سلسلہ عظیمیہ کا پیغام تعلیمات اور تربیتی نظام
تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
پیشکش ۔۔۔انجنیئر سہیل احمد عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سلسلہ عظیمیہ کا پیغام تعلیمات اور تربیتی نظام۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی) [سورہ محمد (47): آیت 24]
اور اللہ نے رات ودن اور سورج وچاند کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں، بے شک اس میں عقل والی قوم کےلیے بڑی نشانیاں ہیں۔“[سورہ نحل (16): آیت 12]
نیچرل سائنس کے علوم، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ میں معاون علوم اور دیگر سب مادی علوم علم حصولی کے دائرے میں آتے ہیں۔
ہم نے اوپر ذکر کیا کہ علم حصولی میں پانچ ظاہری حواس اور عقل سے مدد لی جاتی ہے۔ اس کلاس کے طالب علموں پر ہم یہ واضح کرناچاہتے ہیں کہ بادی علوم کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچنے یا کسی تخلیقی عمل میں پانچ ظاہری حواس کے علاوہ دیگر ذرائع مثلاً خواب، چھٹی حس الہام و غیر ہ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ کئی علمی شعبوں خصوصاً فنون لطیفہ ، ادب و شاعری وغیرہ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اہل علم اور اہل نظر کو عبدالرحمن جامی، فرید الدین عطار، مولانارومی، امیر خسرو، شاہ عبد اللطیف بھٹائی، علامہ اقبال، محمد عظیم برخیا اور دیگر کئی شعراء اور علماء کے کلام میں فطرت سے براہ راست رہنمائی کے اشارے ملتے ہیں۔
علم حضوری
ظاہری پانچ حواس یعنی کسی ظاہری واسطہ Medium کے بغیر ملنے والے علم کو صوفیاء اور فلسفیوں کی اصطلاح میں “علم حضوری“ کہا جاتا ہے۔ تاہم علم حضوری کا حامل صرف انسان نہیں ہے۔ اللہ کی زیادہ تر مخلوقات اپنی زندگی گزارنے کےطریقے اس دنیا میں کسی سے سیکھے بغیر جانتی ہیں۔ قدرت نے انسان کو ظاہری حواس کی طرح باطنی حواس بھی عطا کیے ہیں۔ ان باطنی حواس کو
1 – حس مشترک Common Sense
2۔ جس خیال Imaginative Faculty
.3حس متصرفہ Imagination
4- حس واہمہ ،Instinct
5- حس حافظہ ،Intentions کہتے ہیں۔
ان باطنی حواس سے انسانوں کی آگہی کا آغاز زمانہ قبل مسیح کے فلسفی ارسطو (322384 ق م) کے ذریعے ہوا۔ ارسطو سے ملنے والی ابتدائی آگہی کو مسلم فلاسفہ محمد ابو نصر الفارابی (950872ء) اور بوعلی سینا ( 980 : 1037ء) نے آگے بڑھایا۔ مندرجہ بالا پانچ اقسام مسلم فلسفی و طبیب بو علی سینا کی
بیان کردہ ہیں۔
علم حضوری سے آگہی ملنے کے کئی طریقے ہیں۔
مثال کے طور پر
(1) علم حضوری سے بلا ارادہ آگہی مل رہی ہو ۔
2) دوسرا یہ کہ انسان اپنی خواہش سے علم حضوری سے آگہی لے رہا ہو۔
(1) علم حضوری سے بلا ارادہ استفادہ کو کئی اقسام میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ قسم ہے جس میں انسان سمیت ہر مخلوق علم حضوری سے فطری طور پر استفادہ کرتی ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کے امام حضرت محمد عظیم برخیا نے اپنی کتاب لوح و قلم میں کائناتی شعور کے بارے میں بتایا ہے۔
آپ فرماتے ہیں، ہم نظر کو ایک طرح کا کائناتی شعور کہہ سکتے ہیں۔ یہ جس مقام پر جس نقطہ پر بھی جلوہ گر ہوتی ہے
ایک ہی طرز رکھتی ہے۔ انسان میں جو نظر پانی کو پانی دیکھتی ہے وہ نظر ہر شئے کے اندر پانی کو پانی دیکھتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انسان نے پانی کو پانی دیکھا ہو اور شیر نے پانی کو دودھ دیکھا ہو۔
آپ فرماتے ہیں ، کائنات میں پھلے ہوئے تمام مناظر اس ہی قانون کے پابند ہیں۔ جب آدمی چاند کی طرف نظر اٹھاتا ہے تو چاند کو اسی شکل و صورت میں دیکھتا ہے جس شکل وصورت میں چکور دیکھتا ہے۔ جب درخت کی جڑیں پانی حاصل کرتی ہیں تو پانی سمجھ کر حاصل کرتی ہیں بالکل اس ہی طرح جس طرح ایک جانور پانی کو پانی سمجھتا ہے۔“
[ لوح و قلم ، صفحہ 194]
کائناتی شعور سے ملنے والا وہ علم یا وہ آگہی جو انسانی ذہن یا قلب بلا کسی واسطے کے وصول کرتا ہے اسے ہم علم حضوری سے بلا ارادہ استفادہ کہتے ہیں۔ بلا ارادہ استفادہ کی چند مثالیں:
انسان کو خود اپنی ذات اور اپنے کئی فطری تقاضوں سے آگہی علم حضوری کے ذریعے ملتی ہے۔ پرندے فطری طور پر پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں، مچھلیاں تیر نا جانتی ہیں۔ شہد کی مکھی پھولوں سے رس چوس کر انہیں شہد میں تبدیل کرنا جانتی ہے۔ ایک مرغی کا بچہ انڈے سے باہر آتے ہی بھاگنا دوڑنا اور دانہ چگنا شروع کر دیتا ہے ۔ بطخ کا بچہ خشکی پر چلنا پھر نا اور پانی میں تیر نا جاتا ہے۔ ہجرتی پر ندے جانتے ہیں کہ انہیں موسم سرما اور موسم گرما میں کس سمت ہزاروں میل سفر کرنا ہے۔ مادہ کچھوا اپنے انڈے ساحل سمندر پر ریت میں دیتی ہے۔ ان انڈوں سے نکلنے والے بچے فطری طور پر جانتے ہیں کہ اب انہیں کہاں جانا ہے۔ وہ کسی کے بتائے بغیر خود ہی سمندر کی سمت چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ گائے اور بکری کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی غذا گھاس اور پتے ہیں۔ بلی یا شیر جانتے ہیں کہ ان کی غذا گوشت ہے۔
پیا چڑیا جانتی ہے کہ اسے اپنا گھونسلہ کس طرح بنانا ہے۔ خرگوش جانتا ہے کہ اسے زیر زمین اپنا ٹھکانہ بنانے کے لیے زمین کھودنا ہے۔ ان سب مخلوقات میں اپنی غذائی، رہائشی ضروریات ، خوراک کے حصول، اپنی حفاظت اور دیگر کئی امور سے آگہی کا ذریعہ علم حضوری ہے۔
انسان سمیت ہر مخلوق میں علم حضوری کے ایک عمومی درجہ کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ علم حضوری کی وجہ سے ہر نوع کے افراد بغیر سیکھے از خود کئی کام سر انجام دیتے ہیں۔ انسانی وجود صرف جسمانی اعضاء اور ظاہری حواس پر مشتمل نہیں ہے۔ واضح رہے کہ انسانی زندگی کے کئی معاملات ایسے ہیں جہاں ظاہری جو اس کا دخل نہیں ہے۔
انسان کے قلب اور ذہن میں بے شمار خیالات کیفیات اور جذبات جنم لیتے ہیں۔ ان میں سے کئی جذبات بر اور است پانچ ظاہری حواس سے تعلق نہیں رکھتے ۔ یہ خیالات کیفیات اور جذبات بظاہر کسی خارجی محرک یا حسی تجربے کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں د و جذ بے محبت اور نفرت زیادہ نمایاں ہیں۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو نگاہ یا لمس یا دیگر کسی ظاہری حس کے بغیر بھی انسان کے دل میں جاگزیں ہو سکتا ہے۔ انسان کسی ایسے شخص سے بھی محبت محسوس کرتا ہے جس سے وہ بھی ملا نہیں۔ مثلاً ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی محبت جنم لے لیتی ہے۔ محبت کی سب سے عظیم مثال وہ محبت ہے جو انسان کے دل میں اپنے خالق اللہ۔۔۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026
![]()

