارے خاندان کا زیادہ ظرف نہیں آزمایا جا رہا۔ تم آؤ یہاں اور واپس جانا چاہو تو تم بھی چلےجاؤ۔ انثی کو بھی ساتھ بھیجنا ہے تو بھیج دو۔”ازمیر نے اسے عالیانہ کی سازش کا مختصر بتا کے معافی تلافی اور واپسی کا فیصلہ بتا دیا تھا۔

اس نے یہی کہا تھا نکاح آج ہوگا اور کچھ آپشنز بھی سامنے رکھ گیا تھا یہ نہیں بتایا تھا کہ زوہیب خانزادہ نے نشاط کا رشتہ مانگنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ ہر حال میں اپنے بھائی کی شادی نشاط سے کروا کر ہی دم لیں گے۔

“اپنا میں داجان سے پوچھ کے بتاتا ہوں کہ مجھے ٹھہرنا ہے کہ جانا ہے اور انثی کے لیے جو تمھاری مورے اور بابا کا  فیصلہ ہے وہ بتا دو۔ انثی تمھارے رشتوں کا مان رکھے گی۔ وہی کرے گی جس میں تمھاری عزت ہو۔ تمھارا سر نہ جھکے اور نہ تمھارے رشتوں میں دڑاڑ آئے۔”تمثیل نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا تھا۔ وہ احسن سے بات کر کے فارغ ہی ہوا تھا جب ازمیر کی کال آئی۔

“مورے کے میکے کی عزت کی بات ہے اس لیے گزارش ہے میری کہ انثی کو ساتھ نہ لے جاؤ، ورنہ مورے کو مہمانوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا، ہمارے یہاں نکاح کے بعد لڑکی سسرال کے مطابق چلتی ہے اور انثی کی واپسی غیربرادری اور مختلف رواجوں کی تفریق کو ہوا دینے اور طنز کا موقع فراہم کرے گی۔”ازمیر نے جواباً کہا تھا۔

“ٹھیک ہے۔ داجان سے بات کر کے بتاتا ہوں۔ کیونکہ انثی کو لے جانے یا نہ لے جانے کا فیصلہ وہی کریں گے۔”تمثیل نے کہا تھا اور ازمیر لائن کاٹتا بیٹھک میں واپس پہنچا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔

“ازمیر ناراض ہو کر نہیں جا رہے۔ ابھی چوٹ تازہ ہے تو دونوں ہی خاندان ایک دوسرے سے بات کرتے بھی ہچکچاتے ہی رہیں گے۔ ہم یہاں جلد آئیں گے۔تم زیادہ نہ سوچنا۔ تمھاراخاندان اب ہمارا خاندان ہے۔ عزت تمھاری یا میری نہیں، ہماری ہے۔ ہماری روایت کے مطابق نکاح کے بعد رخصتی سے قبل ملنا ملانا، تقریبات میں شریک ہونا پسندیدہ نہیں ہے۔ لیکن  تمھاری خاندانی روایات کی ہم جہاں تک ممکن ہو سکا پاسداری کریں گے۔ اس لیے انثی کو ساتھ نہیں لے جا رہے، تمثیل بھی ٹھہرے گا تاکہ جب تمھاری مورے انثی کو جانے کی اجازت دیں تو انثی بھائی کے ساتھ سعودیہ پہنچ جائے۔”عثمان شاہ نے پوتی کے منکوح کو مخاطب کر کے رسانیت سے کہا تھا۔

ازمیر شکریہ کہہ گیا تھا کہ زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

“سعود بیٹا! تمھاری بہو تمھاری حویلی میں ہے۔ تمثیل بھی وہیں ہے۔ ہم نے تمثیل کو کچھ نہیں بتایا۔ عرش نے بھائی کو کچھ بتایا ہو یا احسن نے تو فی الحال میرے علم میں نہیں ہے۔ ہم واپس جا رہے ہیں لیکن انثی کو ساتھ نہیں لے جا رہے۔ آپ اسے یہاں لانا چاہیں تو آپ کی مرضی ہے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تمثیل کو اسی لیے ساتھ نہیں لے جا رہے۔ رات تک یا کل جب آپ کی اجازت ہوگی انثی کو تمثیل سعودیہ لے کر پہنچ جائے گا۔”عثمان شاہ نے سعود خان سے کہا تھا۔

“بہت شکریہ داجان۔ میں آپ سے اپنی بہو کے لیے اجازت لینے ہی والا تھا۔”سعودخان نے کہا تھا۔

“رشتے بنانا آسان ہوتا ہے نبھانا مشکل ہوتا ہے۔ کبھی میں جھکوں گا کبھی تم جھک جانا۔ بچے غلطیاں کرتے ہیں۔ ہم بڑوں نے ہی تنکا تنکا کر کے بنائے آشیانوں کو بکھرنے سے بچانا ہوتا ہے۔”عثمان شاہ نے کہا تھا۔

“اور آپ سب عقیقے میں شریک ہوں گے تو ہمیں اچھا لگے گا۔ سارے گلے شکوے یہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ آپ لوگو کے ہم منتظر رہیں گے۔ آئیے گا ضرور۔”عثمان شاہ کھڑے ہو گئے تھے۔ اسی پل ان کا موبائل بجا تھا۔

“تمثیل ہے۔ تم بات کر لو احسان اور ہمارے جانے اور انثی کے رکنے کا بتا دینا۔”اپنا موبائل عثمان شاہ نے بیٹے کو دیتے ہوئے کہا تھا۔ احسان شاہ موبائل لےکے اٹھ کے چلے گئے تھے۔

“داجان اور آپ سب ٹھہر جاتے کہ یہاں نکاح تو آج ہی ہوگا۔ مگر اتنا کچھ ہونے کے بعد وہ لوگ روک نہیں رہے۔ جب اتنا برداشت کیا ہے تو تقریب میں بھی شریک ہو جائیں۔”تمثیل داجان کا فیصلہ سن کے بولا تھا۔

“میں ایک لمحہ نہیں رکنا چاہتا اور انثی کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتا اور تم داجان کے ہمنوا بن کے الٹا ٹھہرنے کا بھی کہہ رہے ہو۔”احسان شاہ غصہ سے بولے تھے۔

“چچا جان، جیسے آپ سب کو ٹھیک لگے کیجیے، مجھے عرش نے جتنا بتایا ہے اس کے بعد میں بھی آپ سب سے صرف معافی ہی مانگ سکتا ہوں۔”تمثیل چچا کے غصے پر دھیمے سے بولا۔

“چپ کر جاؤ بس، سب تمھاری ہی وجہ سے ہو رہا ہے۔ خود بھی پھنسے ہو اور بہن کو بھی پھنسا دیا ہے، یہاں جو کچھ ہوا ہے صرف انثی کے مستقبل کا سوچ کر چپ رہا ہوں ورنہ بتاتا سب کو کہ اتنے بھی ہم کمزور نہیں ہیں اور یاد رکھنا تمثیل، جو سلوک نشاط کے ساتھ ہوا ہے اس کا نکتہ برابر بھی بدتہذیبی اور بدتمیزی کا مظاہرہ میری انثی کے ساتھ ہوا تو میں کسی کو بھی چھوڑوں گا نہیں۔”احسان شاہ کب سے غصہ دبائے ہوئے تھے سب تمثیل پر ہی نکل گیا تھا۔

تمثیل چچا کی سخت صلواتیں سن کر بھی چپ ہی رہا تھا۔

 “میری معصوم گڑیا کو جانے کہاں پھنسا دیا ہے۔ ازمیر کو غصہ نہیں آتا بکواس کرتے رہے ہو اور وہ دھڑا دھڑ گولیاں چلا رہا ہے۔ اور ہم صرف تماش بین بن کر رہ گئے۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے انثی آج ہی واپس جائے گی تم جیسے مجھے تسلیاں دیتے ہو اب اپنے دوست کو پچکارو اور انثی کو ہمارے ساتھ بھیجو۔ سب سن کر بچی ڈر جائے گی، ابھی اس کی طبعیت سنبھلی نہیں ہے اسے زرا بھی کچھ ہوا تمھیں دس جوتے لگاؤں گا۔”احسان شاہ غصے سے کہتے چلے گئے تھے۔ تمثیل نے خاموشی سے چچا کا غصہ برداشت کیا تھا۔

“بہت بہتر چچاجان، میں ازمیر سے کہتا ہوں۔ انثی کی واپسی سب کے ساتھ ہی ہوگی۔”تمثیل چچا کے چپ ہونے پر بولا تھا اور احسان شاہ لائن کاٹ گئے تھے۔

“آپ بھاجان پر کیوں غصہ ہو رہے تھے، وہ پریشان بھی ہیں اور ان کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں ہے۔”عرشمان اٹھ کر چچا کے پاس پہنچا تھا۔

“اس مصیبت میں پھنسایا بھی تو تمھارے بھاجان نے ہی ہے، خود بھی نکاح کر کے بیٹھ گیا میری بچی کو بھی پھنسا دیا۔”احسان شاہ نے بھتیجے کو گھرکا تھا۔

“کچھ بھی کہیں آپ، بھابھی اچھی ہیں اور ازمیر لالہ بھی… اب ان کا رواج ہی ٹھاہ ٹھاہ سے شروع ہوتا ہے تو ہم کیا ہی کر سکتے ہیں۔ سوائے انتظار کے کہ کب ہماری کیوٹو بھی ٹھاہ ٹھاہ کرنا سیکھے گی۔”عرشمان چچا کو پانی دیتے ہوئے بولا تھا۔

“اب بڑا مذاق سوجھ رہا ہے جب ازمیر نے گولی چلائی تب کیسے بلی کے بلونگڑے کی طرح میرے سینے میں منہ چھپا گئے تھے۔”احسان شاہ نے پانی کا گلاس لیتے ہوئے اسے گھورا تھا اور وہ ہنسنے لگا تھا۔

“ڈر اپنی جگہ چچاجان، مگر بور سی لائف کچھ تھرل میں آ گئی ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ ہماری انثی ویسے لگے گی کیسی جب سخت گیر سردارنی بنے گی اور گولیاں چلائے گی۔”عرشمان ٹھوڑی پر انگلی رکھتا، چچا کو دیکھ رہا تھا اور وہ اس کے سر پر چپت لگا گئے تھے۔

اسی پل عثمان شاہ کمرے میں پہنچے تھے اور عرشمان نے انھیں احسان شاہ کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا اور عثمان شاہ بیٹے کو ناگواری سے دیکھنے لگے تھے۔

All Rights Reserved — Author Sadia Abid

انثی  کی آنکھ دستک پر کھلی تھی، اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے جمائی روک کر دستک دینے والے کو اندر آنے کی اجازت دی تھی اور اگلے ہی سیکنڈ دروازہ کھول کر عزت اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔

“اسلام علیکم عزت آپا۔”انثی اسے دیکھتے ہی سلام کرتی بیڈ سے اتری تھی۔

“وعلیکم اسلام۔ معذرت مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم سو رہی ہو۔ نفیسہ نے بتایا تھا کہ جاگ گئی ہو۔”عزت شرمندہ سی بولی۔

“جاگ ہی رہی تھی، پھر آنکھ لگ گئی۔آپ بیٹھیے پلیز۔”انثی نے کہا تھا اور اسے دیکھتے ہوئے ٹھٹھک گئی تھی۔

“اف اللہ! عزت آپا آپ تو بہت بیوٹیفل لگ رہی ہیں۔”عزت کو دیکھتے ہی وہ بےساختہ بولی تھی اور عزت جھینپ گئی تھی۔

وہ سجی سنوری بہت حسین لگ رہی تھی۔

“شکریہ! میں، بتانے آئی تھی کہ ہم جا رہے ہیں۔ دونوں بچیاں اور تینوں لڑکے تمھارے ساتھ ہی جائیں گے۔ تمھیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے کہ میرو نے تمھارے ساتھ جانے کی ضد کی تو چاچا نے اجازت دے دی ہے۔”عزت نے کمرے میں آنے کی وجہ کہی تھی۔

“مجھے تو بالکل بھی مسئلہ نہیں ہوگا۔ مجھے تو خوشی ہوگی۔ تحریم اور میرو تو میری فرینڈز ہیں۔”انثی ترنت بولی تھی۔

یہ نہیں بتایا تھا کہ میرو کو ساتھ جانے کے لیے اس نے ہی منایا تھا۔

عزت مسکرائی تھی اور اس کی طبعیت پوچھنے لگی تھی۔

“ٹھیک ہوں، آپا۔”انثی اس کا ہاتھ تھام کر مسکرائی تھی۔

“میں آتی تمھارے پاس لیکن سو گئی تھی جاگی تو تیاری میں وقت لگ گیا۔ پھر آؤ گی تو ساتھ بیٹھیں گے۔ تم بولنا میں سنوں گی۔”عزت نے کہا تھا کہ رات سوئی نہیں تھی اس لیے ناشتہ کے بعد سو گئی تھی۔

مہہ جبین نے ملازمہ کے ذریعے اسے تیار ہونے کا پیغام بھیجا تھا اور وہ تیار ہو کر بھابھی کے پاس آ گئی تھی تاکہ اس سے مل کر جائے۔

“عزت آپا، میں اتنا بھی نہیں بولتی۔”انثی جھینپ کے بولی تھی۔

“ماشاءاللہ! بہت بولتی ہو اور ایسے ہی بولتی رہا کرو۔ میرے ازمیر کی زندگی بستی ہے تمھارے بولنے میں۔”عزت اس کا گال تھپک کے بولی تھی۔

 ازمیر نے اسے بتایا تھا کہ ایک لڑکی کی آواز سے محبت ہو گئی ہے۔ عزت واحد تھی جسے ازمیر نے انثی کا خود بتایا تھا اور کالج میں ہونے والی ملاقات کا بھی بتایا تھا۔ ازمیر اس کی بہت عزت کرتا تھا اور بھروسہ بھی بہت کرتا تھا اس لیے س نے بہن کو اپنی محبت کا امین بنایا تھا۔

والدین کو تو اس کے انداز سے پتہ لگ گیا تھا جبکہ تمثیل سے کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا اور کاظم سے کہہ نہیں سکتا تھا، اس لیے اس نے بہن کو اپنا رازدان بنایا تھا۔

عزت کی بات پر وہ سر جھکا گئی تھی اس کا چہرہ سرخ پڑا تھا کہ رات کی ازمیر کی حرکت یاد آ گئی تھی اس کا لمس جاگا تھا اور وہ لب کچلنے لگی تھی۔

اس سے بچنے کو ہی تو اس نے تمثیل کو کال کر کے کہا تھا کہ اس کے ساتھ جانا ہے کیونکہ وہ ازمیر سے کچھ کچھ ڈر گئی تھی۔

“یہ میری طرف سے تمھارے لیے تحفہ ہے۔ یہ میری مورے کے کنگن ہیں انھوں نے میرے لیے رکھے تھے اور مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ ازمیر پیارا ہے اور یہ میں تمھیں بھابھی بنا کے نہیں ازمیر کی دوست کی حیثیت سے دے رہی ہوں۔ ازمیر اپنی باتیں مجھ سے شیئر کرتا ہے اور اس کی محبت کے لیے میرے پاس دعا کے علاوہ کچھ بچتا ہے تو میرے مورے کی آخری نشانی۔ سدا خوش رہو۔ سہاگن رہو۔ ازمیر اس حویلی کی شان اور تم ازمیر کی جان ہو۔”عزت نے اسے کنگن پہناتے ہوئے جذباتیت و محبت جو ازمیر کے لیے تھی اسی شدت سے کہا تھا۔

انثی تو جھینپی جھینپی سی کھڑی تھی۔

“تھینک یو عزت آپا۔”انثی نے کہا تھا اور ہاتھ میں بینڈیج دیکھ پوچھا بھی تھا کہ ہاتھ میں کیا ہوا؟

“اچھا اب میں جاتی ہوں۔ تم کتنے بجے نکلو گی ملائکہ بھابھی کو بتا دینا تاکہ بچیوں کو ریڈی کر دیں اور میرو کا دھیان رکھنا بہت چلبلی ہے۔ تمھاری طرح۔”عزت چوڑی لگنے کا بتا کے کہتی شرارت سے ہنسی تھی اور انثی بھی اس کے ساتھ ہی ہنسنے لگی تھی۔

“آپ اپنی نظر اتار لیں اور صدقہ بھی دے دیجیے گا۔ آپ ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔”انثی بہت محبت سے بولی تھی اور عزت جھینپ سی گئی تھی۔

انثی نے اسے دیکھا تھا وہ پٹھانی فراک میں پٹھانی انداز میں سولہ سنگھار کیے غضب ڈھا رہی تھی اور اس کی آنکھیں دیکھ انثی چونکی تھی، اسے ازمیر یاد آ گیا تھا اور وہ نگاہ جھکاتی لب چبانے لگی تھی۔

عزت اسے خداحافظ کہتی کمرے سے نکل گئی تھی۔

“عزت۔”انثی کے کمرے سے نکل کے سیڑھیاں اترتی عزت اپنے نام کی پکار پر رک کے دیکھنے لگی تھی۔

“جی چاچی؟”وہ مہہ جبیں کو دیکھنے لگی تھی۔

“مورے کہنا شروع کر دو، مجھے اچھا لگے گا میرے سجاد کی دلہن مجھے مورے کہے۔”مہہ جبیں بہو کو دیکھتے ہوئے بولیں تھیں۔

عزت کا چہرہ لہو چھلکانے لگا تھا اور اسے کنفیوز ہوتے دیکھ مہہ جبیں ہنسی تھیں۔

“مورے ہی کہنا مجھے اب سے۔”وہ حسن کے تمام ہتھیاروں سے لیس بہو کو دیکھ مطمئن سی چھیڑ رہی تھیں۔

“چاچی ہی ٹھیک ہے، برسوں سے چاچی کہنے کی عادت ہے۔”عزت سر جھکائے منمنائی تھی۔

“عادات بدلنے میں حرج نہیں ہوتا، رشتہ بدل گیا ہے تو عادات بھی بدل لینی چاہیں، مورے کہنا مشکل لگے تو چاچی مورے کہنا شروع کر دو، جیسے راحت نے اپنی ساس کو چاچی مورے کہنا شروع کردیا ہے۔”مہہ جبیں نے کہا تھا اور عزت محض سر ہلا گئی تھی۔

“چائے کے لیے کہا ہے میں نے، بختو لا رہی ہے۔ وہ لے جاؤ۔”عزت پہلی سیڑھی پر کھڑی تھی اور مہہ جبین  آخری سیڑھی کے پاس کھڑی کہتیں، عزت کو چونکا گئی تھیں۔

“میرا چائے کا دل نہیں کر رہا ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے مجھے چائے زیادہ خاص پسند نہیں ہے۔”عزت بولی تھی۔

“چائے کمرے میں سجاد کے لیے لے جاؤ۔”مہہ جبیں نے کہا تھا اور عزت کے چہرے پر گھبراہٹ اتر آئی تھی۔

“سجاد کمرے میں ہے، ایک گھنٹہ تک جانے کا کہہ رہا تھا۔ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں لگی مجھے اس لیے میں نے کہا مردان خانے میں جانے کی بجائے کمرے میں آرام کر لے۔ سجاد کو معاف کر کے آگے بڑھو اور اس کا خیال رکھو اور اپنا خیال رکھواؤ، سجاد کی طرح کم عقلی کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔”مہہ جبیں بہو کی گھبراہٹ محسوس کرتیں، تفصیل سے بولیں، ساتھ ہی ہدایت بھی دے گئیں۔

عزت تو یکدم ہی چپ کی چپ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔ بہو کی گھبراہٹ دیکھ مہہ جبین کچھ کہتیں کہ بختو کے آنے پر مڑی تھیں۔

“بختو، چائے عزت کو دے دو اور جا کے کھانے کا انتظام کرو، ملائکہ سے پوچھ لینا کیا بنے گا، سب جا رہے ہیں حویلی میں ہم دونوں (مہہ جبین اور ملائکہ) ہی دوپہر کا کھانا کھائیں گی۔ انثی سے پوچھ لینا اگر اسے کچھ کھانا ہو ورنہ تو بھابھی خانم سے بات ہوئی ہے، زہرا بھابھی نے اس کے لیے اور عزت کے لیے دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا ہوا ہے۔”مہہ جبین کہہ کے چلی گئی تھیں۔

بختو سے عزت ٹرے لیتی، ناچار کمرے کی جانب بڑھی تھی کہ وہ اب نئے رشتے سے فرار حاصل نہیں کر سکتی تھی اور مہہ جبین خان اسے موقع بھی نہیں دے رہی تھیں۔ جانتی تھیں کہ بہو نے وقت مانگا ہے اور بیٹا شرمندہ ہے اس لیے وہ دونوں پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔

ناشتہ پر بھی بیٹے کو بلوا کے کمرے میں بھیجا تھا اور بینڈیج کے لیے بھی انھوں نے ہی مجبور کیا تھا اور اب بھی بیٹے کو کمرے میں یہ کہہ کے بھیجا تھا کہ جا کے دیکھے عزت کہاں رہ گئی ہے۔

سجاد خان بچہ تو تھا نہیں کہ ماں کے اشاروں کو سمجھ نہ پاتا اس لیے بناء بحث کے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا، جبکہ جانے کے لیے گاڑی تیار تھی اور وہ اسے لے جانے کو ہی آیا تھا۔

بیٹے کو بھیجنے کے بعد اب انھوں نے بہو کو بھی جھوٹ کہہ کے ہی پیچھے سے روانہ کیا تھا۔

ماں تھیں یہی چاہتی تھیں کہ ان کے بیٹے کی بےرونق زندگی میں اتری بہار غلط فہمی و انا کی نذر نہ ہو۔

عزت معصوم ہے، کہ اس کا کبھی کسی مرد سے پالا ہی نہیں پڑا تھا اس لیے وہ کوئی کم عقلی کر کے اپنے لیے عمر بھر کے خسارے چنتی اس سے قبل ہی وہ اس کے لیے ڈھال بن گئی تھیں کہ عزت سے انھیں کبھی مسئلہ نہیں رہا تھا اور عزت کو بسا دیکھ کے ازمیر نے مطمئن ہونا تھا اور ازمیر کا ان پر بہت بڑا احسان تھا، ازمیر نے ان کی بیٹی کے لیے جس ہیرے جیسے شخص کا انتخاب کیا تھا وہ ازمیر کی مشکور تھیں اس لیے وہ ایک احسان کے بدلے احسان کرنا چاہتی تھیں اور اس سے اچھا موقع انھیں نہیں مل سکتا تھا کہ ازمیر کے لیے اس کی آپا بہت معنی رکھتی ہے یہ وہ جانتی تھیں۔

 اسی لیے انھوں نے بچوں کے تمثیل کے ساتھ جانے کی بھی حمایت کی تھی تاکہ دونوں کو کچھ وقت اکیلے ساتھ گزارنے کا موقع ملے تو گلے شکوے دور ہو جائیں۔

بہو کو انھوں نے بہترین جوڑا اور زیور پہننے کو دیا تھا اور جتنی وہ حسین لگ رہی تھی، انھیں یقین تھا کہ ان کا بیٹا جلد ہی معافی تلافی کر لے گا۔

عزت نے کبھی تیاری نہیں کی تھی، راحت کے نکاح کے بعد اس کی شادی پر تیار ہوئی تھی لیکن میک اپ نہیں کیا تھا اور زیور بھی بہت مختصر پہنا تھا۔

اب سج سنور کر اس کی چھب ہی نرالی تھی، ان کی نگاہ ٹھٹھک کے ٹھہر نہیں پا رہی تھی تو ان کے بیٹے پر حسن کا جادو نہیں چلے گا یہ خیال بھی نہیں گزرا تھا اس لیے وہ بہو کو دیکھ کے مطمئن تھیں اور اسے بھیج کر اچھے نتائج کے لیے پُرامید بھی۔

عزت کمرے کے باہر کھڑی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے، واپس جا نہیں سکتی تھی اور اندر جانے کی ہمت نہ تھی۔

مگر وہ ایسے دروازے کے باہر بھی تو کھڑی نہیں رہ سکتی تھی اس لیے اس نے ایک ہاتھ میں ٹرے سنبھال کے زخمی ہاتھ سے دستک دی تھی۔

All Rights Reserved — Author Sadia Abid

To Be Continued… 🤍

❤️ احسن اور منیٰ (AhMin) کی کیمسٹری کیسی لگی؟

🤍 انثیٰ اور عزت کی گپ شپ کیسی لگی؟

☕ عزت، سجاد خان کے لیے چائے لے کر جا رہی ہے… آگے کیا ہوگا؟

✨ ازمیر، تمثیل، احسان شاہ اور باقی کرداروں کے بارے میں بھی اپنی رائے ضرور دیں۔

💬 اس قسط پر صرف ایک ایموجی یا “قسط دینے کا شکریہ” لکھنے کے بجائے اپنے دل کی بات ضرور شیئر کریں۔ آپ کے تفصیلی تاثرات میرے لیے بے حد قیمتی ہیں، کیونکہ یہ قسط میں نے بہت دل سے لکھی ہے۔

یہ قسط دراصل اتوار کو آنی تھی، لیکن آپ سب کی مسلسل ریکویسٹس، کمنٹس اور ان باکس میسجز کو دیکھتے ہوئے میں نے ٹارگٹ مکمل نہ ہونے کے باوجود آج ہی پوسٹ کر دی۔ اس قسط پر کوئی ٹارگٹ نہیں رکھا جا رہا، بس آپ کی بھرپور سپورٹ چاہیے۔ ❤️

اگر آپ لائک، کمنٹ، شیئر اور سیو کے ذریعے مسلسل ساتھ دیتے رہیں گے تو قسطیں بھی بغیر کسی لمبے وقفے کے باقاعدگی سے آتی رہیں گی۔ آپ کی عملی سپورٹ ہی اس ناول کے سفر کو رواں رکھتی ہے۔

🌸🌸 اللہ آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے، دوسروں کی محنت کی قدر کرنے، اسے سراہنے اور حوصلہ افزائی کرنے والا بنائے۔ آمین۔ 🤍

گڈ نائٹ! 🌙

#ہے_ہجر_درمیاں_جاناں #قسط200 #SadiaAbid #UrduNovel #AhMin #Azmeer #Tamseel #EhsanShah #Unsa #NovelReaders #FamilyNovel #RomanceNovel #HappyReading

Loading