Daily Roshni News

سلسلہ اویسیہ۔۔۔ دل سے دل کا رابطہ

سلسلہ اویسیہ

 دل سے دل کا رابطہ

قسط سوم: روح کا آئینہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک ہفتہ اور گزرا۔ولی نے قبض کے باوجود ذکر نہیں چھوڑا تھا مگر ایک نئی الجھن نے جنم لیا تھا۔ وہ سوچتا تھا۔

نسبت ہے مان لیا۔ ذکر جاری ہے ٹھیک ہے۔ مگر یہ نسبت کام کیسے کرتی ہے؟ میں بابا زمان کی طرف توجہ کروں تو کیا واقعی کچھ پہنچتا ہے؟ یا یہ بھی بس میرا خیال ہے؟

یہ سوال پہلے والے سوالوں سے مختلف تھا پہلے شک تھا، اب طلب تھی۔ پہلے وسوسہ تھا، اب تحقیق تھی۔

اور طلب کا سوال ہمیشہ جواب لے کر آتا ہے۔

اتفاق سے یا شاید اتفاق نہیں اسی ہفتے چچا نثار کا پیغام آیا۔

آج شام آ جاؤ کوئی پرانا مہمان آیا ہے۔

ولی شام کو پہنچا تو دیکھا کہ چچا نثار کے گھر ایک بزرگ بیٹھے ہیں سفید داڑھی، سادہ لباس، آنکھوں میں ایک عجیب گہرائی۔ چچا نثار نے تعارف کرایا۔

یہ ہیں استاد کریم صاحب بابا زمان کے بہت پرانے ساتھی۔ دور سے آئے ہیں۔

ولی نے ادب سے سلام کیا اور بیٹھ گیا۔

استاد کریم کا پہلا سوال

استاد کریم نے ولی کو غور سے دیکھا ایک لمبی خاموشی کے بعد پوچھا۔

استاد کریم: بیٹے آئینہ دیکھتے ہو؟

ولی: حیران ہو کر جی؟

استاد کریم:  آئینے میں چہرہ دیکھتے ہو؟

ولی: جی، روز دیکھتا ہوں۔

استاد کریم: آئینہ تمہارا چہرہ کیوں دکھاتا ہے؟

ولی: سوچ کر کیونکہ وہ صاف ہے اس میں کوئی دھبہ نہیں۔

استاد کریم: مسکرائے بالکل درست۔ اور اگر آئینے پر گرد ہو؟

ولی: تو چہرہ دھندلا دکھے گا یا بالکل نہیں دکھے گا۔

استاد کریم: اور اگر آئینے پر کالک ہو؟

ولی: تو کچھ نظر نہیں آئے گا۔

استاد کریم نے ایک لمحہ خاموشی اختیار کی پھر آہستہ سے کہا۔

بیٹے یہی تمہارے سوال کا جواب ہے۔

دل اللہ کا آئینہ

استاد کریم:”حضرت امام غزالیؒ نے لکھا ہے اور یہ بات بہت گہری ہے۔

‘القلب كالمرآة، والأعمال كالصدأ — فإذا صُقل القلب بالذكر والتوبة، انعكس فيه نور الحق’

دل آئینے کی مانند ہے اور اعمال زنگ کی مانند جب دل کو ذکر اور توبہ سے مانجھا جائے تو اس میں حق کا نور جھلکتا ہے۔

احیاء علوم الدین، جلد سوم

بیٹے تم پوچھتے ہو کہ نسبت کام کیسے کرتی ہے؟ جواب سنو۔

شیخ کا فیض ایک نور ہے  وہ ہر وقت موجود ہے، ہر طرف پھیلا ہے جیسے سورج کی روشنی۔ مگر آئینہ اگر زنگ آلود ہو تو سورج کی روشنی میں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔

مسئلہ سورج میں نہیں مسئلہ آئینے میں ہے۔

ولی نے یہ سنا تو دل میں کچھ ہلا۔

ولی:تو کیا میں نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس سے دل کا آئینہ زنگ آلود ہو گیا؟

استاد کریم:نرمی سے بیٹے، یہ سوال خود سے پوچھنا یہی پہلا قدم ہے صفائی کا۔

دل کا زنگ کیا ہے اور کیسے لگتا ہے

چچا نثار: جو اب تک خاموش بیٹھے تھے، بولے۔بیٹا نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ

جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے

سنن ترمذی، کتاب التفسیر

اور پھر فرمایا: اگر توبہ کرے تو وہ نقطہ مٹ جاتا ہے اگر نہ کرے تو نقطے بڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ پورا دل ڈھک جاتا ہے۔ یہی وہ رَانَ ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے:

كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ

ہرگز نہیں بلکہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا

سورۃ المطففین: ۱۴

یٹے زنگ اچانک نہیں لگتا۔ آہستہ آہستہ لگتا ہے غفلت سے، گناہوں سے، بے ادبی سے، دنیا کی محبت سے۔

ولی کا اعتراف

ولی کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے بولا۔

ولی:استاد جی میں سمجھ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ عرصے میں میں نے ذکر تو جاری رکھا مگر… دل لگا کر نہیں کیا۔ بعض اوقات موبائل دیکھتے دیکھتے رات گزر جاتی تھی، فجر قضا ہو جاتی تھی۔ بعض باتیں ایسی کیں جو کرنی نہیں چاہیے تھیں۔ سوچا تھا کہ بعد میں توبہ کر لوں گا۔

ایک لمحہ کی خاموشی۔

استاد کریم:بہت نرمی سے بیٹے  یہ اعتراف بہت بڑی بات ہے۔ آدھی صفائی تو ابھی ہو گئی۔

آئینہ صاف کرنے کے تین طریقے

استاد کریم:اب سنو اویسی سالک کے لیے دل کے آئینے کی صفائی کے تین بنیادی طریقے۔

پہلا توبہ اور استغفار

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اور اے مومنو، سب مل کر اللہ کی طرف توبہ کرو شاید تم فلاح پاؤ۔

سورۃ النور: ۳۱

توبہ صرف زبان کا کام نہیں توبہ دل کا پلٹنا ہے۔ ہر رات سونے سے پہلے دن کا محاسبہ کرو جو غلطی ہوئی اس پر سچے دل سے معافی مانگو۔

دوسرا ذکرِ کثیر

نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:

‘لِكُلِّ شَيْءٍ صِقَالَةٌ وَصِقَالَةُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ’

ہر چیز کی صفائی کا سامان ہے اور دلوں کی صفائی کا سامان اللہ کا ذکر ہے

المعجم الأوسط، طبرانی

ذکر صرف ثواب کے لیے نہیں ذکر آئینے کو مانجھنے کا عمل ہے۔

تیسرا بے ادبی سے بچنا

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں:

‘أصل هذا الأمر كله الأدب ومن أساء الأدب حُجب

اس پورے کام کی بنیاد ادب ہے جس نے بے ادبی کی وہ پردے میں آ گیا۔

طبقات الصوفیہ، سلمی

بے ادبی کیا ہے؟ شیخ کے بارے میں بری سوچ، ان کے فیض پر شک، ان کی بات کو ہلکا سمجھنا یہ سب آئینے پر کالک ہے۔

اویس قرنیؒ کا آئینہ ایک انوکھی بات

استاد کریم:آواز میں ایک خاص کیفیت آئی “بیٹے جانتے ہو حضرت اویس قرنیؒ کے دل کا آئینہ کتنا صاف تھا؟

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب نبیِ کریم ﷺ کے دندانِ مبارک احد کے دن شہید ہوئے تو حضرت اویس قرنیؒ کو یمن میں خبر ملی۔ انہوں نے فوراً اپنے دانت توڑ لیے ایک نہیں، سب کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ کون سا دانت شہید ہوا، اس لیے سب قربان کر دیے۔

یہ سن کر لوگوں نے کہا۔ یہ کیا پاگل پن ہے؟

وہ بولے: یہ پاگل پن نہیں یہ ادب ہے۔

شرح مسلم، نووی / طبقات ابن سعد

بیٹے یہ ادب کا وہ درجہ تھا جس نے ان کے دل کے آئینے کو اتنا صاف کر دیا کہ ہزار میل دور نبیِ کریم ﷺ کا فیض سیدھا ان کے دل میں اترتا تھا۔ ہمارا دل اتنا صاف نہ سہی مگر صفائی کی کوشش تو ہو۔

ولی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

توجہ کا طریقہ اویسی سالک کے لیے

استاد کریم: اب ایک عملی بات سنو جب تم بابا زمان کی طرف قلبی توجہ کرتے ہو تو کیا کرتے ہو؟

ولی:بس… ان کا خیال کرتا ہوں۔ ان کا نام لیتا ہوں دل میں۔

استاد کریم: یہ اچھا ہے مگر ناقص ہے۔ توجہ کا مکمل طریقہ یہ ہے۔

پہلے دل کو حاضر کرو۔ آنکھیں بند کرو، سانس سنبھالو، دنیا کو ایک لمحے کے لیے پیچھے چھوڑو۔

پھر اللہ کی حضوری کا یقین کرو۔ کہو دل میں، ‘اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، میرے دل کو جانتا ہے۔

پھر درود شریف پڑھو کم از کم تین بار  کیونکہ اویسی نسبت کی اصل بنیاد نبیِ کریم ﷺ سے محبت ہے۔

پھر بابا زمان کو ادب کے ساتھ یاد کرو ان کی نیکی، ان کا علم، ان کا فیض اور دل سے دعا مانگو کہ ان کا فیض تم تک پہنچے۔

آخر میں خاموش ہو جاؤ۔ کچھ مت سوچو۔ بس دل کو کھلا رکھو جیسے خالی پیالہ جو بھرنے کا انتظار کر رہا ہو۔

یہ توجہ ہے خیال نہیں، توجہ۔

وہ رات جو بدل گئی

رات کو ولی گھر لوٹا۔

وہی مصلہ، وہی تسبیح مگر آج اس نے استاد کریم کا بتایا طریقہ آزمایا۔

آنکھیں بند کیں۔ سانس سنبھالا۔

دل میں کہا: اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے۔

درود پڑھا تین بار  اور پہلی بار محسوس کیا کہ درود صرف الفاظ نہیں، ایک تعلق ہے۔

پھر بابا زمان کو یاد کیا ان کا چہرہ نہیں دیکھا تھا ظاہری آنکھوں سے مگر دل میں ایک تصویر تھی، ایک نور تھا۔

پھر خاموش ہو گیا۔

اور اس خاموشی میں  پہلی بار تین ہفتوں کے بعد  دل میں کچھ ہلا۔

ہلکی سی گرمی۔ ہلکا سا سکون۔

کیفیت نہیں تھی مگر خالی بھی نہیں تھا۔

ولی نے آنکھیں کھولیں اور آہستہ سے مسکرایا۔

آئینہ صاف ہونا شروع ہو گیا ہے۔

اگلے روز ولی نے چچا نثار سے پوچھا:

ولی: چچا جان دل کا آئینہ کبھی مکمل صاف ہو سکتا ہے؟

چچا نثار: مسکرائے اولیاءِ کاملین کا ہو جاتا ہے ہم جیسوں کے لیے صفائی کی کوشش ہی عبادت ہے۔ جیسے روز نہاتے ہو ایک دن نہ نہاؤ تو میل لگتی ہے۔ دل کا بھی یہی حال ہے روزانہ کی صفائی چاہیے۔

ولی: اور اگر کوئی دن غفلت ہو جائے؟

چچا نثار: توبہ فوری توبہ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

سورۃ البقرہ: ۲۲۲

گناہ ہو تو توبہ کرو اور آگے بڑھو۔ رکو مت، مایوس مت ہو۔ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ناکاموں سے نہیں ڈرتا، گناہگاروں سے نہیں بھاگتا بس بے توبہ غافلوں سے دور ہوتا ہے۔

دل کی پاکی نسبت کا دروازہ ہے اور ذکر اس دروازے کی چابی۔

حضرت بہاء الدین نقشبندؒ

اگلی قسط: دوری کا بھرم  ولی کے دل میں ایک نیا سوال جنم لیتا ہے۔

کیا بابا زمان واقعی دور ہیں یا ہم خود دور ہو گئے ہیں؟ اور دوری کیا ہے جسم کی یا دل کی؟ ایک انوکھا واقعہ ولی کو وہ جواب دیتا ہے جو وہ کبھی سوچ نہیں سکتا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

#Khaak_e_rawan

Loading