Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنچ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنچ

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنچ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)بہت مدت پہلے کی بات ہے غالبا 60 کی دہائی کے اوائل کا قصہ ہے ایک بھارتی فلم آئی تھی،  فلم کا نام تو یاد نہیں رہا البتہ اس کے بعض کردار اور ان کے ادا کیے ہوئے مکالمات اب تک یاد ہیں۔ اس دور میں بھارتی فلموں میں مزاح کا عنصر بہت زیادہ ہوتا تھا اور چند اداکار تو ایسے تھے جو بطور کامیڈین بہت مشہور تھے جبکہ بعض اداکار نیم مزاحیہ نیم سنجیدہ کردار نگاری کے لیے بھی مشہور تھے اور فلم کی کاسٹ میں ہیرو، ہیروئن اور ولن کے علاوہ اگر ان اداکاروں کے نام بھی شامل ہوتے تو شائقین فلم پہلی فرصت میں ٹکٹ خرید کر (خواہ بلیک ہی میں سہی)  فلم دیکھنے ضرور جایا کرتے تھے۔ بات قدرے لمبی ہو گئی سو واپس اپنے موضوع پر آتے ہیں اور جس فلم کی ہم بات کر رہے ہیں اس میں ایک نیم سنجیدہ نیم مزاحیہ اداکار،  مرزا مشرف اور غالبا یعقوب کے درمیان گفتگو ہوتی ہے۔  یعقوب مرزا مشرف سے پوچھتا ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں تو مرزا مشرف جواب دیتا ہے کہ وہ امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتا ہے ، پھر یعقوب اس سے سوال کرتا ہے کہ کس قسم  کی امپورٹ ایکسپورٹ؟ چونکہ مرزا مشرف دراصل نوسر باز ہوتا ہے اور لوگوں کو دھوکہ دہی سے لوٹنے کا کام کرتا ہے اس لئے وہ یعقوب کو بتاتا ہے ” اب کیا بتاؤں جناب بس اتنا سمجھ لیں کہ ادھر کا مال ادھر، اور ادھر کا سب مال ادھر ۔

اس ڈائیلاگ کے الفاظ کی اگر وضاحت کی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے یعنی ادھر کا مال ادھر اور ادھر کا سب مال ادھر سے کیا  واضح ہوتا ہے؟ یعنی کہ پہلے دوسرے کو لالچ دے کر خوش کیا جاتا ہے اور پھر تگڑم بازی سے نہ صرف اسے دیا ہوا مال بلکہ اس کے ساتھ اس کا بھی مال سارے کا سارا واپس لے کر اسے کنگال کر دیا جاتا ہے۔ اور یہی مرزا مشرف کے نزدیک ایکسپورٹ اور پھر امپورٹ کا کاروبار ہوتا ہے ، یعنی نفع ہی نفع ، گویا بقول نظیر اکبر آبادی

کیا خوب سودا نقد ہے

اس ہاتھ لے اس ہاتھ دے

یہ فلمی سین ہمیں اس لیے یاد آیا کہ سرکار والا مدار نے عوام کے ساتھ کچھ اسی قسم کے امپورٹ ایکسپورٹ والا سین پاٹ کیا ہے یعنی پٹرول کی قیمتوں میں کمی کر کے اس پر لیوی 66 روپے 25 پیسے مقرر کر دی ہے جبکہ اس کے برعکس ڈیزل پر لیوی بڑھا کر 72 روپے 97 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اس حوالے سے یار طرحدار  مقیم امریکہ،  خالد خواجہ کا ایک شعر یاد آگیا ہے کہ

لائے ہیں لوگ شہر بچانے کے واسطے

مٹی کا تیل آگ بجھانے کے واسطے

اب اس حکومتی امپورٹ ایکسپورٹ کی تگڑم بازی پر اگر غور کریں تو بات بالکل اسی پوائنٹ پر چلی جاتی ہے یعنی ادھر کا مال ادھر،  ادھر کا سب مال ادھر۔

 پٹرول کی قیمت میں کمی سے عوام خوش ہو رہے ہیں اور اس کا انہیں حق بھی حاصل ہے اس لیے کہ جب ریلیف مل گیا تو دل پشوری کرنا تو بنتا ہے مگر ڈیزل پر لیوی بڑھانے سے جو مقاصد حاصل کرنا مقصود تھے ان پر بھی سوچنا چاہیے ۔ اور وہ یوں کہ پٹرول کے مقابلے میں ڈیزل کی خرید و فروخت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے کیونکہ نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ،  اشیاء کی نقل و حمل کے لیے بار بارداری ٹرانسپورٹ اور دیگر مختلف معاملات کے لیے ڈیزل کا جس قدر استعمال کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے لیوی کے نفاذ سے کئی گنا زیادہ امدن عوام کی جیبوں سے نکالنے کی منصوبہ بندی پٹرول پر دی جانے والی رعایت کو نہ صرف برابر بلکہ کم کر سکتی ہے بلکہ ممکن ہے کہ ڈیزل پر لیوی میں اضافہ سے کچھ زیادہ ہی حاصل کیا جائے،ب حالانکہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں بعض اطلاعات اگرچہ  حوصلہ افزا  ہیں اور ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ممکنہ خاتمے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بتدریج نمایاں کمی کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں اور  امید ہے کہ اب پاکستان، ایران سے نہ صرف براہ راست سستا تیل حاصل کر سکے گا بلکہ وہ جو دونوں ملکوں کے مابین گیس پائپ لائن اور سستی ترین بجلی کے منصوبے اب تک امریکی پابندیوں کی زد میں ہونے کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ایران نے گیس پائپ لائن اپنی طرف بچھا کر پاکستان کی سرحد تک پہنچا بھی دی ہے جس پر معاملات دونوں ملکوں کے درمیان ایران کی جانب سے عالمی عدالت میں لے جا کر پاکستان سے اربوں ڈالر بطور تاوان یعنی جرمانہ وصول کرنے کی کوششوں کی وجہ سے تلخی کا باعث بھی بنتے رہے ہیں اور اب اگر پاکستان اپنی جانب پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر لیتا ہے تو یہ ایک اور سہولت ہوگی جس کے بعد نہ صرف پاکستان میں تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی سے ہماری مشکلات ختم ہو سکتی ہیں تا ہم بدقسمتی سے اس قسم کے بین الاقوامی منصوبوں پر بعض اندرونی اور بعض بیرونی قوتیں اثر انداز ہو کر ان منصوبوں کو مکمل ہونے کی راہ کھوٹی کرتی ہیں۔ ان کا بندوبست بھی لازمی ہوگا جیسا کہ پاک ایران گیس منصوبے میں بھارت شامل تھا مگر بعد میں مکر گیا اسی طرح تاپی یعنی ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا کے درمیان جو بہت بڑا گیس منصوبہ رکا ہوا ہے اس میں پہلے بھارت نے اڑچھن ڈالی اور اب پاکستان،  افغان کشیدہ صورتحال کی وجہ سے معاملات الجھ رہے ہیں جب تک ان دونوں معاملات کے حوالے سے صورتحال معمول پر نہیں آتی کم از کم تاپی جیسا منصوبہ تو افغانستان کی ہٹ دھرمی کا شکار رہے گا البتہ پاک ایران گیس پائپ لائن بھارت کی شرکت کے بغیر بھی پاکستان اور ایران کے مابین سلجھایا جا سکتا ہے اور اس سے پاکستان بھرپور استفادہ بھی کر سکتا ہے۔ اور اب تیل بھی مزید سستا حاصل کر کے پاکستان میں تیل کی قیمتیں کم کی جا سکتی ہیں کہ بقول مرزا غالب

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

Loading