حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ شیخ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور داتا علی ہجویری جیسے اولیاء کے بھی پیر تھے کے بارے میں حضرت داتا علی ہجویری کشف المحجوب میں لکھتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں پڑھ لکھ کر عالم فاضل بن گیا تو میرے مرشد حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ جو میرے ماموں بھی تھے مجھے فرمانے لگے جنید تقریر کیا کرو؟ اور میں کہتا حضور ابھی میں نیک نہیں اس قابل نہیں،
فرماتے میرے پیر بھائی بھی مجھے کہتے کہ مرشد کی بھی خواہش ہے اور ہماری بھی کہ آپ تقریر کیا کریں اللہ آپ کے وسیلے سے بڑے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے گا؟ فرماتے میں اکثر ان کی باتیں ٹال دیتا لیکن ایک روز میں اپنے گھر پر سو رہا تھا تو میرے نصیب جاگ اٹھے قسمت نے انگڑائی لی بغداد کی گلیاں خوشبو سے مہک اٹھیں ہر طرف خوشبودار ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں رسول کائنات ، سرور انبیاء سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے خواب میں جلوہ گر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بے حد نوازا، بے حد،
اور جب جانے لگے تو ہلکا سا ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ جنید تقریر کیا کرو”
فرماتے ہیں میں نے عرض کی آقا! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اب تو روز تقریر کروں گا ضرور کروں گا’
فرماتے ہیں فجر ہوئی میں اٹھا لیکن میرے دل میں چور آ گیا کہ میرے مرشد کریم نے کبھی ذکر نہیں کیا کہ انہیں بھی کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا ہو؟ جبکہ مجھے نصیب ہو گیا یعنی خیال کرنے لگے کہ شاید میرا مقام بلند ہو گیا
گھر میں دو رکعتیں سنت پڑھیں اور پھر خراماں خراماں مسجد کی طرف چل پڑا، ساتویں صف میں جگہ ملی لیکن اندر چور تھا کہ میرا درجہ میرے مرشد سے اوپر ہے کیونکہ مجھے تو دیدار نصیب ہوا ہے فرماتے ہیں نماز پڑھی تو مرشد کریم حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے آواز دی کہ جنید آگے آ جاو تو میں تیسری صف میں جا کے بیٹھ گیا فرمایا تھوڑا اور قریب آ جاو تو میں پہلی صف میں آپ کے قریب بیٹھا فرمایا چلو تھوڑا اور قریب آ جاو یہاں آ کے میرے ساتھ بیٹھ جاو تو میں مرشد کریم کے بالکل ساتھ برابر جا بیٹھا مرشد کریم تسبیح پڑھ رہے تھے اور میری طرف دیکھ کر فرمایا اب کرو گے نا تقریر؟
فرمایا میرے دل میں تھا کہ میرے خواب سے متعلق کسی کو کیا خبر؟ میں نے عرض کی حضور اب کیا ہوا ہے؟ (مطلب اب کیوں کروں گا تقریر) فرماتے ہیں مرشد تھوڑی دیر خاموش رہے اور تسبیح پڑھنے لگے پھر فرمایا جنید اب کرو گے نا تقریر؟ تو فرماتے ہیں میرے دل میں تو تھا کہ مرشد کو ابھی خبر ہی نہیں، میں نے عرض کی لیکن اب ایسا کیا ہوا حضور؟
فرماتے ہیں مرشد نے تسبیح رکھ دی جبہ سمیٹا اور میری طرف دیکھا میں نے ان کی آنکھوں میں جو روشنی آج دیکھی پہلے کبھی نہیں دیکھی جو جلال آج ان کے لب و لہجہ میں تھا وہ پہلے کبھی نہ تھا میری طرف دیکھا اور فرمایا
“جنید! رات مجھے رب کا دیدار نصیب ہوا رب نے فرمایا سری سقطی کوئی بات کہو؟ تو میں نے عرض کی مولا! ایک ہی مرید تیار کیا ہے وہ بھی تقریر نہیں کرتا اگر کسی دن تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس طرف سے گزر ہو جائے تو ایک اشارہ جنید کو بھی فرما جائیں تاکہ وہ تقریر شروع کر دے میرا بھی کام بن جائے گا اور لوگوں کا بھی فائدہ ہو جائے گا”
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں جب میں نے یہ سنا تو میں چیخ اٹھا تڑپ کر مرشد کے قدموں میں گرا اور عرض کی میرے مرشد مجھے معاف فرما دیں مجھے تو آج پتہ چلا ہے کہ میرے اوپر مصطفیٰ جان رحمت اگر کرم فرما جائیں تو وہ بھی آپ کی دعاؤں کی بدولت اور میری حالت دیکھیں میں اپنے آپ کو آپ سے بلند مقام پر تصور کر رہا تھا
اس پوسٹ کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ
مرید کے دل میں پیدا ہونے والا تکبر سب سے خطرناک بیماری ہے یہ وہ زہر ہے جو انسان کی ساری محنت، عبادت اور روحانی ترقی کو ایک لمحے میں ضائع کر سکتا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایسی بصیرت عطا فرماتا ہے جو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی اس لیے دل کے خیالات بھی ان سے پوشیدہ نہیں رہتے اس لیے اگر دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر آ جائے تو انسان جو کچھ پا چکا ہوتا ہے وہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے اگر کسی کو کوئی نورانی منظر یا مبارک دیدار نصیب ہو جائے تو اسے اپنی قابلیت نہیں بلکہ اللہ کا فضل اور اپنے مرشد کی دعاؤں کا اثر سمجھے کیونکہ بغیر رہنمائی کے یہ راستہ طے نہیں ہوتا اور جس دل میں مرشد کےلیے تعظیم اور ادب نہ ہو وہ وفا کا حق ادا نہیں کرتا
آخر میں اپنے قارئین کے لیے عاجزانہ درخواست ہے کہ میں آپ کیلئے اتنی محنت سے اولیاء اللہ کے اتنے پیارے واقعات لکھتا ہوں آپ میری پوسٹیں محبت سے لایک اور شیئر کریں اور مجھے فالو بھی کریں تاکہ میں آپ کیلئے اسی طرح کی بہترین اسلامی پوسٹس لکھتا رہوں جزاک اللہ
![]()

