*شباب کی باتیں*
*شام سے پہلے ہی ڈوبا جب ستارہ شام کا*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ شام سے پہلے ہی ڈوبا جب ستارہ شام کا ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ مشتاق شباب مشتاق شباب)حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں ہمدم دیرینہ پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم کی یادیں سمیٹنے کے لیے دوست احباب کے علاوہ بڑی تعداد میں ادب کے طالب علم بھی موجود تھے۔ اجلاس میں اتنی تعداد میں ادب سے دلچسپی رکھنے والے کم کم ہی نظر آتے ہیں، زیادہ سے زیادہ 15/ 20 افراد بھی بڑی مشکل سے آجاتے ہیں، جبکہ عموماً آٹھ دس افراد ہی شریک ہوتے ہیں، اس کی وجوہات مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہیں، تاہم ایک اہم وجہ دوستی فاؤنڈیشن کے دفتر تک رسائی کا مسئلہ ہے، جہاں اجلاس منعقد ہوتے ہیں، اور پھر وقت کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ جب سے اجلاس نماز مغرب کے بعد کی بجائے نماز عصر کے بعد منعقد ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے، گرمی کی شدت کی وجہ سے یہ مسئلہ بھی شہر سے آنے والوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ مگر یہ ڈاکٹر نذیر تبسم کے ساتھ اس کے دوستوں، شاگردوں اور طلباء کی محبت اور عقیدت ہی تھی جس نے تعزیتی ریفرنس (برسی) کے حوالے سے لگ بھگ 34 / 35 افراد کی شرکت کو یقینی بنایا۔ اجلاس کی صدارت، ماہر نفسیات اور استاد الاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی کے ذمے تھی، ان کے علاوہ بھی ادب و شعر سے وابستہ کئی اہم شخصیات کو محفل کھینچ لائی تھی۔ تمام مقررین نے ڈاکٹر نزیر تبسم کی یادوں کو اپنے اپنے حوالے سے بیان کیا اور خراج عقیدت پیش کیا۔
*مجھ کو جو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز تھے*
*جانے کہاں گئے وہ میرے یار کچھ کہو*
*وہ جن کے قہقہوں سے تھا زندہ یہ میرا شہر*
*کس دیس جا بسے ہیں وہ دلدار کچھ کہو*
نذیر تبسم نے جن دلدار ہستیوں کی کسی اور دیس جابسنے کی بات کی ہے، یقیناً ان کا اشارہ اپنی عزیز از جان اہلیہ محترمہ کی جانب تھا، جن کی جدائی نے نذیر تبسم کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا اور وہ ان کی یادوں کے سہارے زندہ رہا، مگر اس کے ہونٹوں پر ہر لمحے بکھری ہوئی مسکراہٹ نے اس کے دوستوں، بہی خواہوں اور خصوصاً لواحقین کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ غم و اندوہ کا شکار ہے۔ تاکہ ان کے لئے زندگی کو برتنے کا حوصلہ برقرار رہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ادھر حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں ڈاکٹر نذیر تبسم کی یادوں کو تازہ کیا جا رہا تھا جبکہ اسی دوران ایک اور ہمدم دیرینہ، منفرد لہجے کے شاعر، خوبصورت کہانی کار اور ماہر علم عروض، یوسف عزیز زاہد کی اہلیہ محترمہ کی رحلت کی خبر آپہنچی۔ بہت دکھ ہوا، مرحومہ کو چند روز قبل ہارٹ کا مسئلہ اچانک سامنے آیا تھا، انہیں ہسپتال لے جایا گیا مگر بلڈ پریشر وغیرہ نارمل نہیں ہو رہے تھے، اس دوران یوسف عزیز زاہد سے موبائل ایپس کے ذریعے رابطہ رہا، اس کی شدید پریشانی اور ہماری دعائیں جاری رہیں، بڑی مشکل سے صورتحال میں کچھ بہتری ہوئی تو اینجیو پلاسٹی کے مراحل طے ہوئے۔ زاہد کو بھی قدر سکون ملا مگر جس نے جانا ہوتا ہے وہ پھر جدائی کے دکھ دے کر ہی چلا جاتا ہے۔ گزشتہ روز نماز جنازہ کے موقع پر یوسف کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ آنسوؤں کی ایک جھڑی لگی ہوئی تھی۔ نہ جانے زندگی کے کس موڑ پر اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے یوسف عزیز زاہد نے بھی کہا تھا
*شام سے پہلے ہی ڈوبا جب ستارہ شام کا*
*میری تنہائی نے بڑھ کے قرض اتارا شام کا*
اور اب ایک عرصے تک اسے تنہائیوں سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔
*ان وادیوں میں یاد نہ آتی امان کی*
*تنہائی کاٹ کھاتی ہے خالی مکان کی*
حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں یوسف عزیز زاہد کی اہلیہ محترمہ کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت سے فارغ ہوئے ہی تھے، اور اگلی صبح جب جنازے میں شرکت کی تیاری کی جا رہی تھی کہ ایک اور جانکاہ خبر نے ادبی حلقوں کو مغموم کر دیا اور یہ خبر تھی ایک اور ہمدم و رفیق، فضل حسین صمیم کی دائمی جدائی کی۔ فیس بک پر یہ غمناک خبر ڈاکٹر نذیر تبسم کے فرزند ارجمند، وجاہت نذیر نے شیئر کی تھی اور ادبی حلقوں کے دکھوں میں اضافے کا باعث بنی۔ فضل حسین صمیم نے شاید اسی حوالے سے کبھی کہا تھا کہ
*مٹی کا سمندر بھی کبھی دیکھا ہے تم نے؟*
*کل شام بھی اک شخص سنا ڈوب گیا ہے*
فضل حسین صمیم سے میرا تعلق 80ء کی دہائی میں کوئٹہ سے قائم ہوا تھا۔ جہاں میں ریڈیو پاکستان سے سینیئر پروڈیوسر کی حیثیت سے جبکہ صمیم صاحب ایف جی کالج سے بطور لیکچر وابستہ تھے اور وہاں کے ادبی حلقوں میں ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ اس کے بعد صمیم صاحب کا تبادلہ ایف جی کالج پشاور ہو گیا تھا جب کہ میں 1982ء تک وہیں مقیم رہا۔ لیکن یہاں ( پشاور) کے ادب نواز حلقوں میں انہوں نے اپنی جگہ پیدا کر لی تھی۔ حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں ان کی شرکت سے ان کی پہچان بڑھتی رہی۔ بہت خوبصورت لب و لہجے کے شاعر ہونے کے علاوہ ادبی محفلوں میں تنقید کے حوالے سے بھی منفرد انداز رکھتے تھے اور بحث کے دوران ایسے ایسے نکتے نکال کر لاتے کہ شرکائے محفل حد درجہ متاثر ہو جاتے۔ اس دوران پی ٹی وی پر اردو ڈراموں میں بھی انہوں نے اپنی پہچان قائم کی، جبکہ پشاور کے ایک اہم اخبار میں کالم بھی لکھتے رہے۔ پشاور سے تبادلہ ہو جانے کے بعد وہ کئی شہروں میں پڑھاتے رہے اور ریٹائر ہونے کے بعد اپنی جنم بھومی، واہ کینٹ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ تاہم ادب کے ساتھ ناتہ آخری لمحوں تک برقرار رکھا
*مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ او لئیم*
*تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟**
![]()

