(اداکارہ آسیہ بیگم کا مختصر تعارف )
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آسیہ بیگم — مختصر بائیو اور فلمی سفر
اداکارہ آسیہ بیگم — ایک یادگار فلمی ستارہ
پاکستانی فلمی صنعت کی معروف اداکارہ آسیہ بیگم کا اصل نام فردوس تھا۔ وہ 13 نومبر 1951ء کو پٹیالہ، بھارت میں پیدا ہوئیں اور بعد میں پاکستان منتقل ہوئیں۔ انہوں نے 1970ء میں فلمی سفر شروع کیا اور اردو کے ساتھ پنجابی فلموں میں بھی بہت مقبول ہوئیں۔
آسیہ نے اپنے فلمی کیریئر میں 179 سے زائد پنجابی فلموں سمیت متعدد اردو فلموں میں کام کیا۔ ان کی مقبولیت خاص طور پر 1970ء کی دہائی میں عروج پر پہنچی۔
ان کی چند یادگار فلمیں:
– انسان اور آدمی (1970)
– غرناطہ (1970)
– دل اور دنیا (1971)
– دو رنگیلے (1972)
– مستانہ (1973)
– جیرا بلیڈ (1973)
– سستا خون مہنگا پانی (1974)
– نوکر ووہٹی دا (1974)
– شریف بدمعاش (1975)
– وحشی جٹ
– قانون
– رنگا ڈاکو (1978)
– مولا جٹ (1979)
– بہرام ڈاکو (1980)
– اتھرا پتر (1981)
– جٹ اِن لندن (1981)
– دیس پردیس (1983)
– انگارا (1985)
ان کے فلمی ساتھیوں میں سلطان راہی، یوسف خان، شاہد، ندیم، اقبال حسن، لالہ سدھیر، مصطفیٰ قریشی، افضل احمد جیسے بڑے اداکار شامل تھے۔ اداکاراؤں میں ممتاز، صائقہ، نیر سلطانہ، انجمن، صبیحہ خانم سمیت اپنے دور کی کئی معروف اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا۔ سلطان راہی کے ساتھ ان کی جوڑی خاص طور پر بہت مقبول ہوئی۔
آسیہ کا سب سے یادگار کردار 1979ء کی فلم مولا جٹ میں مکھو تھا۔ اس کردار نے انہیں پنجابی سینما کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
انہیں دو نگار ایوارڈز ملے:
🏆 1977ء — بہترین اداکارہ، قانون
🏆 1979ء — بہترین معاون اداکارہ، آگ
آسیہ نے شادی کے بعد بتدریج فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی اور بیرونِ ملک اپنے خاندان کے ساتھ رہنے لگیں۔ ان کے شوہر ایک کاروباری شخصیت تھے اور ان کے چار بچے تھے۔
آسیہ بیگم 9 مارچ 2013ء کو انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات کے مقام کے بارے میں بعض اخباری ذرائع نے کینیڈا لکھا، جبکہ دیگر سوانحی ریکارڈ نیویارک کے لانگ آئی لینڈ کا ذکر کرتے ہیں؛ البتہ تاریخِ وفات پر اختلاف نہیں۔ ان کی عمر تقریباً 61 سال تھی۔
آسیہ صرف مولا جٹ کی مکھو نہیں تھیں، بلکہ پاکستانی پنجابی سینما کے سنہری دور کی ان اداکاراؤں میں شامل تھیں جنہوں نے درجنوں فلموں میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
![]()

