شباب کی باتیں
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)ہماری ایک غزل کے دو شعر ہم آپ کی نظر کرتے ہیں۔
حضور آپ سے کچھ مشورے بھی ہیں باہم
پر اتنی جلدی بھی کیا ہے براجیئے تو سہی
سمیٹ لیں گے ترے حسن کے بگوگوشے
لٹائیے تو سہی، بانٹ دیجئے تو سہی
اپنے شعر بہ امر مجبوری ہم نے کالم کے آغاز ہی میں اس لیے لکھ دیے ہیں کہ جس موضوع پر آج کا کالم باندھ جا رہا ہے اس کا ان چار مصرعوں سے کچھ تھوڑا بہت تعلق بنتا ہے اور جس خبر کے حوالے سے ہم نے اج کا کالم باندھنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے مندرجات نے ہمیں حیرت میں بھی مبتلا کر دیا ہے، اس لیے اپنی بات کی وضاحت کے لیے پہلے محولہ خبر کے الفاظ پڑھ لیتے ہیں۔ خبر ہری پور ڈیٹ لائن سے اخبارات کی زینت بنی ہے اور جلی حروف میں تین کالمی سرخی یہ ہے کہ
” ہیروز آف ہزارہ نیشنل سول ایوارڈ کمیٹی کا اعلان، اہم شخصیات شامل”
اب اس میں حیرت والی بات کیا ہے؟ یہی ایک ایسا معمہ ہے جس کی جانب آپ کی توجہ دلانا مقصود ہے یعنی خبر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان انٹرنیشنل تھنک ٹینک کے چیئرمین اویس جدون نے 2026 -27ء کے لیے ہیروز آف ہزارہ نیشنل سول ایوارڈز کمیٹی ممبران کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، سابق صوبائی وزیر یوسف ایوب خان، صدر ہری پور پریس کلب حنیف اختر اور کئی دوسرے اہم افراد کمیٹی کے ارکان ہوں گے یہ ایوارڈ ہیروز آف ارتھ چیپٹر ہیروز آف پاکستان کا حصہ ہے اور 14 مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اس ایوارڈ سے نوازا جائے گا خبر میں یہ دعوی’ بھی کیا گیا ہے کہ تقریب رواں سال ہری پور میں منعقد کی جائے گی, جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے جبکہ ملک کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور ایران، افغانستان، ترکی، چین کے سفارتی نمائندے، جاپان اور سری لنکا کے اعزازی کونسل جنرلز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ مظفر وارثی نے کہا تھا
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے بدنام خرد ہوتی ہے
ایوارڈز کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے تا ہم عالمی سطح پر سب سے معتبر چند ایوارڈز ہی ایسے ہیں جن کے لیے متعلقہ شعبوں کے لوگ علانیہ نہیں تو دل ہی دل میں خواہش ضرور رکھتے ہیں، ان میں سب سے اہم تو نوبل انعام ہے جو مختصر اور گنے چنے شعبوں میں دیا جاتا ہے، وہاں بھی امن کا نوبل انعام سب پر بھاری ہوتا ہے، پہلے تو متعلقہ کمیٹی خاموشی کے ساتھ ان ایوارڈز کا فیصلہ کرتی ہے اور ان کے لیے ملکوں کی سطح پر نامزدگیاں ہوتی ہیں مگر اب تو ڈونلڈ ٹرمپ جیسا سیاسی شعبدہ باز بھی، دنیا پر جنگ مسلط کرنے اور عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کرنے کے باوجود اپنی نامزدگیاں کرواتا پھر رہا ہے۔
خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے، اصل موضوع کی جانب لوٹتے ہیں اور نوبل ایوارڈز کے بعد عالمی سطح پر شوبز کے حوالے سے اکیڈمی ایوارڈز کی اہمیت اور افادیت کا کوئی متبادل نہیں، جبکہ بعد میں گریمی ایوارڈز نے بھی اپنی اہمیت کا احساس دلایا، اور فرانس کے شوبز سے تعلق رکھنے والے ایوارڈز کے حوالے سے ہر سال منعقد ہونے والے کانز فلم فیسٹیول کے چرچے بھی عالمی سطح پر سنے جاتے ہیں، جبکہ مملکتوں کی سطح پر ہر ملک کسی نہ کسی نام سے سے اہل کمال میں ایوارڈز
تقسیم کرنے کے علاوہ اہم بین الاقوامی شخصیات کو بھی ان کی آمد یا خدمات کے صلے میں قومی ایوارڈز پیش کرتا ہے۔
ہمارے ہاں ہر سال سول ایوارڈز دیے جاتے ہیں اور یہ نہ صرف ملک کی دفاع میں اہم خدمات بلکہ دیگر سول شعبوں میں بھی دیئے جاتے ہیں۔ خاص طور پر اگر ہم ادب و ثقافت کا تذکرہ کریں تو ان شعبوں میں تمغہء امتیاز، صدارتی تمغہء حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز، نشان امتیاز وغیرہ وغیرہ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ان ایوارڈز کے دیکھا دیکھی اب صوبائی سطح پر بھی یہ سلسلہ چل نکلا ہے، ہمارے ہاں صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ تین برس سے، پہلے فخر پشاور ایوارڈز کا اجراء کیا گیا، اس کے بعد گزشتہ دو برس سے فخر پشاور کے ساتھ ساتھ فخر خیبر پختون خواہ ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔ مگر انتہائی معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فخر خیبرپختونخوا ایوارڈز خاص لسانی بنیاد پر اور وہ بھی مبئینہ سفارشات پر ریوڑیوں کی طرح بانٹا گیا۔ ان کے علاوہ بعض نجی ادارے بھی اپنے اپنے طور پر ایوارڈز تقسیم کرتے ہیں، جن میں سب سے معتبر اباسین آرٹس کونسل پشاور کے ادبی ایوارڈز ہوتے ہیں، جن کا فیصلہ متعلقہ شعبے کے صاحبان کمال اپنی رائے کے ذریعے کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اس قدر رازداری برتی جاتی ہے کہ ایک جج کو دوسرے جج کے بارے میں بھی معلوم نہیں ہونے پاتا، مگر افسوس یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ کئی برس سے اباسین آرٹس کونسل کے فنڈز روک کر اس ادارے کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔
ان کے علاوہ کاروان حوا لیٹریری فورم بھی ہر سال اہم ادبی شخصیات میں ایوارڈ تقسیم کرتی ہے، خیر ان تمام معلومات سے قطع نظر یہ جو ہیروز آف ہزارہ نیشنل ایوارڈز کے حوالے سے خبر آئی ہے، اس پر خوشی کا اظہار کرنا اگرچہ جائز ہے اور اہل ہزارہ کے باکمال افراد کی ہر طرح سے پذیرائی بھی ہونی چاہیے، تاہم یہ جو ہم نے حیرت کا اظہار کیا ہے تو اس کا کارن یہ ہے کہ ایوارڈز ہزارہ کے لیے اور اہتمام بلوچستان انٹرنیشنل تھنک ٹینک کی جانب سے؟ یعنی
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
قابل اطمینان بات اگرچہ یہ بھی ہے کہ اس کے مدار المہام یعنی چیئرمین اویس جدون نام کے ایک صاحب ہیں، ظاہر ہے جدون فیملی کا بڑا گہرا تعلق ضلع ہزارہ کے علاقہ گدون سے ہے جو جدون بھی کہلاتا ہے مگر بلوچستان سے کیا تعلق؟ خیر ہم زیادہ گہرائی میں نہیں جانا چاہتے کیونکہ خدانخواستہ ہمیں کسی کی نیت پر کوئی شک ہے اور نہ کرنا چاہیے لیکن جن بڑے ناموں کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے ان کو کچھ چاہیے کہ وہ اپنے ہی نام کی لاج رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر قدم بڑھائیں اور دست تعاون دراز کریں. کیونکہ جس فورم کا نام استعمال کیا جا رہا ہے یہ نام اس سے پہلے کم از کم ہم نے نہیں سنا، اگرچہ یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر ہم نے کسی تنظیم کا نام نہیں سنا تو اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ ہماری کم علمی ہی ہو سکتی ہے اس لیے ہم ہزارہ کے اہل کمال کو پیشگی مبارکباد دیتے ہیں کہ ان کی پذیرائی بھی بالاخر کی جا رہی ہے بقول احمد ندیم قاسمی
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے ادمی سے ڈرتے ہیں
![]()

