Daily Roshni News

۔14 سو سال سے بھی پہلے کے قبیلے

14 سو سال سے بھی پہلے کے قبیلے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بنو قریش: خانہ کعبہ کے ارد گرد مکہ کا سب سے طاقتور اور معزز قبیلہ “قریش” آباد دکھایا گیا ہے۔

 یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آبائی قبیلہ تھا۔

​بنو ہاشم: خانہ کعبہ کے بالکل قریب بنو ہاشم کی نشاندہی کی گئی ہے، جو قریش کی ہی ایک معزز ترین شاخ ہے اور اسی خاندان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق تھا۔

​۲. مدینہ منورہ اور اس کے قریبی مقامات (بالائی حصہ)

​تصویر کے اوپری حصے میں مدینہ منورہ (یثرب) کا سرسبز و شاداب علاقہ اور نخلستان دکھائے گئے ہیں۔

​مسجد نبوی: مدینہ کے مرکز میں سبز گنبد کے ساتھ مسجد نبوی کی عمارت دکھائی گئی ہے، جو ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کا مرکز بنی۔

​جبلِ احد (احد پہاڑ): مدینہ منورہ کے پس منظر میں تاریخی پہاڑ “جبل احد” نظر آ رہا ہے، جہاں غزوہ احد کی مشہور جنگ لڑی گئی تھی۔

​بنو اوس اور بنو خزرج: مدینہ منورہ کے دائیں اور بائیں طرف ان دو بڑے قبائل کے نام درج ہیں۔ یہ مدینہ کے مقامی انصار قبائل تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کی تھی۔

​۳. مکہ اور مدینہ کے درمیانی مقامات اور وادیاں

​مکہ سے مدینہ جانے والے تجارتی اور ہجرت کے راستے پر درج ذیل مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے:

​وادی فاطمہ: نقشے کے درمیان میں ایک سرسبز نخلستان اور پانی کا چشمہ نظر آ رہا ہے جسے “وادی فاطمہ” لکھا گیا ہے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور اور زرخیز وادی ہے۔

​طائف: مکہ کے پہاڑی سلسلے کے ساتھ دائیں جانب “طائف” کا علاقہ دکھایا گیا ہے، جو اپنی سرد آب و ہوا اور باغات کے لیے مشہور تھا۔

​۴. دیگر تاریخی قبائل (درمیانی اور صحرائی علاقے)

​مکہ اور مدینہ کے ارد گرد کے وسیع صحرائی علاقوں میں عرب کے دیگر مشہور قبائل آباد تھے جن کے نام تصویر میں درج ہیں:

​بنو تمیم: یہ نجد اور حجاز کے درمیانی علاقوں کا ایک بہت بڑا اور جنگجو قبیلہ تھا۔

​بنو کنانہ: قریش کا قریبی قبیلہ جو مکہ کے نواح میں آباد تھا۔

​بنو بکر: یہ بھی حجاز کے ارد گرد آباد ایک مشہور عرب قبیلہ تھا۔

​بنو اسد: مکہ اور مدینہ کے درمیانی صحرائی راستوں پر آباد ایک قبیلہ۔

​بنو تک: نقشے کے دائیں جانب دور صحرا میں اس قبیلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

​خلاصہ: یہ تصویر عہدِ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حجاز کا ایک جامع جغرافیائی خاکہ پیش کرتی ہے، جس سے مکہ اور مدینہ کی دوری، ان کے درمیان موجود وادیوں، تجارتی راستوں (جہاں اونٹوں کے قافلے نظر آ رہے ہیں) اور وہاں آباد مختلف قبائل کی جغرافیائی پوزیشن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

کاپی پیسٹ انفارمیشن

Loading