کمپیوٹنگ کی دنیا میں دماغ جیسی رفتار سے کام کرنے والی نئی چپ کا اضافہ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تصور کریں کہ ایک ایسی کمپیوٹر چپ تیار ہو جائے جو پیچیدہ دماغی حسابات صرف چند ملی سیکنڈز میں مکمل کر سکے۔ چین کے سائنس دانوں نے ایک نئی میمریسٹر (Memristor) چپ تیار کی ہے جس نے دماغ کے انتہائی پیچیدہ 3D ماڈل کو 10 ملی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں دوبارہ تشکیل دے کر کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔
یہ تحقیق پیکنگ یونیورسٹی اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے انجام دی، جبکہ اس کے نتائج دنیا کے معروف سائنسی جریدے Science میں شائع ہوئے ہیں۔
روایتی کمپیوٹرز میں ڈیٹا مسلسل میموری اور پروسیسر کے درمیان منتقل ہوتا رہتا ہے، جس سے رفتار کم اور توانائی کا ضیاع زیادہ ہوتا ہے۔ نئی میمریسٹر چپ اس مسئلے کا منفرد حل پیش کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا کو اسی جگہ پراسیس کرتی ہے جہاں وہ محفوظ ہوتا ہے، جس کی بدولت رفتار میں نمایاں اضافہ اور بجلی کی کھپت میں بڑی کمی آتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ چپ جدید ASIC چپس کے مقابلے میں 3.8 سے 36 گنا زیادہ تیز اور 11 سے 25 گنا کم توانائی استعمال کرتی ہے۔ حیران کن طور پر دماغی سطح (Cortical Surface) کی ری کنسٹرکشن کے دوران اس نے طاقتور NVIDIA A100 GPU کے مقابلے میں 478 گنا تک بہتر کارکردگی دکھائی۔
یہ چپ صرف رفتار کا مظاہرہ نہیں کرتی بلکہ دماغ کے سفید اور سرمئی مادے کی حدود کو انتہائی درستگی کے ساتھ 3D شکل میں دوبارہ تشکیل دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، جس سے نتائج نہایت معیاری اور قابلِ اعتماد ثابت ہوئے۔
اگر یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگی تو برین کمپیوٹر انٹرفیس (BCI)، ریئل ٹائم سرجیکل نیویگیشن، جدید میڈیکل امیجنگ، ڈیجیٹل برین ٹوئنز، اور الزائمر و پارکنسن جیسی اعصابی بیماریوں پر تحقیق میں انقلابی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ چپ انسانی دماغ جیسی ذہانت نہیں رکھتی، بلکہ دماغ سے متعلق مخصوص اور پیچیدہ حسابات کو غیر معمولی رفتار اور کم توانائی کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے مستقبل کی مصنوعی ذہانت اور طبی ٹیکنالوجی کے لیے ایک اہم پیش رفت بناتی ہے۔
#ArtificialIntelligence #technews #AIChips #NVIDIA #urdu
![]()

