Daily Roshni News

سال 2019 فروری کے مہینے میں مریخ پر موجود ناسا کی ایک روور کو مردہ ڈکلیئر کر دیا گیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سال 2019 فروری کے مہینے میں مریخ پر موجود ناسا کی ایک روور کو مردہ ڈکلیئر کر دیا گیا اور یہ ایک بہت افسوسناک بات تھی کہ پچھلے 14 سال سے مریخ کے اوپر Meridiani Planum میدان میں سرخ سیارے کی کھوج کرنے والی اپرچونٹی روور ہمیشہ کی نیند سو گئی۔

 اور اس کے پیچھے تھا مریخ کے اوپر ایک گلوبل طوفان یہ طوفان کسی تابکاری کا طوفان نہیں تھا بلکہ یہ طوفان مٹی اور گرد و غبار کا تھا۔ تاریخی ڈیٹا کے مطابق ہر چھ سے آٹھ سال کے درمیان مریخ کی سطح پر ایک بڑا طوفان آتا ہے اور آخری بار یہ طوفان 2018 میں آیا جس کی زد میں اپرچونٹی روور کے سولر پینلز آئے، اس کی پاور انتہائی کم ہو گئی جس کی وجہ سے انجینئرز نے اس روور کو سیف موڈ کے اندر ڈال دیا لیکن اس کی پاور اتنی کم ہو چکی تھی کہ وہ فروری 2019 میں آخری کوشش تک بھی دوبارہ جاگ نہ سکی۔

 مریخ کی سطح کے اوپر آنے والا  2018 کا طوفان تقریباً مئی کے مہینے میں شروع ہوا اور جولائی کے مہینے تک جاری رہا اور جیسا کہ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ مکمل طور پر مریخ کی سطح کو اس نے ڈھانپ دیا اور مریخ ایک گرد و غبار کا گولا نظر آنے لگا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ مریخ کے اوپر اس طرح کا طوفان آئے۔ اس سے پہلے 1971 میں Mariner 9 ایک آربٹر تھا جو پہلی بار کسی دوسرے سیارے کے مدار میں جانے والا آربٹر تھا،  جب وہاں پہنچا تو اس کو بھی اس طرح کے ایک طوفان نے ویلکم کیا اور مریخ کی سطح بالکل گرد و غبار سے بھری ہوئی تھی اور کسی بھی قسم کا کوئی فیچر نظر نہیں آرہا تھا سوائے سب سے بڑے پہاڑ Mount Olympus کے۔

 اس کے بعد 1977 کے اندر Viking (1 &2) لینڈر اور ایک آربٹر گیا ان کے جانے کے چند مہینے کے بعد ہی یہ طوفان دوبارہ شروع ہو گیا اور اس وقت بھی ایسا ہی ہوا کہ مریخ کی فضاء کو آئرن اکسائیڈ نے بھر دیا جس سے مریخ پھر سے بھورے رنگ کا گولا بن گیا۔

اس کے بعد 2001 میں ہبل دوربین اور مارس گلوبل سرویر (  آربٹر )  نے دوبارہ اس طرح کا بڑا طوفان دیکھا جس نے حیران کن طور پر مریخ کی سطح کا ٹمپریچر 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا، جس کی وجہ وہ تین مائیکرو میٹر کے لگ بھگ سائز کے پارٹیکلز تھے جن سے مریخ کی فضا بھر گئی اور اس نے سورج کی روشنی اور حرارت کو ٹریپ کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے مریخ کا درجہ حرارت 30 ڈگری تک پہنچ گیا۔

اس کے بعد 2007 وہ پہلا طوفان تھا، جس کا اپرچونٹی روور  کو سامنا کرنا پڑا ۔ چونکہ یہ روور صرف سولر پینلز ہی استعمال کرتی تھی اس کے پاس کوئی نیوکلیئر سورس نہیں تھا تو 2007 اپرچونٹی روور  کے لیے بہت مشکل گزرا بہت مشکل سے اس نے جان بچائی۔ اس کے سولر پینل کی پاور  700 واٹ سے 128 واٹ پر آگئی جس کی وجہ سے اس کے جتنے بھی آلات تھے ان کو آف کرنا پڑا، سیف موڈ میں لے کے جانا پڑا اور خوش قسمتی سے اس طوفان کے بعد وہ دوبارہ جاگ سکی۔

پھر 2007 کے بعد 2018 کے طوفان کا ذکر تو میں کر چکا ہوں جس میں اپرچونٹی روور ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔

 آخر یہ طوفان مریخ پر آتے ہی کیوں ہیں ؟

مریخ کے مدار کا اگر ہم زمین کے مدار سے موازنہ کریں تو کافی بیضوی (highly elliptical)  ہے تو جب یہ مریخ اپنے perihelion پر ہوتا ہے مطلب سورج کے گرد اپنے مدار میں سورج کے قریب سے گزر رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے اندر، خاص طور پہ جو اس کا جنوبی کرہ ہے اس پر غیر معمولی ہیٹنگ (solar heating) ہوتی ہے اس سے ٹمپریچر بڑھنے سے وہاں پر گردو غبار اوپر اپ لفٹ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھتا ہے اور تیز ہواؤں کا ایک نظام شروع ہو جاتا ہے ٹمپریچر بڑھنے سے ان ہواؤں کے اندر ایک تیزی آجاتی ہے اور مریخ کی گرد اس کو لپیٹ لیتی ہے۔ تقریباً ایک ڈیڑھ مہینے تک یہ سسٹم ہے جاری رہتا ہے۔

اس سال اپریل سے جولائی 2026 کے دوران ایسا ممکن تھا کی طوفان شروع ہوجائے کیونکہ مارچ مریخ سورج کے قریب ترین تھا لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں دیکھا گیا اگر اس بار ایسا نہیں ہوتا تو 2028 فروری کے بعد ممکن ہے کہ اسی طرح کا ایک عالمی طوفان مریخ کی سطح پر دیکھا جائے گا۔

کیا آپ نے اس روور پر بنی ڈاکومنٹری “Goodnight Oppy” دیکھی ہے ؟

(ثاقب علی)

#Mars

#Storm

#astrosaqi

#astronomy

#spaceexploration

#science

#NASA

#mars

#opportunityrover

#rover

Loading