صابرہ سلطانہ سنگِ مرمر کا مجسمہ جو وقت کے ہاتھوں ریزہ ریزہ ہو گیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی لاہور کے شاہ نور اسٹوڈیو کی رونقیں اس کے نام سے تھیں۔ جس سڑک سے وہ گزرتی، کیمرے جھک جاتے، قلم رک جاتے۔ لوگ کہتے تھے وہ عورت نہیں، سنگِ مرمر کا مجسمہ ہے۔
وہ رابعہ بیگم تھی، جو بمبئی میں ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئی، پھر دنیا نے اسے صابرہ سلطانہ کے نام سے جانا۔
انیس سو ساٹھ کا سال تھا۔ فلم انصاف آئی، سلور جوبلی ہوئی، اور ایک نئے چہرے نے سب کو چونکا دیا۔ پھر انیس سو چونسٹھ میں شہاب کرانوی نے اسے جمیلہ اور شکریہ میں پہلی بار ہیروئن لیا۔ وہی صابرہ جس کی آنکھوں میں حیا تھی اور لہجے میں تہذیب۔ پھر عجب خان آفریدی، پھر پشتو، پنجابی، اردو، ہر زبان اس کی زبان بن گئی۔ انیس سو ساٹھ سے دو ہزار دو تک، پورے چالیس سال وہ سکرین کی ملکہ رہی۔
پھر نصیب نے کروٹ لی۔
فلم وہ سحر ہے جو صرف پردے تک ہے۔ پردہ گرا تو سحر ٹوٹ گیا۔ نئے چہرے آئے، نئی کہانیاں آئیں، اور سنگِ مرمر کا مجسمہ آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہونے لگا۔
آج، اسی لاہور کے ایک خاموش کونے میں، اسی صابرہ سلطانہ کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔ وہی عورت جو کبھی شہرت کے آسمان پر تھی، آج بڑھاپے، بیماریوں اور تنگدستی کے بوجھ تلے چند مخلص لوگوں کے سہارے زندہ ہے۔ وہ آنکھیں جو کبھی کیمرے کی روشنی سے چمکتی تھیں، آج دوا کے انتظار میں دروازے کو تکتی ہیں۔
یہ کہانی صرف صابرہ کی نہیں، ہر اس چراغ کی ہے جو محفل کے بعد تنہا رہ جاتا ہے۔
نصیحت یہ ہے میری جان کہ عزت صرف جوانی اور حسن کی نہیں ہونی چاہیے۔ فنکار جب تک فن دیتا ہے، ہم تالی بجاتے ہیں۔ جب وہ خاموش ہو جائے تو ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ یہی ہمارا سب سے بڑا گناہ ہے۔
صابرہ سلطانہ آج بھی زندہ ہے، لیکن وقت نے اسے زندہ مثال بنا دیا ہے کہ شہرت مٹی ہے اور وفا صرف چند لوگوں میں باقی ہے۔
سنگِ مرمر کا مجسمہ جو وقت کے ہاتھوں ریزہ ریزہ ہو گیا۔
#SabiraSultana #StatueOfMarble #GoldenEraQueen #LollywoodKiKahani #UrduTehzeeb #Jamila1964 #AjabKhanAfridi #LahoreDiaries #FankarKiTanhai #WaqtKaSitum
![]()

