Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ مرے حروف مرے  شد و مد تلاش کرو ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔  مشتاق شباب  مشتاق شباب

شباب کی باتیں

*مرے حروف مرے  شد و مد تلاش کرو*.

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ مرے حروف مرے  شد و مد تلاش کرو ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔  مشتاق شباب  مشتاق شباب) شاعروں کے دواوین کو یکجا کر کے کلیات کی صورت میں شائع کرنا کوئی نئی بات نہیں،  ایسے لاتعداد شعرائے کرام کی کلیات موجود ہیں، جنہوں نے مختلف اوقات میں اپنے کلام کے مجموعے مختلف ناموں سے شائع کر کے قارئین کی نذر کیے اور نہ صرف ان کی زندگی ہی میں،  بلکہ بعض کی رحلت کر جانے کے بعد ان کے مختلف دواوین کو مرتب کر کے کلیات کی شکل میں سامنے لایا گیا۔۔۔  تاہم  ایسے شاعر کم کم ہی ہوں گے جنہوں نے مختلف شعری مجموعوں  کے انتخاب کو کتابی صورت دی ہو۔

*کچھ تو اوراق یہاں مٹی میں مل جاتے ہیں*

*کچھ کتابوں کی بھی تدوین  نہیں ہوتی ہے*

کسی بھی شاعر کے کلام کا خلاصہ کرنا اتنا آسان کام نہیں کہ اس کی شاعری نہ کسی ایک وقت پر محیط ہوتی ہے نہ ایک زمانے اور حالات کے تابع۔۔۔  شاعری ایک مسلسل سفر ہے،  یوں ہر غزل تو کیا ہر شعر اپنا ایک الگ سماجی، سیاسی اور ادبی پس منظر رکھتا ہے۔

زندگی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے،  حالات و واقعات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔  شاعر بھی ان حالات سے متاثر ہوتا  ہے اور ایک وقت میں اگر وہ رجائیت پسند ہوتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آسکتا ہے جب اس پر قنوطیت کے اثرات غالب آ جاتے ہیں۔  تاہم ایسا بھی ضرور ہوتا ہے کہ جو غزلیں،  نظمیں ایک ہی دور،  ماحول اور حالات کے تحت لکھی جاتی ہیں،  ان کا بیانیہ ایک جیسا ضرور لگتا ہے۔

*اک ترے آنے سے آسکتی ہے رونق میری*

*تیرے جانے سے میں سنسان بھی ہو سکتا ہوں*

رشید سندیلوی نہ صرف ایک خوبصورت لب و لہجے کے شاعر ہیں، نقاد ہیں، محقق ہیں بلکہ کئی شعری مجموعوں کے خالق بھی ہیں۔ جنہوں نے اپنے تمام شعری مجموعوں کو خود ہی چھان پھٹک کر ایک کتاب میں یکجا کیا اور اسے جو نام دیا ہے وہ ان کی جودت طبع کی غمازی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بجائے کلیات مرتب کرنے کے انہوں نے “خلاصہ”  کے نام سے ایک ایسی کتاب مرتب کر کے اردو ادب کے قارئین کو تحفے کے طور پر پیش کر دی جس کے اندر ان کے سابقہ تمام شعری مجموعوں کا نچوڑ شامل ہے۔  کتاب کو نہ ہی دیباچہ، نہ تقریظ کا مرہون منت رکھا گیا،  جو ایک  بااعتماد قلمکار کے اپنے فن پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔  البتہ کتاب کے بیک فلیپ پر چند جملے لکھ کر رشید سندیلوی نے اس کتاب کی غرض و غایت کو واضح ضرور کر دیا ہے،  تاکہ جس بھی قاری کے ہاتھ تک کتاب پہنچے وہ اس کتاب کی اشاعت کی ضرورت سے کما حقہ،  آگاہ ہو جائے۔  وہ لکھتے ہیں۔

*”ہر تخلیق کار اپنے اندر کے شور اور تنہائی کو لفظوں کا لباس پہناتا ہے،  تاکہ وقت کی دھول میں اس کا چہرہ گم نہ ہو جائے”۔*

  اندر کے “شور اور تنہائی”  کے دو متضاد رویوں کو جس طرح رشید سندیلوی نے یکجا کر کے،  کسی بھی شاعر کی شاعری کو  جو نئے معانی پہنائے ہیں،  اس جملے سے گویا انہوں نے پوری شاعری کی سلطنت کا پریچے کر دیا ہے۔ کیونکہ ہر شاعر کی شاعری کے پیچھے یہی آفاقی سچ کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔

*میں نے لفظوں سے تراشے ہیں جو پیکر تیرے*

*کیا میرے شعر سے توثیق نہیں ہوتی ہے؟*

*اشک آنکھوں میں کیوں نہ ہوں گے رشید*

 *مسجدوں میں وضو ضروری ہے*

رشید سندیلوی کی شاعری صرف کرب ذات کا نوحہ ہی نہیں ہے،  وہ اپنے ارد گرد کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ سماجی اور سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ پر اس کی گہری نظر ہے اور وہ اپنے قاری کو حالات حاضرہ کے حوالے سے نہایت خوبصورتی سے باخبر بھی رکھتا ہے۔

*اس لیے ہے یہ اندھیرا سا گلی کوچوں میں*

 *آپ نے روشنی کو عام نہیں ہونے دیا*

جہاں رشید سندیلوی کا فن سادگی و پرکاری کا بین ثبوت اپنے الفاظ میں سموتا ہوا قاری کو ساتھ لے کر چلتا ہے،  وہاں فن شاعری کے رموز و نکات کی باریکیوں سے بھی استفادہ کرتے ہوئے،  اپنی فنکارانہ چابکدستی کے اظہار میں بھی کوئی کمزوری نہیں دکھاتا،  اور قافیہ بندی کے علاؤہ،  ردیف کی جولانیاں بھی کلام لکھتے ہوئے اپنے جلو میں ساتھ ساتھ رکھتا ہے اور جس سہولت سے اظہار خیال کرتا ہے یہ رشید سندیلوی کے کمال فن کی نشانیاں ہیں۔

*میں کھو گیا ہوں میرے خال و خد تلاش کرو*

*مرے حروف مرے شد و مد تلاش کرو*

رشید سندیلوی کی شاعری میں جہاں تغزل کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں اور قارئین کو اپنی گرفت میں لے کر ان کے جذبات میں کیفیات کی ایک نئی دنیا بساتے ہیں  ان کے فکری ماحول کو قوس قزح کے رنگوں سے آشنا کرتے ہیں،  وہاں تلمیحات کے ایسے نئے رنگ بکھیرتے ہیں جو ان سے پہلے کسی نے سوچے بھی نہیں ہوں گے،  اور جو قارئین کو سوچنے پر مجبور بھی کر دیتے ہیں۔

*تخت پر پاس بٹھایا تھا مجھے یوسف نے*

*کوئی برتن مرے سامان میں رکھا گیا تھا*

*میں کسی پیڑ میں پوشیدہ پیمبر تو نہیں*

*پھر مرے جسم پہ چلتے ہیں یہ آرے کیسے؟*

الفاظ برتنے کا جو ہنر رشید سندیلوی کو عطا ہوا ہے۔  ایسا بہت کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

*تیرے قدموں میں جو آبیٹھا ہوں*

 *یہ مری ہیچ مدانی نہ سمجھ*

  *چھو کے آیا ہوں ہوا کے پاؤں*

 *میرے قصے کو کہانی نہ سمجھ*.

رشید سندیلوی کے فن پر اور بھی بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے،  ان کے فن کی مزید پرتیں کھولی جا سکتی ہیں،  مگر کالم کی تنگ دامانی آڑے آرہی ہے۔  بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ

*اللہ کرے زور قلم اور زیادہ*

Loading