Daily Roshni News

سادات کیسے بنے 💚

سادات کیسے بنے 💚

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں تو سید کا تصور ہی نہیں تھا۔ اس دور میں ہاشمی، قریشی اور مطلبی خاندان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان قریش تھا۔ امر الہٰی سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو السید کا لقب ملا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعض تابعین رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے مطابق یَاسَیِّدُ لفظ یاسین کا ایک معنی ہے۔ تابعین کے اقوال ہیں کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :

وَاَنَا سَيِّدُ وَلَدِ اٰدَمَ وَلَا فَخْرَ (المستدرک، 2 : 660، رقم : 4189)’’ میں کل اولاد آدم کا سید ہوں۔ اور مجھے اس پر فخر نہیں‘‘ اس حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کو سید کہا۔

گویا اس کائنات میں پہلے سید تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ دوسری شخصیت جس کو سید کہا وہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

.

يَافَاطِمَةُ أَلَاتَرْضِيْنَ اَنَْتکُوْنِيْ سَيِّدَةِ نِسَاءِ

الْمُوْمِنِيْنَ اَوْسَيِّدَةِ هٰذِهِ الْاُمَّةِ.

اے فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ مومن عورتوں کی سردار ہوں یا اس امت کی سردار ہوں‘‘۔

۔

السید کا تیسرا لقب حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ

امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ یوں تین سید ہوئے۔

_

اب جو امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد سے ہونگے وہ بھی سید ہوگئے۔ یاد رکھ لیں سید حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نسب نے نہیں بنایا بلکہ سید فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے بنایا۔ حضرت فاطمہ سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اور شادیاں بھی ہوئیں، اولاد بھی ہوئی، حنفیہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے مگر حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بغیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو اولاد ہوئی وہ سید نہیں بنی، اگر سید علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے نسب سے بنتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساری اولاد سید ہوتی۔

لہذا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے متعین کردیا تھا کہ سید حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے نسب سے بنے گا وہ نسب پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف نہیں بلکہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے گا۔ لہذا امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد سید ہوئی خواہ امام حسن سے یا امام حسین رضی اللہ عنہما سے۔

 چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب نجران کا وفد تیاری کرکے مباہلہ کے لئے آیا تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا جلال اور شہزادے حسن و حسین، سیدہ فاطمۃ الزہراء اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم کو دیکھ کر ان کے بڑے سربراہ نے اپنے عیسائیوں کے وفد کو روک لیا اور کہا اے گروہ انصار!

’’آج میں وہ چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر وہ اپنی زبان سے یہ کہہ دیں کہ اے اللہ یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹادے تو پہاڑ ہٹ جائیں گے۔ اے میرے عیسائی بھائیو! خدا کے لئے آگے نہ بڑھو اگر اس مباہلہ میں انہوں نے بددعا کردی اور ان کے منہ سے اٰمین نکل گیا تو خدا کی قسم قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی نہیں رہے گا، عیسائیوں کی نسلیں ختم ہوجائیں گی۔

یہ سوچ کر نصاریٰ کا وہ وفد وہیں سے واپس پلٹ گیا اور انہوں نے توبہ کرلی اور کہنے لگے کہ ہم مباہلہ سے تائب ہوکر اپنا چیلنج واپس لیتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے مذہب پر رہیں اور ہم اپنے مذہب پر رہتے ہیں‘‘۔ (التفسیر المظہری، 1، 2 : 61)

آیت مباہلہ میں غور طلب بات یہ ہے کہ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ میں عورتوں کا ذکر ہوا ہے لیکن مباہلہ میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے صرف حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو بلایا کسی اور کو نہیں۔ مقصود یہ تھا کہ قیامت تک میری نسل حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے چلنی ہے سیدہ فاطمہ نہر کوثر اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ آیت کریمہ میں وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ اپنی جانوں اور تمہاری جانوں کا ذکر آیا لیکن مباہلہ میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی جان میں شامل کیا۔ اس لئے دوسرے مقام پر فرمایا : عَلِیُّ مِنِّيْ وَاَنَامِنْهُ. علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔

۔

دوسرے مقام پر فرمایا : اَنْتَ مِنِّيْ وَاَنَا مِنْکَ

’’ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں‘‘۔

_

اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کو اپنا نفس قرار دیا۔ گویا سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، نسبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تعلق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عطاء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرکز و محور ہیں۔ ان سے جتنی محبت و ادب استوار کریں گے اتنا ہی ایمان پختہ ہوگا اور آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت بھی پختہ ہوگی۔

_

اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي

وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم ❤

اللھم ربّنا آمین..

Loading