رنگ روشنی اور آواز
قسط نمبر2
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ رنگ روشنی اور آواز) رنگ یا روشنی جسم کے کس حصے پر اثرانداز ہوتا ہے۔
رنگ اور روشنی سے علاج کے لئے الگ الگ رنگ معین ہیں، سر،گردن اور چہرے کے لیے نیلار نگ، سینے کے امراض کے لئے نارتھی، معدے کے امراض کے لئے زرد،
صنفی اعضاء اور ان کے امراض کے لئے جامنی رنگ عموماً تجویز کیا جاتا ہے۔ معالج اپنے تجربے اور صوابدید سے ان رنگوں میں دوسرے رنگ شامل کر کے بھی علاج کر سکتا ہے۔ دنیا بھر میں سائنس دانوں اور مخفی علوم کے ماہرین نے عرق ریزی سے رنگوں کا یہ خاکہ تیار کیا ہے۔ نیلی روشنی : – دماغی امراض ، ریڑھ کی بڈی، گردن کے مہروں میں خرابی
اور ڈپریشن ختم کرنے کے لیے۔ زرد روشنی نظام ہضم حبس ریاح آنتوں کی دق، پیچش، قبض، بواسیر، معدہ کا السر وغیرہ کے لیے۔
ایسے ممالک جو خط استوا سے دور واقع ہیں اور جہاں سورج کی بنفشی تابکاری شعائیں کم پہنچتی ہیں وہاں موسم سرما کے دوران اسٹرلیں اور ڈپریشن کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
مندرجہ بالا تصویر جرمنی کے ریب (Rehab) کلینک کی ہے جہاں ایسے مریضوں کو روزانہ 30 منٹ لائیٹ تھراپی کے ذریعے مصنوعی طور پر نیلی روشنی میں بٹھایا جاتا ہے تاکہ وہ الٹرا وائلٹ شعائیں اور وٹامن ڈی حاصل کر سکیں۔
پاکستان کے معروف روحانی اسکالر خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے بھی دماغی امراض اور ڈپریشن ختم کرنے کے لئے نیلی روشنی کا مراقبہ مفید بتایا ہے۔
نار می روشنی :- سینہ کے امراض کے لیے۔ سبز روشنی: ہائی بلڈ پر یشر اور خون کی حدت سے پیدا ہونے والے امراض مثلاً جلدی امراض، خارش، آتشک، سوزاک، چیپ وغیرہ کے لیے۔
سرخ روشنی:۔ لوبلڈ پریشر ، اینمیا، گٹھیا دل کا گھٹنا، دل کاڈو بنا، توانائی کا کم محسوس ہونا، بزدلی، مایوس کن خیالات، موت کا خوف، تیز آواز سے دماغ میں چوٹ محسوس ہونا، نروس بریک ڈاؤن وغیرہ کے لیے۔
جامنی روشنی ۔ مردوں کے جنسی امراض اور خواتین کے اندر رحم سے متعلق امراض کے لیے اور تولیدی صحت کی بہتری کے لیے۔
جسم کو مطلوبہ رنگ فراہم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک صاف بے رنگ شیشے کی بوتل لے کر اس میں صاف پانی بھر لیا جائے اور اسے بند کرے بوتل کی اوپری سطح پر بازار میں عام دستیاب ٹرانسپیرنٹ شیٹ لپیٹ کر 3 سے چار گھنٹے دھوپ میں رکھ دی جائے۔ اس شیٹ کو سیلو فین پیپر بھی کہا جاتا ہے جو مختلف رنگوں میں دستیاب ہے۔ مطلوبہ رنگ کی شیٹ بوتل پر لپیٹ کر بہ آسانی اس رنگ کا پانی تیار کیا جا سکتا ہے۔
رنگ اور روشنی کی طرح آواز بھی ہماری صحت کے لیے مفید ہو سکتی ہے، بشر طیکہ اسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔ اگر ہم خاطر خواہ معلومات حاصل کر کے موسیقی، آواز یا ساؤنڈ مثبت استعمال کریں تو اس سے صحت کی بحالی بھی ممکن ہے۔ مغرب میں آج کل اس نے ایک طریقہ علاج کی شکل اختیار کرلی ہے، جے میوزک تھراپی Music Therapyیا ساؤنڈ ہیلنگ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ کتاب Music For Sound Healing میوزک فار ساؤنڈ ہیلنگ کے مصنف ڈاکٹر اسٹیون بالپرن Steven Halpern کہتے ہیں کہ ہمارے جسم کا ذر وذرہ ہر مالیکیول، ہر Cell ہر پٹھا اور ہر گلینڈ ایک مخصوص انداز میں ارتعاش کو جذب اور خارج کرتا ہے۔ ہر آواز کی مخصوص فریکوئنسی ہوتی ہے۔ اس فریکوئنسی میں اگر نظم اور ترتیب ہے تو یہ آواز آدمی کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ آواز دائروں یا چکر کی صورت میں نشر ہوتی ۔ ہے۔ یہ دائرے جب کسی شخص کی اپنی فریکوئنسی سے ہم آہنگ ہوتے ہیں تو اسے متاثر کرتے ہیں۔ اس کا اثر انسان پرہی نہیں ہر ذی روح پر ہوتا ہے۔
پیٹریشیا ٹیلسکو Patricia Telescoنے کتاب Healer’s Handbook بیلارز ہینڈ بک میں اس حوالہ سے یوں روشنی ڈالی ہے کہ
ہلکی آوازوں سے ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے اور اس سے نظام ہاضمہ کو درست اور گرم مزاجی پر قابو کیا جا سکتا ہے
آج کل بہت سے ماہرین نفسیات اس تحقیق میں سر گرداں ہیں کہ آواز کے کون سے مختلف اسلوب کن بیماریوں کے لیے مفید ہیں۔ شاید وہ دن زیادہ دور نہیں جب یہ طریقہ علاج صحت بخشی کا ایک اہم ذریعہ بن جائے گا۔ اس ضمن میں ایک تحقیق میں ماہرین نے فطری مناظر اور چرند پرند کی آوازوں کو یکجا کیا ہے ان پر تجربات سے یہ انکشاف ہوا کہ بعض قدرتی آوازیں ہمارے ذہن کی برقی لہروں کو متحرک کر دیتی ہیں، جس کے ذریعہ ڈپریشن، اسٹریس، سردرد جیسے
امراض کا علاج ممکن ہی۔
2006ء کے جرنل آف ایڈوانس نرسنگ Nursing Journal of Advancedمیں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جو لوگ موسیقی سے تھوڑا بہت بھی شغف رکھتے ہیں وہ حساس تو ضرور ہوتے ہیں مگر درد کی شدت انہیں کم نقصان پہنچاتی ہے اور وہ ڈپریشن بھی کم مبتلا ہوتے ہیں۔
ماہرین نے چڑیوں کی چہچہاہٹ ، ہواؤں کی سنسناہٹ، سمندر کی لہروں کا شور وغیرہ پر مشتمل آوازوں کے ریکار ڈ بینا، تھیٹا، الفا اور ڈیلٹا ناموں سے تیار کیے ہیں جو انٹرنیٹ پر بآسانی دستیاب ہیں ، انہیں مریضوں کو سنایا جاتا ہے، جس وقت مریض ان آوازوں کو سنتے ہیں، اس دوران انہیں ایک خاص ماحول بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس میں کم روشنی، خاموشی اور نارمل ٹمپر بچر بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض ان آوازوں کو سننے سے ڈپریشن، ٹینشن، اسٹریس، مانگرین، اینگرائٹی اور دیگر ذہنی و نفسیاتی عوارض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجست ستمبر2022
![]()

