اگر آپ خود کو ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے دائمی مرض سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ایک خطے کی مخصوص غذا کا استعمال اور ورزش کو عادت بنا لیں۔
امریکا کے ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ Mediterranean ڈائٹ اور ورزش کا امتزاج ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔
خیال رہے کہ اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک کے شہریوں کی یہ عام غذا پھلوں، سبزیوں، اجناس، گریوں، مچھلی، زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے (سرخ گوشت کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے)۔
اس سے قبل بھی مختلف تحقیقی رپورٹس میں اس غذائی پلان کو صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے جبکہ جسمانی ورم میں کمی آتی ہے۔
اس تحقیق میں 4746 افراد کو شامل کیا گیا تھا تاکہ Mediterranean ڈائٹ کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔
ان افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو روزانہ کی بنیاد پر 600 کیلوریز پر مشتمل خوراک استعمال کرائی گئی، تیز چہل قدمی جیسی معتدل جسمانی سرگرمیوں کا حصہ بنایا گیا جبکہ جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے معاونت فراہم کی گئی۔
دوسرے گروپ کو بھی Mediterranean ڈائٹ کا استعمال کرایا گیا مگر مقدار کو محدود نہیں رکھا گیا جبکہ ورزش کرنے کی ہدایت بھی نہیں کی گئی۔
یہ سب افراد 55 سے 75 سال کی عمر کے تھے اور زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کے شکار تھے، مگر ذیابیطس ٹائپ 2 سے محفوظ تھے۔
ٹرائل کے بعد ان سب افراد کی صحت کا جائزہ 6 سال تک لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پہلے گروپ میں شامل افراد میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ دوسرے گروپ کے مقابلے میں 31 فیصد تک کم ہوگیا۔
اسی طرح ان کے جسمانی وزن میں بھی اوسطاً 3.3 کلوگرام کمی آئی جبکہ کمر کا گھیراؤ 3.6 سینٹی میٹر کم ہوگیا۔
دوسرے گروپ میں شامل افراد کے جسمانی وزن میں اوسطاً محض 0.6 کلوگرام کمی آئی۔
محققین نے بتایا کہ اگر آپ خوراک کی مقدار میں کمی اور جسمانی سرگرمیوں کو بڑھا لیں تو ذیابیطس ٹائپ 2 سے خود کو تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل Annals of Internal Medicine میں شائع ہوئے۔