قافیے کا نظام شمسی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اردو غزل کے ڈیڑھ لاکھ قافیے چند مرکزوں کے گرد کیوں گھومتے ہیں
ایک ایسا سوال جو (شاید) کبھی نہیں پوچھا گیا
———————————————————-
ہم نے پچھلی تین تحریروں میں اپنے 75 ہزار غزلوں پر مشتمل زنبیل میں سے تین تحریریں نکالیں جن میں ہم نے اردو غزل کی لفظیات کی بات کی، بدلتے تصورات و رحجانات کی بات کی، علامات کی بات کی، نہیں کی تو قافیہ جات کی بات نہیں کی۔ سو یہ کمی آج پوری کی جا رہی ہے۔
غزل کی رسومیات نے طے کر دیا ہے کہ ہر شعر میں ردیف جوں کی توں دہرائی جائے گی، مگر قافیہ ہر شعر میں بدلتا رہے گا۔ آپ نے مطلع کہا، ساتھ ہی ردیف فاسلا گئی، مگر قافیہ مطلعے (یا حسن مطلع کے) ہر شعر میں، اور باقی اشعار کے ہر دوسرے مصرعے میں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا جائے گا۔ گویا ردیف کے مقابلے پر قافیہ شاعر کو زیادہ آزادی دیتا ہے کہ وہ قافیے کی حدود آرڈیننس کے اندر رہ کر جو مرضی لفظ استعمال کرے۔
جو مرضی لفظ کہنے تو ہم نے کہہ دیا، مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ یا یہاں بھی وہی چند بوتلیں ہیں جن میں ساری روایت کا جن قید ہے؟
ہمارے پاس 75 ہزار غزلوں کے کل ملا کر پانچ لاکھ 27 ہزار 111 اشعار ہیں، گویا اوسطاً ہر غزل میں سات اشعار۔ ہم نے ان اشعار کی چانپیں، دستی، ران، گردے، کلیجی، کڑاھی پیس الگ نکالے، مطلب یہ کہ ردیفیں الگ چھانٹیں، قافیے الگ باندھے، اور پھر ان کو قیمہ مشین میں ڈال کر تجزیہ کیا۔
نتیجہ حیران کن تھا، یعنی پانچ خاندان، آدھی روایت
ہمارے کورپس کے مطابق اردو غزل میں قافیوں کے کل 496 خاندان ہیں، یعنی 496 مختلف صوتیات ہیں جن کے کھونٹوں پر غزل کا قافیہ لٹکایا جا سکتا ہے۔ یہ تعداد بظاہر خاصی وسیع ہے، مگر اب دیکھیے کہ ان میں سے کتنے دراصل استعمال ہوتے ہیں:
خاندان غزلیں حصہ مجموعی
-ر 7,086 11.11٪ 11.1٪
-ا 6,170 9.67٪ 20.8٪
-ار 4,802 7.53٪ 28.3٪
-اں 4,065 6.37٪ 34.7٪
-ی 2,997 4.70٪ 39.4٪
-ل 1,932 3.03٪ 42.4٪
-ام 1,680 2.63٪ 45.0٪
-ت 1,600 2.51٪ 47.5٪
-ان 1,591 2.49٪ 50.0٪
-انی 1,361 2.13٪ 52.2٪
دسویں سطر پر ایک لمحے کو نگاہ روکیے، اور جانیے کہ 496 میں سے صرف دس قافیہ خاندان پوری اردو غزل کے نصف پر محیط ہیں۔ اور صرف پانچ خاندان، یعنی ر، ا، ار، اں، ی، 40 فیصد غزلوں کو اپنے پروں تلے سمیٹے ہوئے ہیں۔
بات واضح نہیں ہوئی؟ چلیں ایک اور زاویے سے گیند آگے بڑھاتے ہیں۔
کتنے خاندان کتنی غزلیں
سب سے بڑے 5 39.4٪
سب سے بڑے 10 52.2٪
سب سے بڑے 20 69.5٪
سب سے بڑے 50 86.3٪
سب سے بڑے 100 94.7٪
باقی 396 خاندان 5.3٪
یعنی 496 میں سے 396 خاندان مل کر بھی صرف پانچ فیصد غزلیں بناتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ قافیے کے نظامِ شمسی میں صرف چند بڑے سیارے ہیں، باقی سب کنکر پتھر۔
مرکزی محور: ’ر‘ اور ’ا‘
ہمارے حساب کتاب کے مطابق اردو قافیوں کی میراتھان میں دو خاندان سب سے آگے ہیں۔ ان میں سے ایک ر کا خاندان ہے، دوسرا الف کا۔ اور اس کی وجہ ایک پڑوسی ملک کی کسی خفیہ ایجنسی کی پوشیدہ سازش نہیں، بلکہ کھلا راز ہے کہ اردو میں ’ر‘ پر ختم ہونے والے اور الف پر ختم ہونے والے لفظ ہی بہت زیادہ ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں، ان میں سے بہت سے الفاظ اردو غزل کے مرکزی مضامین سے بھی بغل گیر ہیں۔ میری بات کی وضاحت یہ فہرست کر دے گی:
قافیہ خام تعداد کتنی غزلوں میں فیصد
گھر 3,384 3,015 4.01%
ہوا 3,293 2,480 3.30%
نظر 3,005 2,189 2.91%
سفر 2,341 2,041 2.71%
خدا 2,289 2,017 2.68%
گزر 1,908 1,661 2.21%
سر 1,779 1,610 2.14%
وفا 1,806 1,598 2.12%
دعا 1,618 1,527 2.03%
سحر 1,693 1,440 1.91%
اس سے پتہ چلا کہ ہر 25ویں غزل میں گھر بطور قافیہ استعمال ہوا ہے۔ اور پھر ظاہر ہے کہ اس کا پورا خاندان کچے دھاگے سے بندھا چلا آیا ہے۔ گھر، نظر، سفر، گزر، سر، سحر، خبر، اثر، بھر۔ یہ سب ’ر‘ کے قافیے ہیں اور ان سب کا تعلق اردو غزل میں برتے جانے والے عام مضمونوں سے ہے۔ دوسری طرف بھی دیکھ لیجیے: ہوا، خدا، وفا، دعا۔۔۔ یہ ’ا‘ کے مدار والے قافیے ہیں اور یہ بھی غزل کے عمومی الفاظ ہیں۔
اگر ہم صرف سب سے زیادہ برتے جانے والے قوافی کسی ایسے شخص کے حوالے کر دیں جس نے کبھی اردو غزل کا منھ تک نہ دیکھا ہو تو وہ ان کی بنیاد پر اندازہ لگا سکتا ہے کہ اردو غزل کا سب سے عام شعر وہ ہے جس میں کوئی وقتِ سحر گھر سے نکل کر تیز ہوا میں وفا کی تلاش میں سفر اختیار کرتا ہے، اور ساتھ خدا سے دعا مانگتا جاتا ہے۔
یہ محض مضمون نہیں، قافیے کی مجبوری بھی ہے۔
قافیہ تنگ
اگر آپ نے شاعری پر کبھی ہاتھ صاف کیا ہو (یا اب بھی تائب نہیں ہوئے!) تو اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ کچھ قافیے ’وسیع‘ ہوتے ہیں اور کچھ تنگ۔
وسیع قافیوں میں سینکڑوں الفاظ موجود ہوتے ہیں جب کہ ’تنگ‘ میں گنتی کے چند۔ تنگ قافیے والی غزل لکھتے لکھتے شاعر کا جو حال ہوتا ہے اسے ظفر اقبال ہی بیان کر سکتے تھے:
ختم ہوا پٹرول تو آخر رکی شعر کی گاڑی
ٹنکی میں یہ ایک قافیہ باقی تھا البتہ
ہم نے یہ ناپا کہ ہر خاندان میں کتنے مختلف قافیہ الفاظ اصل میں برتے گئے:
وسیع خاندان دستیاب الفاظ تنگ خاندان دستیاب الفاظ
-ی 1,649 -ازہ 9
-ا 1,573 -ہنا 9
-ے 1,405 -ہر 10
-وں 804 -وٹ 12
-اں 669 -اغ 13
-ر 572 -وڑ 14
-ن 522 -رد 17
اور یہاں ایک لطیف بات پر کھولتی ہے۔ تنگ خاندان اپنی تنگی کے باوصف استعمال ہونے سے باز نہیں آئے، بلکہ کچھ تو بار بار برتے گئے۔ ’-اغ‘ میں صرف 13 الفاظ دستیاب ہیں (داغ، باغ، چراغ، دماغ، سراغ، فراغ، ایاغ، زاغ، راغ، بلاغ، انفراغ، چاغ، اصطباغ) مگر یہ قافیہ 109 غزلوں میں برتا گیا ہے (0.14 فیصد)۔ آخری تین قافیہ ہمارے پورے کارپس میں صرف تین بار استعمال ہوئے ہیں، اور تینوں بار الگ الگ جوانوں نے انہیں کھپایا ہے۔ اصطباغ: فرحان سلیم۔ چاغ: مرزا ظہیر الدین اظفری، اور انفراغ: وزیر علی صبا لکھنوی۔
یہی حال ’-ازہ‘ کا ہے، اس کی پٹی میں صرف نو الفاظ ہیں، مگر 51 غزلیں اس میں کہی گئی ہیں۔
مطلب کیا ہوا؟ یہی کہ شاعر تقریبا خالی ٹینکی والی گاڑی بھی لے کر غزل کی سڑک پر مردانہ وار گھس جاتا ہے۔ (یہ الگ بات کہ بعض انجنیئر آغا وقار قسم کے شاعر پٹرول ختم ہونے کے بعد ٹینکی میں اصطباغ اور چاغ کا پانی ڈال کر بھی چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اللہ بھلا کرے ریختہ والوں کا انہوں نے ایسے ہی انجینیئروں کے لیے قافیہ انجن بھی لانچ کر دیا ہے۔)
ظاہر ہے کہ ایسی غزل کے مضامین بھی اسی تنگ سڑک میں سمٹ سمٹا، چھل چھلا کر نکلیں گے، ان میں وہی پہاڑ پتھر درخت آئیں گے جو اس سڑک سے دکھتے ہیں۔
کیا وقت کے ساتھ کچھ بدلا؟
آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنی زنبیل کو وقت کی خراد میں بھی رکھ کر چلاتے ہیں۔ سو ہم نے یہی حساب ادوار میں بانٹ کر بھی کیا، کہ شاید جدید شاعروں نے یہ قید توڑی ہو۔
دور غزلیں خاندان سب سے بڑے 5 سب سے بڑے 20 اوسط قافیے
دکنی 620 111 37.8٪ 67.3٪ 7.44
1700-49 766 113 39.2٪ 69.0٪ 7.53
1750-99 1,041 117 39.8٪ 71.2٪ 8.55
1800-49 1,502 149 41.0٪ 70.7٪ 8.50
1850-99 3,205 164 42.0٪ 72.6٪ 7.58
1900-39 10,163 291 40.1٪ 68.6٪ 7.20
1940-64 2,944 199 39.0٪ 69.5٪ 7.18
1965+ 1,262 141 35.6٪ 67.2٪ 6.99
جواب مایوس کن ہے: کچھ نہیں بدلا۔ چار صدیوں میں سب سے بڑے پانچ خاندانوں کا حصہ 37.8 سے 42 اور پھر 35.6 کے درمیان جھولتا رہا ہے۔ یعنی ہمیشہ تقریباً 40 فیصد۔ سب سے بڑے 20 خاندان ہمیشہ 70 فیصد کے آس پاس۔
اور غالب خاندانوں کی فہرست بھی تقریباً ساکت ہے۔ دکنی دور میں سرفہرست ا، ار، ر، اں تھے۔ آج بھی ا، ر، ار، ی ہیں۔ تین صدیوں، ڈھاک کے وہی چار پات۔
البتہ ایسا بھی نہیں ہے کہ جدید شاعر ہاتھ کولہوں کے نیچے دے کر بیٹھے رہے ہوں۔ انہوں نے بھی کام کیا ہے ایک چیز بدلی ہے اور وہ یہ کیا ہے کہ فی غزل قافیوں کی تعداد گھٹائی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں شاعر اوسطاً 8.55 قافیے باندھتا تھا، آج کا شاعر 6.99۔ اس کی وجہ بھی سامنے کی ہے کہ جدید غزل مختصر ہوئی ہے، جس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارا پیارا آج کا شاعر کم قافیے باندھ کر فارغ ہو جاتا ہے۔
چند قافیوں کا غلبہ شاعروں یا زبان کی تنگیِ داماں ہے یا سب کی اپنی مجبوری؟
اس کا سب سے سادہ جواب یہ ہے کہ یہ زبان کی ساخت ہے۔ اگر اردو میں ’ر‘ اور ’ا‘ پر ختم ہونے والے الفاظ سب سے زیادہ ہیں، تو قافیے بھی وہیں سے آئیں گے۔ شاعر اپنی جیب سے تھوڑی قافیے لے کر آئے گا؟
مگر یہ جواب پورا نہیں۔ کیونکہ اگر معاملہ صرف زبان کا ہوتا، تو 496 خاندان یکساں طور پر آباد ہوتے، محض تناسب مختلف ہوتا۔ اصل میں ہوا یہ ہے کہ 396 خاندان عملاً ویران پڑے رہے، اور پوری روایت 20 خاندانوں میں جمع ہو گئی۔
اور یہ محض صوتی مسئلہ نہیں رہتا۔ قافیہ مضمون کو کھینچتا ہے۔ جب آپ ’-ار‘ باندھتے ہیں تو بہار، یار، انتظار، خار، غبار خود چلے آتے ہیں، اور یہ لفظ اکیلے نہیں آتے، ان کے پیچھے ان کا پورا مضمون بھی گھسٹتا، زمین پر لکیریں چھوڑتا آتا ہے۔ شاعر جب قافیے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ صرف آواز کا انتخاب نہیں کرتا، اس قافیے سے منسلک مضامین کا بھی انتخاب کر رہا ہوتا ہے۔
اس لیے کسی کو حیرت نہیں ہونی چہیے کہ وہی چند مضامین صدیوں سے لوٹ لوٹ کر آتے ہیں کیوں کہ قافیے کی گلی انہوں لفظوں کے محلے سے ہو کر ادھر کو جاتی ہے۔
پچھلی تحریروں میں ہم نے دیکھا تھا کہ پچھلی چار صدیوں میں غزل کی لفظیات بدلی ہیں، گل اور بلبل رخصت ہوئے، خواب اور شہر نے ان کی جگہ لے لی۔ مگر نہیں بدلا تو قافیہ نہیں بدلا۔ الفاظ بدل گئے، آوازیں وہی رہیں۔ مکان تبدیل ہو گیا، کرایہ دار وہی رہا۔
اگلی قسط میں ایک اور تجزیے کے ساتھ ملیں گے۔
@highlight
@followers
![]()

