6 ہزار سال پرانا
شہر عقبہ ( Aqaba )
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ یقین کریں گے کہ آج سے تقریباً 6 ہزار سال پہلے اردن کے ریگستان میں ایک ایسا شہر آباد تھا جہاں دن رات بھٹیاں جلتی تھیں، تانبہ پگھلایا جاتا تھا، اور دور دراز علاقوں تک تجارتی سامان بھیجا جاتا تھا؟
یہ جگہ ہے تل حجرات الغزلان (Tall Hujayrat al-Ghuzlan)، جو آج کے جدید شہر عقبہ (Aqaba)، اردن سے تقریباً 4 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
یہ کوئی عام قدیم بستی نہیں تھی ماہرین آثارِ قدیمہ اسے دنیا کے ابتدائی صنعتی قصبوں (Industrial Towns) میں شمار کرتے ہیں۔
صدیوں تک یہ مقام زمین کے نیچے خاموشی سے دفن رہا
پھر کھدائی شروع ہوئی، اور جو کچھ سامنے آیا اس نے ماہرین کو حیران کر دیا۔
یہ بستی تقریباً چوتھی ہزار سال قبل مسیح (Chalcolithic / Copper Age) کی ہے، یعنی وہ دور جب انسان پتھر کے اوزار چھوڑ کر دھاتوں کے استعمال کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اس مقام کا ذکر پہلی بار 1934ء میں جرمن محقق فریٹز فرینک (F. Frank) نے کیا تھا، لیکن باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائیاں 1990ء میں اردن یونیورسٹی کے ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر لطفی خلیل (Lutfi Khalil) نے شروع کیں۔
بعد ازاں 1998ء سے یونیورسٹی آف جارڈن اور جرمن آرکیالوجیکل انسٹی ٹیوٹ (German Archaeological Institute) نے مشترکہ طور پر وسیع تحقیق اور کھدائیاں کیں، جن سے اس قدیم شہر کے حیران کن راز دنیا کے سامنے آئے۔
کھدائی سے معلوم ہوا کہ یہاں تانبے کی بڑے پیمانے پر
پروسیسنگ کی جاتی تھی دلچسپ بات یہ ہے کہ تانبہ یہاں سے نہیں نکالا جاتا تھا
خام تانبہ قریبی علاقوں، خصوصاً ٹمنہ (Timna) کی کانوں سے تقریباً 30 کلومیٹر دور سے لایا جاتا تھا، پھر یہاں بھٹیوں میں پگھلا کر اوزار، ہتھیار اور تجارتی اشیاء تیار کی جاتی تھیں۔
یعنی تقریباً 6 ہزار سال پہلے بھی خام مال ایک جگہ سے آتا تھا اور صنعت دوسری جگہ چلتی تھی۔
یہ دریافت اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ اس دور میں باقاعدہ تجارتی نیٹ ورک اور منظم پیداوار موجود تھی۔
ماہرین کو یہاں مٹی کی اینٹوں (Mudbrick) سے بنے گھر، ورکشاپس اور صنعتی عمارتیں حیرت انگیز حد تک محفوظ حالت میں ملیں۔
کئی دیواروں پر ہرن (Deer) اور آئبیکس (Ibex) کی نہایت خوبصورت نقش نگاری ملی، جو ہزاروں سال گزرنے کے باوجود آج بھی انسان کی تخلیقی صلاحیت کی گواہی دیتی ہے۔
یہ صرف تصویریں نہیں یہ اس قدیم معاشرے کی سوچ، ماحول اور فن سے محبت کی خاموش کہانی ہیں۔
تحقیقات سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہاں کے لوگ ایک منظم معاشرے میں رہتے تھے، جہاں مختلف پیشے، صنعتیں اور شاید سماجی طبقات بھی موجود تھے۔
تل حجرات الغزلان کے قریب واقع تل المغاص (Tall al-Magass) کے ساتھ مل کر یہ مقام ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کس طرح چھوٹی بستیاں آہستہ آہستہ بڑے شہروں میں تبدیل ہوئیں، اور انسانی تہذیب چالکولتھک دور سے ابتدائی کانسی کے دور (Early Bronze Age) میں داخل ہوئی۔
یہ خاموش کھنڈرات آج بھی ایک سوال پوچھتے ہیں…
کیا ہماری جدید صنعت واقعی نئی ہے، یا اس کی بنیاد ہزاروں سال پہلے انہی بھٹیوں میں رکھی جا چکی تھی؟
اگر آپ کو تاریخ کے ایسے حیران کن راز پسند ہیں تو پوسٹ کو لائک، شیئر کریں اور WonderVerse کو ضرور فالو کریں،
#WonderVerse #Jordan #Aqaba #TallHujayratAlGhuzlan #CopperAge #Chalcolithic
![]()

