Daily Roshni News

شباب کی باتیں ۔۔۔اپیل بھی تم دلیل بھی تم، گواہ بھی تم وکیل بھی تم ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

*اپیل بھی تم دلیل بھی تم، گواہ بھی تم وکیل بھی تم *

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔اپیل بھی تم دلیل بھی تم، گواہ بھی تم وکیل بھی تم ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)غالبا” 60ء کی دہائی کے اواخر کی بات ہے پشاور میں تب جشن خیبر کے نام سے ہر سال پشاور صدر کے قیوم اسٹیڈیم میں ایک صنعتی نمائش کا اہتمام کیا جاتا تھا جس میں دیگر کئی تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک سرکس بھی آتی تھی جو اولمپیا سرکس کے نام سے مشہور تھی۔ اس سرکس میں کئی قسم کی کھیل تماشے تو ہوتے ہی تھے لیکن مختلف آئٹمز کے درمیان وقفے کے دوران رنگ برنگے ملبوسات پہنے،  چہروں کو رنگوں سے مزین کیے دو مسخرے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے شائقین کو قہقہے بکھیرنے اور لوٹ پوٹ ہونے پر مجبور کر دیتے تھے۔ ان میں ایک تو نارمل مگر ذرا قد آور جبکہ دوسرا پستہ قد ( بونا ) ہوتا تھا۔ یہ دونوں  سرکسں کے رنگ (میدان) میں آکر پہلے کچھ کرتب دکھاتے جس کے دوران یہ ایک دوسرے سے ٹکراکر الجھ جاتے، تو پہل کرنے کا الزام ایک دوسرے پر لگا کر لڑائی شروع کر دیتے۔  بات بڑھ جاتی تو پستہ قد یعنی بونا لمبے قد والے کو لڑائی کا چیلنج دے دیتا، لمبا مسخرہ اسے منع کرتا مگر بونا بڑھ چڑھ کر اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتا، لڑائی کے دوران بونا اسے کہتا کہ لڑائی ایک شرط پر لڑی جائے گی، جب لمبے قد والا شرط کے بارے میں پوچھتا تو بونا اسے کہتا کہ جب میں بولوں گا کہ لڑائی شروع تو لڑائی شروع کر دی جائے گی اور جب میں کہوں کہ لڑائی بند تو لڑائی بند کر دی جائے گی۔ لمبا یہ شرط مان لیتا اور دونوں مقابل آجاتے، لمبا اپنی جگہ پر کھڑا ہوتا اور بونا اس کے ارد گرد گھومتا ہوا جیسے ہی اس کی پشت پر پہنچتا تو پیچھے سے حملہ آور ہو کر لمبے کو لڑائی شروع کرنے کا بھاشن دے کر ایک زبردست لات رسید کرتا اور بھاگ کر دور چلا جاتا۔  لمبا اس کو پکڑنے کی کوشش کرتا تو “لڑائی بند٫  لڑائی بند” کہہ کر بونا ہاتھ کھڑے کر دیتا۔ بیچارہ لمبا ادھر ہی کھڑا رہ جاتا۔

اولمپیا سرکس کا یہ آئیٹم ہمیں امریکی وزیر دفاع کے ایک بیان سے یاد آیا ہے، جس نے ایران پر تازہ حملوں  پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اس کے غلط فیصلوں کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے ایکس پر اپنے بیان میں امریکی سنٹرل کمانڈ کا ایران پر حملوں سے متعلق بیان شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران نے غلط فیصلہ کیا ہے۔

 امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا تیسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔

اس سے قبل پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز اگلے حکم اور امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رہے گی اور کسی بھی جہاز کو آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا

 اپیل بھی تم دلیل بھی تم, گواہ بھی تم وکیل بھی تم

 جسے بھی چاہو حرام کہہ دو جسے بھی چاہو حلال کر دو

نظر بظاہر دیکھا جائے تو ایران, امریکہ جیسی عالمی قوت کے سامنے سرکس کے اس پستہ قد ہونے کی مانند دکھائی دیتا ہے، مگر

 “لڑائی شروع اور لڑائی بند”

   کے نعرے حالیہ امریکہ ایران جنگ کے دوران امریکی کیمپ سے اٹھتے دکھائی دے رہے تھے۔ امریکہ عالمی طاقت ہوتے ہوئے بھی ایران جیسی چھوٹی، کمزور اور ناتواں قوت کے ہاتھوں اپنی درگت بناتے ہوئے ویسے تو بڑھکیں مارتا،  دھمکیاں دیتا دکھائی دیتا رہا  مگر پھر بھی اپنے بے پناہ حملوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا رہا۔ اور جس طرح ایران نے اس کا بھرکس نکال کر اس کی قوت کی حقیقت دنیا پر آشکار کر دی ہے اس کے بعد وہ جنگ کے میدان سے ہر صورت جان چھڑانے کے لیے اپنے دوست ممالک کے ترلے منتیں بھی کرتا رہا۔ حالانکہ دنیا ایران سے یہ توقع ہی نہیں کر رہی تھی کہ وہ اپنی قوت اس طرح سے مجتمع کر کے ٹرمپ کی ہیکڑی نکال دے گا۔ اور سرکس کے بونے کی بجائے لمبی قد والے مسخرے کی جانب سے “لڑائی بند لڑائی بند” کی چیخیں ابھر کر دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیں گی۔  ویسے یہ جو جنگ بندی اور معاہدہ طے ہو جانے کے باوجود اچانک اگلے ہی روز ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کا اعلان کیا تو یہ امریکہ کی تاریخ پر گہری نگاہ رکھنے والوں کے نزدیک غیر متوقع بات تھی ہی نہیں، بلکہ دنیا جانتی تھی کہ دیکھیں امریکی صدر ٹرمپ کب ان معاہدوں کو پاؤں تلے روند کر، پیچھے سے وار کرتا ہے؟  فارسی کے شاعر فردوسی نے مدتوں پہلے کہا تھا۔

ز  بد  اصل چشمی بہی داشتن

 بود خاک دردیدہ امباشتن

 یعنی بد اصل سے خیر کی توقع کرنا ایسے ہی ہے جیسے آنکھوں میں مٹی بھر لینا

ادھر ایران بھی اس امریکی روایتی کردار سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے پہلے ہی سے ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار بیٹھا تھا، حالانکہ یہ وہ وقت تھا کہ ایرانی قوم اپنے رہبر ملت شہید خامنہ ای کی تدفین میں مصروف، غم و اندوہ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ مگر اس دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے امام خامنہ ای کے جنازے پر حملہ کرنے کی خبروں نے بھی دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔  کیونکہ شہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے 100 سے زائد ممالک کی اعلی سطح  وفود بھی شرکت کر رہی تھیں۔  بہرحال بعض مبینہ اور سنجیدہ قسم کی دھمکیوں نے خصوصا”  اسرائیل کو معاندانہ اقدامات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔  لیکن اسی موقع پر صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے حوالے سے اقدامات اٹھانے اور جنگ بندی ختم کرنے کے اعلانات کیے،  جس نے صورتحال کو ایک بار پھر کشیدہ کر دیا اور امریکی افواج نے دوبارہ جنگ چھیڑ کر آبنائے ہرمز  کے حوالے سے معاملات کو بگاڑنے کی ابتدا کی،  لیکن ایران کی تیاریاں دیکھ کر یقینا” صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہوش اڑ گئے ہوں گے۔ اور ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر “لڑائی بند،  لڑائی بند” کے نعرے لگاتے ہوئے سرکس کے رنگ میں ہاتھ کھڑے کرتے  دکھائی دیں۔ کہ بقول ڈاکٹر راحت اندوری

اس کی کتھئی آنکھوں میں ہیں جنتر ونتر سب

 چاقو واقو، چھریاں وریاں، خنجر ونجر سب

 تلسی نے جو لکھا اب کچھ بدلا بدلا ہے

 راون واون، لنکا ونکا، بندر وندر سب

Loading