شباب کی باتیں
تیرے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیں
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ تیرے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیں۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے ویسے تو گدھے کو ہمارے ہاں گدھا ہی سمجھا جاتا ہے مگر گدھے کے بارے میں بعض باتیں اس کے برعکس بھی مشہور ہیں۔ ایک قدیم دور کے شاعر استاد رام پوری نے اگرچہ جو کہا ہے وہ قابل غور بھی ہے یعنی انسان اور گدھوں کی بھی سوچ کے بارے میں اگر انسانوں کا نکتہء نظر بیان کیا ہے تو گدھوں کی فکر کی بھی کچھ کچھ نمائندگی ضرور کی ہے۔ استاد رام پوری کہتے ہیں
ہم گدھے کو گدھا سمجھتے ہیں
جانے وہ ہم کو کیا سمجھتے ہیں؟
استاد صاحب نے گدھوں کی فکر کے حوالے سے جس حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے اس کا ثبوت پشتو زبان کی ایک کہاوت میں ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کسی نے ایک گدھے کو خوشخبری سنائی کہ مبارک ہو تمہارے گھر بچہ پیدا ہوا ہے۔ گدھے نے ترنت جواب دیا، پر مجھے کیا؟ اپنا وزن اٹھائے گا اور اپنا وزن اٹھاؤں گا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ گدھا یہ بات کرتے ہوئے اس کہانی کو بھلا بیٹھا تھا, جو ہم نے سکول کے زمانے میں غالبا چھٹی یا ساتویں جماعت میں پڑھی تھی اور جو کچھ یوں تھی کہ کسی گاؤں میں ایک تاجر اپنی دکان پر سودا سلف بیچنے کے لیے ہر مہینے بڑے شہر جا کر مختلف اشیاء خرید کر لایا کرتا تھا, باربرداری کے لیے اس نے ایک گدھا ایک خچر اور ایک گھوڑا رکھا ہوا تھا۔ گھوڑے پر وہ خود سوار ہوتا خچر پر نمک اٹھا کر لاتا اور گدھے پر روئی لاد دیتا، راستے میں ایک بڑی نہر بھی پڑتی تھی واپسی پر خچر نے نہر پار کرتے ہوئے ایک ڈبکی لگائی تو گدھے نے پوچھا تم نے ڈوبکی کیوں لگائی؟ خچر نے کہا ڈبکی لگانے سے بہت سا نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور مجھ پر وزن کم ہو جاتا ہے. گدھے نے یہ سن کر آؤ دیکھا نہ تاؤ، فورا نہر میں ڈبکی لگائی تو اس کے اوپر لدی ہوئی روئی پانی کو جذب کر کے کئی گنا بھاری ہو گئی۔
گدھے کے اس گدھا پن کو علامہ اقبال نے ایک اور طرح سے استعمال کرتے ہوئے اسے جمہوریت سے جوڑ رکھا ہے اور کہا ہے
گریز اس طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی
اگرچہ اہل مغرب نے جمہوریت کو بہترین طرز سیاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہے جو عوام پر عوام کے لیے عوام کے ذریعے حکمرانی کرتی ہے مگر علامہ نے یہاں بھی ایک نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی اصل حقیقت کو آشکار کیا ہے اور کہا ہے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
یعنی علامہ اقبال کے نزدیک جمہوری طرز حکومت میں گھوڑا اور گدھا ایک ہی استھان سے باندھےجاتے ہیں۔ اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو یہ جو طرز حکومت یعنی جمہوریت کی تعریف کرتے ہوئے اسے عوام کی حکمرانی قرار دیا جاتا ہے تو اس کے بارے میں دو بڑے فلسفیوں یعنی مغرب کے میکاولی اور برصغیر کے اچاریہ کوٹلیا چانکیہ نے دو کتابیں یعنی میکاولی نے دی پرنس اور چانکیہ نے ارتھ شاستر لکھ کر حکمرانوں کو اپنے اپنے عوام کو ” گدھا” بنانے کی راہ پر نہ لگایا ہوتا، تو ہمارے ہاں عوام کو کالانعام یعنی گدھا ہی قرار نہ دیا جاتا ۔ جنہیں ہمیشہ حکمران طبقات ٹرک کی لال بتی کے پیچھے دوڑاتے رہتے ہیں، اسی لیے تو حافظ نے کہا تھا
رموز مصلحت ملک خسرواں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مہ خروش
جانوروں میں گدھا واحد ایسا جانور ہے جو کسی بھی طور تربیت کے عمل سے نہیں گزارا جا سکتا حالانکہ دوسرے تمام جانوروں کو جس طرح بھی چاہیں انسان ان کو سدھار ہی لیتا ہے مگر گدھا؟ توبہ توبہ!! اپ اس کو اگر اگے لے جانا چاہیں اور یہ اڑ جائے تو الٹے پاؤں پیچھے کی طرف چلنا شروع کر دیتا ہے مگر حضرت انسان بھی تو اشرف المخلوقات ہی ہے نا جب گدھے کو کشتی کے ذریعے دریا پار کروانا مقصود ہو تو اس کا رخ پانی کے الٹ رکھ کر اپنی جانب کھینچا جاتا ہے وہ اپنی “گدھوانہ خصلت ” سے مجبور ہو کر پیچھے کی طرف زور لگاتا ہے یوں دریا کنارے لگی کشتی میں چڑھ جاتا ہے ویسے تو گدھے کے حوالے سے وہ کہانی بھی بہت مشہور ہے کہ جنگل کے جانوروں نے شیر کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر اسے منصب شاہی سے اتارنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گدھے کو جنگل کا بادشاہ بنانے کے لیے اسے شیر سے بھڑنے پر امادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے لومڑی کو آگے کر کے گدھے کو راضی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی لومڑی نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کرتے ہوئے گدھے کو یقین دلایا کہ وہ جسامت کے لحاظ سے شیر پر بھاری ہے بس جب شیر ائے تو میں تمہیں کہوں گی ‘ گدھے ماموں، تمہاری آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں، ان میں خون اترا ہوا ہے اور تمہاری دم بپھر رہی ہے بس حملہ کر دو۔( پشتو میں اس کے لیے جو الفاظ کہانی میں استعمال ہوۓ ہیں وہ یوں ہیں کہ ماما سترگے دے سرے لکئ ببرہ ) یعنی تمہاری آنکھیں سرخ اور دم بپھر کر تنی ہوئی ہے۔ اس دوران شیر آتا دکھائی دیا تو لونڑی نے گدھے کو چمکارنا شروع کر دیا اور شیر پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ گدھے کو محسوس ہوا کہ واقعی اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے اور اس کی دم کے بال کھڑے ہو کر شدید تناؤ کی کیفیت سے دوچار ہو گئے ہیں۔ گدھے نے لومڑی کے آنکے میں آکر جوں ہی شیر پر جھپٹنے کی کوشش کی، شیر نے خطرہ بھانپ کر ایک زبردست پنجا گدھے کو ایسا مارا کہ وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا بھاگ گیا جبکہ لومڑی پہلے ہی راہ فرار اختیار کر چکی تھی۔ اس کے بعد گدھے نے شیر کو غنی دہلوی کا یہ شعر ضرور سنایا ہوگا کہ
تیرے جواب کا اتنا مجھے ملال نہیں
مگر سوال جو پیدا ہوا جواب کے بعد
اور یہ سوال ان گدھوں کو ابھی سے ازبر کرانا ضروری ہے جو اتنی بڑی تعداد میں پیدا ہو گئے ہیں کہ ریکارڈ قائم ہو گیا ہے اور ان لوگوں کو ابھی سے ہوشیار ہو جانا چاہیے جن کو ماضی میں قصائیوں نے گدھوں کا گوشت کھلا کھلا کر گدھا بنایا تھا
تیرا لٹیا شہر بھنبور
نی سسی اے بے خبرے
![]()

