Daily Roshni News

شباب کی باتیں ۔۔۔۔ لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

شباب کی باتیں

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔۔ لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب)عالمی منظر نامہ کچھ خطرناک اشارے دے رہا ہے،جس نے ہمیں ماضی کے تلخ واقعات کی یاد دلا دی ہے، تازہ خبر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں، تاہم صورتحال کی حتمی تصدیق کے لیے ضروری ہے کہ معائنہ کار دوبارہ تنصیبات کا دورہ کریں اور معائنہ کریں۔ ہمارے کلاس فیلو، دیرینہ دوست اور عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے والے امریکہ میں مقیم شاعر خالد خواجہ نے کیا خوب کہا ہے ۔

نظر کی حد تلک پھیلے ہوئے جنگل کا مالک ہے

جو میرے ایک پودے کو شجر ہونے نہیں دیتا

آپ کو یقینا یاد ہوگا کہ اسی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے جب ماضی میں امریکی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے نہ صرف عراق اور لیبیا پر جوہری ہتھیار رکھنے کے الزامات کے تحت عالمی دباؤ کی پشت پناہی سے ان دونوں ملکوں میں  جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے یورینیم کی افزودگی کی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ٹیمیں وہاں بھیجیں، تو دونوں اسلامی ملکوں پر خطرناک اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے جھوٹے الزامات بھی لگائے جاتے رہے، جبکہ جوہری اور دیگر ہتھیاروں کی صفائی کے نام پر دونوں ملکوں کے وہ ہتھیار بھی تلف کرائے جن سے دونوں ملک یعنی عراق اور لیبیا بےدست و پا ہو کر رہ گئے، اس کے بعد اتحادی افواج نے امریکی قیادت میں دونوں پر یلغار کر کے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، عراق کے صدر صدام حسین اور لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی کے خلاف ایسے ایسے جھوٹ تراشے گئے کہ سن کر شرم کو بھی شرم آتی رہی۔ اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے بارے میں بعد میں جو خبریں آتی رہیں ان میں یہ بات بھی تسلیم کی گئی کہ  عراق اور  لیبیا کے پاس مبینہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں نہیں تھے، جبکہ اقوام متحدہ کی معائنہ کار ٹیم کے اندر یہودی جاسوس بھی موجود تھے اور وہ ایک خاص پروگرام کے تحت الزامات لگا رہے تھے تاکہ دونوں ملکوں کو مکمل بے دست وپا کر کے آسان شکار کی طرح اتحادی افواج کے ہاتھوں تباہی سے دوچار کر دیا جائے ۔ غلام محمد قاصر نے کہا تھا

 سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بین لیے

آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے

اب اس تازہ خبر کا جائزہ لیتے ہیں یعنی یہ جو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران کے بارے میں الزام تراشی کی ہے کہ ممکنہ طور پر افزودہ یورینیم کے ذخائر اب بھی ایران کی جوہری تنصیبات میں موجود ہیں تو اس کا عمیق نگاہوں سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ایک تو ادارے کے سربراہ کا نام رافیل گروسی پر غور کی ضرورت یوں ہے کہ یہودیوں کے ہاں رافیل نام رکھنے کا عام رواج ہے، اس لیے عین ممکن ہے (ضروری نہیں) کہ موصوف بھی یہودی ہو اس لیے ان سے ایران کا جوہری پروگرام کسی صورت ہضم نہیں ہو پا رہا، حالانکہ ایران بار بار واضح بھی کر چکا ہے اور امریکہ مختلف ذرائع سے تصدیق بھی کرا چکا ہے کہ ایران نے ابھی تک جوہری ہتھیار نہیں بنائے، دوسری بات یہ ہے کہ جتنی افزودہ یورینیم ایران کے پاس موجود ہے وہ اسے کسی اور ملک کے حوالے کرنے پر  رضامندی بھی ظاہر کر چکا ہے، محولہ ممالک میں، بشمول پاکستان، کچھ دوسرے ممالک کے نام بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ جب اتنا کچھ طے ہو چکا ہے تو پھر  مفروضے کی بنیاد پر ایران کی تلاشی لینے کا صرف ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے کہ کسی طرح ایران کے جنگی ہتھیاروں کے بارے میں کھوج لگا کر ماضی میں عراق اور لیبیا کی طرح ان کی اطلاعات امریکہ اور اسرائیل تک پہنچائی جائیں۔  مگر ہم نہیں سمجھتے کہ ایران نے کچی گولیاں کھیلی ہیں، اتنی طویل جنگ کے دوران وہ جس طرح امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے سامنے خم ٹھونک کر بلکہ ڈٹ کر کھڑا رہا اور ان کے دانت کھٹے کیے, کیا اب وہ اس بے سروپا الزام تراشی کے سامنے سرنگوں ہو جائے گا؟

اگرچہ امن مذاکرات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے درمیان کئی مواقع پر تلخ جملوں کے تبادلے کی خبریں بھی آتی رہیں، جن سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ امریکہ اور اسرائیل میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، اس لیے اسرائیل،  لبنان پر حملوں سے باز نہیں آ رہا،  حالانکہ امن معاہدہ کا دائرہ لبنان تک پھیلا ہوا تھا، مگر قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری ڈرامے بازی ہے،  اور اسرائیل امریکی صدر ٹرمپ کی آشیرواد سے ہی نہ صرف لبنان میں جنگ بندی سے گریزاں ہے بلکہ وہ کسی بھی وقت ایران پر پھر یلغار کر سکتا ہے۔  دراصل امریکہ کا اصل طریقہء  واردات ہی یہی ہے جیسا کہ اس نے افغانستان سے پسپائی اختیار کرتے وقت کھربوں کا اسلحہ، گولہ بارود، ناکارہ ہیلی کاپٹر اور دیگر ساز و سامان افغانستان میں چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اسی وقت اپنے کالموں میں گزارش کی تھی کہ یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف استعمال ہوگا اور بالاخر ہمارے وہ خدشات درست ثابت ہوئے۔ اب طالبان کی سرپرستی میں وہی ساز و سامان پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس لیے مشتری ہوشیار باش کہہ کر ہم ایران کے ذمہ داران سے ان کے خلاف بچھائی گئی اس جال سے خود کو محفوظ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ بقول مظفر رزمی

 یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

Loading