ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔*دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں*۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو, ایک دور تھا جب ادب میں ایک اصطلاح بہت عام تھی یعنی “انجمن ستائش باہمی” ۔ اور مبینہ ادبی انجمنوں کا کام اپنے اپنے حلقہء اثر میں شامل اہل قلم ایک دوسرے کی تعریفوں کے ذریعے ادبی قد بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے، اس حوالے سے اگرچہ قدیم دور ہی سے “ادبی چشمک” بھی عام تھی اور مختلف ادبی شخصیات اپنے مقابلے میں دوسرے گروپوں کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کی مخالفت بھی کر لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ دربار شاہی تک دراز دکھائی دیتا ہے۔
مغلیہ دور کے دوران دربار اکبری سے جڑے دو کردار تو اتنے مشہور ہیں کہ اب ان کے درمیان اس شخصیت پرستی کے حوالے سے لاتعداد لطیفے بھی زبان زد عام ہیں۔ اور ان لطیفوں کی تعداد بھی اب اتنی ہو چکی ہے کہ حقیقی واقعات اور من گھڑت فسانوں کو الگ کرنا بھی ناممکنات میں سے ہے۔ یہ دو کردار تھے ملا دوپیازہ اور بیربل۔۔ ان دونوں میں ہمیشہ سے جو چشمک رہی ہے اس کے بارے میں دنیا جانتی ہے، اسی طرح بعد میں آخری مغل شہنشاہ، بہادر شاہ ظفر کے دربار میں یہ ادبی چشمک شاہ کے استاد یعنی شیخ ابراہیم ذوق اور مرزا غالب تک آپہنچی تھی۔ دراصل اس شخصی ٹکراؤ کی بنیادی وجہ مرزا غالب کا خود کو “غالب” قرار دینے کے باوجود بادشاہ نے ان کے مقابلے میں شیخ ابراہیم ذوق کو اپنا استاد مقرر کر کے ان سے شاعری میں اصلاح لینا شروع کی، تو غالب سے یہ کب برداشت ہو سکتا تھا؟ (اگرچہ ذوق کی رحلت کے بعد بادشاہ ظفر نے وہی مقام غالب ہی کو دیا) یعنی اپنا استاد مقرر کر کے ان کے لیے وظیفہ جاری کیا، تا ہم جب تک استاد ذوق زندہ رہے یہ شاعرانہ چشمک جاری رہی، اور اس حوالے سے دونوں کے اشعار جلتی پر تیل کا کام کرتے رہے۔ غالب نے ایک بار استاد ذوق کی پالکی بازار سے گزرتے لمحے ایک بہت ہی توہین آمیز مصرعہ اچھال دیا تھا کہ
” ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا”
جس پر استاد ابراہیم ذوق نے شہنشاہ سے شکایت کر دی تو شاہی دربار میں منعقدہ ایک مشاعرے کے دوران مرزا غالب کی ادبی لہجے میں سرزنش کرتے ہوئے بادشاہ نے کہا، ” آپ نے یہ مصرعہ اچھال کر استاد شاہ پر طنز کیا ہے؟” تو غالب نے مودبانہ لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا، ” حضور یہ تو کسی کی توہین نہیں بلکہ میری تازہ غزل کا مقطع ہے”۔ اور پھر بعض روایات کے مطابق شمع محفل سامنے آتے ہی غالب نے فی البدیہہ یہ غزل سنانا شروع کر دی۔
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے؟
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے؟
اگرچہ استاد ذوق بھی کم نہ تھے اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے، جس میں وہ مرزا غالب پر طنز کے تیر نہ چلاتے ہوں، یوں ایک بار کہا
نہ ہوا پر نہ ہوا میر سا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
حالانکہ مرزا غالب خود بھی میر تقی میر کی شاعرانہ عظمت کے معترف تھے اور ایک اور استاد امام بخش ناسخ کی طرح برملا اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا
غالب اپنا تو عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں
مرزا غالب ابتدا میں خاصے مشکل پسند واقع ہوئے تھے، اور مرزا عبدالقادر بیدل جیسے شاعر کی طرز شاعری کی تقلید کرتے تھے جس پر انہیں مخالفین سے سخت تنقید کا بھی سامنا رہتا تھا۔ اور لوگ ان کی طرز شاعری کو
“مگر ان کے کہے کو آپ سمجھیں یا خدا سمجھے” جیسے تبصروں کا نشانہ بناتے تھے۔ ایسے لوگوں کو بھی مرزا نے یہ کہہ کر لاجواب کر دیا تھا کہ
طرز بے دل میں ریختہ کہنا اسد اللہ خاں قیامت ہے
بات انجمن ستائش باہمی سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی، واپس اپنے ہی ادبی اور ثقافتی ماحول میں آتے ہیں۔ ان دنوں اس سوشل میڈیا نے گویا قیامت سی برپا کر دی ہے، یعنی ایسے گروپ سامنے آچکے ہیں جن میں ایک دوسرے کی پوسٹوں پر تعریفوں کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں، یہ جانے اور سمجھے بغیر کہ جس پوسٹ کی تعریف کی جا رہی ہے وہ اس قابل ہے بھی یا نہیں، مگر منافقت نے اتنا زور پکڑ لیا ہے کہ اپنے اپنے حلقے کے متعلقین کی جا و بےجا تعریف ضرور کرنی ہے اور بعض گروپوں میں تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر آپ کسی پوسٹ کو قابل توجہ ہی نہیں سمجھتے تو دوسرے آپ کو مجبور کریں گے کہ (غالب سے معذرت کے ساتھ)
کچھ تو ‘لکھیے” کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا
آج جب یہ کالم تحریر کیا جا رہا تھا، ایک مہربان دوست یوسف عزیز زاہد کا برقی پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے ایک “شاعر” کی تازہ غزل کے مطلع کے خارج از بحر ہونے کی جانب توجہ دلائی۔ ہم نے انہیں بتایا کہ اس پر ہم پہلے ہی گزارش کر چکے ہیں مگر جب کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے ہی کو تیار نہ ہو تو سوائے صبر کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ الٹا اسی بے بحر مطلع پر واہ واہ کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں ادبی منافقت نے جو زور پکڑا ہے اس سے تو لگ بھگ 40/ 45 سال پہلے کے دور کا حلقہء ارباب ذوق لاہور کا وہ دور یاد آنا بھی فطری بات ہے، جب حلقہ کے اجلاس مال روڈ کے ایک کیفے ٹی ہاؤس میں منعقد ہوا کرتے تھے۔ ( اب پھر اجلاس وہیں ہوتے ہیں)، ان میں ایک صاحب سب سے پہلے آکر بالکل آخر تک بیٹھے رہتے اور جانے والے بھی وہ آخری ہی شخص ہوتے تھے۔ کسی نے پوچھا، ” آپ کا اور کوئی کام نہیں ہے،جو سب سے پہلے آکر سب سے آخر میں جاتے ہیں؟”
انہوں نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ “یار کیا کروں, یہاں تو ہر آنے والے کے بارے میں لوگ دل کا غبار نکالتے ہیں اور ہر جانے والے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ میں سب سے پہلے آتا ہوں اور سب سے آخر میں جاتا ہوں۔ تاکہ لوگ میرے بارے میں کوئی منفی رائے دینے کی ہمت ہی نہ کریں” ۔ یعنی بقول ڈاکٹر راحت اندوری مرحوم
دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں
سب اپنے چہروں پہ دوہرا نقاب رکھتے ہیں۔
![]()

