Daily Roshni News

سچا بھروسہ صرف بادشاہ پر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سچا بھروسہ صرف

بادشاہ پر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)ایک بادشاہ اپنے ایک خاص مصاحب سے سخت ناراض ہوگیا۔ غصہ اس قدر شدید تھا کہ اس نے نیام سے تلوار نکال لی اور فیصلہ کر لیا کہ اسے ایسی سزا دی جائے جو ہمیشہ یاد رہے۔

دربار پر سناٹا چھا گیا۔ کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ سفارش کرے یا ایک لفظ بھی بول سکے۔

اسی لمحے دربار کے ایک معزز شخص، عمادالملک، آگے بڑھے اور عاجزی سے بادشاہ کے سامنے جھک گئے۔

بادشاہ نے ان کی لاج رکھتے ہوئے تلوار واپس نیام میں ڈال دی اور فرمایا:

“اگر اس سے کوئی بڑی غلطی بھی ہوئی ہے تو میں نے اسے معاف کیا۔ تم درمیان میں آگئے ہو، اس لیے میں اس کے جرم سے درگزر کرتا ہوں۔”

جان بچ جانے کے بعد سب کو امید تھی کہ وہ شخص عمادالملک کا عمر بھر احسان مند رہے گا۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہوئی کہ اس نے عمادالملک سے بات کرنا بھی چھوڑ دی، حتیٰ کہ سلام کا جواب دینا بھی گوارا نہ کیا۔

لوگ حیران رہ گئے اور کہنے لگے:

“یہ کیسا انسان ہے؟ جس شخص نے اسے موت کے منہ سے نکالا، اسی سے ناراض ہوگیا! اس کے قدموں کی خاک بننا چاہیے تھا، مگر یہ الٹا اسی سے منہ موڑ بیٹھا۔”

آخر ایک دانا شخص نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا:

“تم اس احسان کا بدلہ اس طرح کیوں دے رہے ہو؟”

اس نے نہایت گہرا جواب دیا:

“میری جان تو بادشاہ پر قربان ہو۔ میرے اور بادشاہ کے درمیان کسی اور کو آنے کی کیا ضرورت تھی؟ مجھے صرف بادشاہ کے رحم کی امید تھی، کسی اور کی سفارش کی نہیں۔ میں نے اپنے دل میں غیر کی امید ختم کر دی ہے۔ اگر بادشاہ میری جان لے لیتا تو بھی وہی میرا مالک تھا، اور اگر بخش دیتا تو بھی اسی کا احسان ہوتا۔ میرا کام اپنا سر پیش کرنا ہے، اور بادشاہ کا کام چاہے سزا دینا ہو یا معاف کرنا۔ خوش نصیب ہے وہ سر جو بادشاہ کے فیصلے پر جھک جائے، اور افسوس اس سر پر جو اپنی امید کسی غیر سے وابستہ کرے۔”

🌹 سبق:

یہ حکایت ہمیں توحیدِ کامل کا درس دیتی ہے۔ ایک سچا مومن اپنی امید، خوف، بھروسہ اور آس صرف اللہ تعالیٰ سے وابستہ کرتا ہے۔ اسباب اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن دل کا سہارا صرف اللہ کی ذات ہونی چاہیے، کیونکہ اصل اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے۔

📖 ماخذ:

حکایاتِ رومی، حصہ اول (صفحہ 164)

🤍🌷 اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو کمنٹس میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے کوئی ایک خوبصورت نام ضرور لکھیں، جس نام سے آپ اللہ پاک کو پکارنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

Loading