Daily Roshni News

شباب کی باتیں ۔۔۔ نازک ہیں بہت چاک گریبان میں گل کے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

نازک ہیں بہت چاک گریبان میں گل کے

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ نازک ہیں بہت چاک گریبان میں گل کے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)بات محاورے سے آگے بڑھتے ہوئے حقیقت کا روپ دھار گئی ہے اور وہ جو کہتے ہیں کہ

مقطع میں آپڑی ہےسخن گسترانہ بات

 تو ہمارے گزشتہ کالم بہ عنوان

 “وہ شہر گلابوں کا جو مسکن تھا- پشاور “

کے شائع ہونے کے بعد اس پر بے شمار لائیکس کے ساتھ ساتھ بعض تبصرے بھی آئے، جنہوں نے محولہ بالا محاورے کی یاد دلا دی۔

 سب سے اہم تبصرہ ہمدم دیرینہ، دوست عزیز، عالمی شہرت کے حامل ادیب، شاعر، کالم نگار، محقق، نقاد، ڈرامہ نگار، براڈکاسٹر اور استاد الاساتذہ، پروفیسر ناصر علی سید کا تھا۔ انہوں نے لکھا ہے

“بہت دلسوزی سے لکھا ہوا شہر گل کا نوحہ ہے، ایک بات اکثر سوچتا ہوں کہ کہا جاتا ہے کہ بابر نے اسے “شہر گل”  کہا ہے، تاہم  پرانے پشوری اسے شہر (گل فروشاں) کہتے ہیں، آپ نے جوہر میر کے جو اشعار کوٹ کیے ہیں ان میں بھی

” یہ شہر گل فروشاں تھا چمن تھا”

 کا ذکر ہے اور امریکہ میں مقیم پشاور کے مشتاق احمد مشتاق کی کتاب (ریت پر لکھی کہانی) میں بھی یہی لکھا ہے۔ ارشاد صدیقی مرحوم بھی یہی کہا کرتے تھے، شاید یہ نام بعد میں پڑا ہو،  جب صبحدم گلیوں میں گل فروشوں کی صدائیں گونجتی تھیں۔ ” بڑا لال اے”۔

 ڈاکٹر شاہد سردار نے، جو خود بھی اچھی افسانہ نگار، شاعرہ اور اب کالم نگاری کے میدان میں بھی فعال ہو چکی ہیں، اپنے تبصرے میں کہا ہے ” بہت عمدہ. پھولوں کے شہر میں پھول جیسے لوگوں کی، پھولوں جیسی تحریریں۔  ماشاءاللہ، آپ کے قلم کی تازگی یوں ہی رواں دواں رہے۔ امین۔”

ایک اور قاری ڈاکٹر وقار احمد یوں رقم طراز ہیں۔ “ماشاءاللہ, بہترین تحریر ہے، جس سے پشاور کی تاریخ کی جانکاری بھی ہو گئی ہے اور حال۔۔۔۔  اللہ پشاور کے ساتھ پورے وطن عزیز کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دے، آمین یا رب العالمین ۔”

دوست عزیز امجد بہزاد نے بھی حسب عادت کچھ چٹکیاں لینے کی کوشش کی ہے مگر افسوس کہ کالم لکھتے ہوئے کوششں بسیار کے باوجود وہ پوسٹ ہاتھ نہیں لگی۔ بہرحال بات آگے بڑھاتے ہوئے ہم دوست مکرم ناصر علی سید کے تبصرے کو زیر بحث لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سید جی نے پشاور کو بعض حوالوں سے شہر گلفروشاں کہنے پر اصرار کیا ہے اور مرحوم جو ہر میر کے ایک مصرعہ

” یہ شہر گل فروشاں تھا چمن تھا”

کے علاوہ بعض دوسرے پرانے پشاوریوں کے دعوؤں کی بھی تصدیق کرنے کی سعی فرمائی ہے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی بات کسی حد تک تو درست یوں ہے کہ خود ہم نے اپنے لڑکپن کے دور میں پشاور کے ارد گرد میلوں تک پھیلے ہوئے گلابوں کے ان باغات سے، “موسم گل”  میں شہر بھر کے پھلیاروں کی دکانوں پر لائے جانے والے ان گلابوں کو چنگیروں میں رکھ کر نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کو فروخت کرتے دیکھا ہے۔ ان کے علاوہ گلاب کے پھولوں کے کینٹھے (ہار)، خواتین کے ہاتھوں میں کنگن کی شکل کے پھولوں سے بنے ہوئے گجرے، کھلے پھول، جنہیں لوگ مٹی کے گھڑوں میں پانی ڈالنے کے بعد ان گھڑوں کے دہانوں کے گرد پھولوں کے ہار لپیٹ کر اور ان کی پنکھڑیوں کو الگ الگ کر کے، گھڑوں  میں ڈال کر، خوشبودار پانی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی ہم نے  دیکھا ہے۔  اس لئے اگر اس مقامی کاروبار کے حوالے سے  اس شہر کو شہر “گل فروشاں”  قرار دیا جاتا ہے تو اس میں اچنبھے والی بات بھی نہیں۔ مگر جوہر میر نے مصرعہ کے آخر میں “چمن تھا” کے الفاظ لکھ کر صدیوں سے اس شہر کے لیے (شہر گل اور گلابوں کا مسکن)  جیسے خطابات کی وقعت  بڑھا دی ہے۔ کیونکہ بہرحال یہ پھول کہیں کسی اور جگہ سے درآمد کر کے یہاں فروخت نہیں کیے جاتے تھے، بلکہ اسی شہر کی مٹی میں پنپتے تھے۔

یہاں ہمیں دو باتیں مزید یاد آگئی ہیں، ایک جگ بیتی اور دوسری آپ بیتی۔  سب سے پہلے آپ بیتی کا تذکرہ کرتے ہیں، اور وہ یہ کہ جب ہم ریڈیو پاکستان کی جانب سے ڈرامے کی اعلی ٹریننگ کے لیے جرمنی کے نشریاتی ادارے (ڈوئچے ویلے ریڈیو ٹریننگ سینٹر کولون) ، گئے تو وہاں کے علاوہ دوسرے شہروں، “بون”  اور “برلن”  میں ہم نے فٹ پاتھوں پر گل فروشی کی لاتعداد دکانیں سجی ہوئی دیکھیں۔   بعد میں معلوم ہوا کہ ڈیری آئٹمز، سبزیاں، گوشت، مکھن، پنیر، پھول اورپھل فروٹ وغیرہ وغیرہ، یورپ کے کئی ممالک کو ہالینڈ یعنی نیدرلینڈ سے درآمد کی جاتی ہیں اور یہ کہ ہالینڈ کی معیشت میں ذراعت کے شعبے کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یوں ان ممالک میں ہالینڈ سے درآمد شدہ پھول بیچنے والوں کے لیے اگر “گل فروش”  کا لقب استعمال کیا جائے تو وہاں تو یہ مکمل طور پر فٹ بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ ان ممالک میں خود پھولوں کی کاشت اور پرداخت نہیں ہوتی۔

 دوسرا واقعہ جسے ہم نے جگ بیتی قرار دیا ہے، مرحوم ڈاکٹر ظہور اعوان کا وہ بیانیہ ہے جو وہ حکیم محمد سعید شہید کی سوانح حیات لکھنے کے حوالے سے  بھارت یاترا کے بعد کتابی صورت میں سامنے لاۓ  وہاں اس حوالے سے تحقیق کے دوران ان کا قیام حکیم سعید شہید کے بڑے بھائی اور ہمدرد (وقف)  بھارت کے سربراہ، حکیم محمد حمید کے ہاں رہا۔  حکیم حمید صاحب نے انہیں بتایا تھا کہ دنیا بھر میں گلابوں کی سب سے اعلی قسم پشاور کی ہے اور جب تک دونوں ملکوں میں تجارت پر کوئی قدغن نہیں تھی تو ہمدرد (بھارت) عرق گلاب، روح گلاب اور دیگر متعلقہ پروڈکٹس کے لیے ضرورت کے گلاب پشاور سے درآمد کرتے تھے۔

 اسی طرح چند سال پہلے دوست مکرم فیروز خان آفریدی کی کاوش سے ہم نے قطر میں ایک اردو مشاعرے میں شرکت کی تو مشاعرہ گاہ (پاکستان ایمبیسی)  جاتے ہوئے راستے میں فیروز آفریدی نے ایک گل فروش کی دکان سے گلدستے بنوائے، تو وہاں پھولوں کے کاروبار کو دیکھ کر ہماری آنکھیں کھل گئی تھیں کہ کتنا وسیع اور منظم کاروبار ہے۔ واپسی پر ہم نے اپنے کالموں میں اس سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے پشاور کے گلفروشوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی توجہ بھی اس جانب مبذول کراتے ہوئے تجویز کیا تھا کہ پشاور کے گلابوں اور دیگر پھولوں کی کھپت کے لیے اگر قطر کے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کیا جائے تو قیمتی زر مبادلہ کے حصول میں بھی خاصی کامیابی مل سکتی ہے۔ معلوم نہیں ہماری اس تجویز پر کسی نے توجہ دی بھی یا نہیں؟

 کیا راز عیاں کرکے گئی باد صبا بھی

 عنبر کا بسیرا ہے گریبان میں گل کے

Loading