شباب کی باتیں
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)معلوم نہیں جوتا کب ایجاد ہوا ہے اور دنیا کا وہ پہلا خوش نصیب کون تھا جس نے سب سے پہلے جوتا پہنا تھا تاہم جب سے جوتا ایجاد ہوا ہے اس کے ساتھ جوتے چور بھی پیدا ہوئے ہوں گے یوں وقت کے ساتھ ساتھ جہاں جوتوں کی نت نئی شکلیں سامنے اتی رہی ہیں جوتے چوروں کی کئی اقسام بھی سامنے اتی رہی ہوں گی جب کہ اب جوتوں کا ایک مختلف مصرف بھی سامنے آ چکا ہے یعنی جس کو کسی سیاسی لیڈر کے نظریات سے اتفاق نہیں ہوتا وہ موقع ملتے ہی اس پر جوتا پھینک مارتا ہے۔ اس کی ابتدا چند سال پہلے ایک تقریب میں مصر کے ایک فوٹوگرافر نے اس دور کے امریکی صدر پر جوتا پھینکنے سے کی جسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا اور عدالت نے قید کی سزا سنا کر صورتحال کو کنٹرول کرنے کی اپنی سی کوشش کی تھی مگر معاملہ اس کے برعکس صورتحال اختیار کرتا چلا گیا یعنی کئی ملکوں میں ایسی ہی وارداتیں رونما ہونے لگیں۔ اس سے سیاست میں ایک نئی ٹرم کا اضافہ ہوا اور جب بھی کوئی نیا شکار خبروں کی زد میں آتا تو اسے جوتا کلب کا رکن قرار دے دیا جاتا ہمارے ہاں یعنی بر صغیر میں اس جوتا بازی کے کئی واقعے اور قصے مشہور ہیں اور صدیوں پہلے ایک عوامی شاعر نظیر اکبر ابادی نے اس حوالے سے اپنی مشہور زمانہ نظم ادمی نامہ میں جو شاعری کے صنف مخمس میں کہی گئی ہے یعنی مخمس میں ہر بند کے پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔ جوتوں ہی کے حوالے سے کیا خوب کہا ہے
مسجد بھی ادمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قران و نماز یاں
اور ادمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں
جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
اس نظم سے اتنا تو معلوم ہوا کہ یہ جو ہمارے ہاں مساجد سے جوتے چوریوں کی وارداتیں عمل میں آتی ہیں ان کی روایت بہت پرانی ہے یہی وجہ ہے کہ اب بڑے بڑے مساجد اور درگاہوں پر جوتوں کی رکھوالی کا ایک نظام چل پڑا ہے اور یار لوگوں نے سالانہ بنیاد پر ٹھیکے لے کر نیا کاروبار ایجاد کر لیا ہے۔ کاش یہ نظام اس وقت بھی ہوتا جب شاید لکھنؤ یا کسی دوسرے شہر میں ایک بزلہ سنج شاعر نے شہر کے لا تعداد شعرائے کرام کو اپنے ہاں مشاعرہ اور پرتکلف عشائیہ سے لطف اندوز ہونے کے لیے دعوت دی۔ اب شعراء کا کیا ہے انہیں تو ایسی پرتکلف ضیافتوں کا انتظار ہی رہتا ہے اور ساتھ میں لذت کام و دہن کا بھی بخوبی انتظام ہو تو محفل دو اتشہ ہو جاتی ہے۔ مقررہ روز شہر کے چیدہ چیدہ شعرائے کرام نہایت ذوق و شوق سے دعوت سخن و طعام سے لطف اندوز ہونے جا پہنچے۔
میزبان نے ہال کمرے میں فرش پر چاندنی، گاؤ تکیے، پاندان اور دیگر لوازمات کا بہترین انتظام کیا تھا شاعر آتے رہے میزبان اور مہمان کورنش بجا لا لا کر اپنی اپنی نشست پر براجمان ہوتے رہے۔ مشاعرہ شروع ہوا شمع محفل ایک ایک کر کے شعراء کے سامنے رکھی جاتی رہی، کلام پڑھا اور سنا جاتا رہا۔ حسب دستور واہ واہ کے ڈونگرے برستے رہے، داد دی اور سمیٹی جاتی رہی۔ مشاعرہ بخوبی اپنے اختتام کو پہنچا تو کھانے کے انتظار میں خوش گپیاں شروع ہو گئیں۔ میں بالاخر دسترخوان بچھا دیے گئے اور انواع و اقسام کے کھانے چن دیے گئے، کھانوں کی خوشبو نے سب کو اپنی سحر میں جکڑ لیا۔ کھانا شروع ہوا تو مہمان ایک ایک کھانے کی تعریفیں کر کر کے میزبان کی دریا دلی کا شکریہ ادا کرتے رہے، ہر شخص کی مخلصانہ تعریفیں سن کر میزبان بس ایک ہی جملہ ادا کرتا رہا کہ” تناول فرمائیں حضور یہ سب آپ ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔”
جب کھانا کھایا جا چکا تو میزبان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک ضروری کام کا کہہ کر اجازت چاہی, اور کہا حضور اپ لوگ جاتے جاتے قہوے سے ضرور لطف اندوز ہوں مجھے انتہائی اہم کام کے لیے ایک جگہ پہنچنا بہت ضروری ہے میں آپ سے ایک ڈیڑھ ہفتے بعد ہی مل سکوں گا۔ میزبان یہ کہہ کر رخصت ہو گیا جبکہ ملازم نےقہوے کی پیالیاں دسترخوان پر سجا دیں، مہمان قہوے سے لطف اندوز ہونے کے بعد رخصت ہونے لگے اور جیسے ہی ہال کمرے سے باہر آئے تو ان کی جوتیاں غائب تھیں ملازموں سے پوچھا ہمارے جوتے کہاں ہیں؟ جواب ملا یہ جو اپ لوگوں نے اتنے لذیذ کھانے تناول فرمائے یہ انہی جوتیوں کو بیچ کر تو ہم لائے تھے۔ تب مہمانوں کو میزبان کے اس جملے کا مطلب سمجھ میں آیا کہ کھائیے حضور یہ سب آپ ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے اس کے بعد میزبان کے اچانک چلے جانے اور ہفتہ ڈیڑھ بعد ملنے کا کیا نتیجہ نکلا اس کا صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہے
اس دور میں جوتے الماریوں اور کتابیں فٹ پاتھ پر رکھنے کا رواج ابھی نہیں پڑا تھا اس لیے شاعروں کےجوتے ضرور کسی کباڑی کی دکان پر پہنچا دیے گئے ہوں گے، آج کا دور ہوتا تو مختلف برینڈز کے جوتے دکانوں کے شو کیسوں میں الگ الگ خانوں میں رکھ دیے جاتے تو شاعروں کو اپنے ہی جوتے تلاش کرنے میں آسانی ضرور رہتی۔
جوتوں کے حوالے سے ایک اور کہانی بھی مشہور ہے جس میں مرکزی کردار سنڈریلا کا ہے کہانی تو بہت طویل ہے تا ہم مختصراً یہ کہ سنڈریلا ایک بڑے گھر میں ملازم ہوتی ہے جہاں اس کی ہم عمر دو بہنیں اس پر ظلم کرتی ہیں کیونکہ سنڈریلا ان سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ شہزادہ اپنے لیے زندگی کی ساتھی چننے کی غرض سے شہر کی تمام لڑکیوں کو ڈانس شو میں بلواتا ہے۔ سنڈریلا بھی جانا چاہتی ہے مگر دونوں لڑکیاں اس کے لباس کو پھاڑ کر اسے تہہ خانے میں بند کر دیتی ہیں, سنڈریلا بہت روتی ہے تو جادوگرنی آ کر اس کی مدد کرتی ہے اس کے لباس کو جادو کے زور سے ٹھیک کرتی ہے اور انتہائی نفیس اور خوبصورت جوتے دے دیتی ہے۔
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
سنڈریلا بھی وہاں پہنچ کر رقص کر کے شہزادے کی نظروں میں ا جاتی ہے اور وہ اسے ساتھ میں رقص کرنے کی دعوت دیتا ہے مگر جادوگرنی کے دیے ہوئے وقت سے پہلے اسے واپس پہنچنا لازمی ہوتا ہے اس لیے وہ وہاں سے چلی جاتی ہے تو اس کا ایک جوتا رہ جاتا ہے بعد میں اس کی جوتے کی مدد سے شہزادہ اسے تلاش کر لیتا ہے اور اسے اپنی ملکہ بنا لیتا ہے
اور بھی کئی کہانیاں جوتوں کے حوالے سے مشہور ہیں جن پر اگلے کسی کالم میں بات کی جا سکتی ہے
ان کو کیوں ایوارڈ نہیں ملتے جو بناتے ہیں
کھسے وسے، سینڈل سینڈل، چھتر سب
![]()

