ضمیر کی عدالت — بہلول دانا کا حیران کن فیصلہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )خلیفہ ہارون الرشید کے دورِ حکومت کا واقعہ ہے۔
ایک دن دربارِ خلافت میں رعایا کی شکایات پیش کی گئیں کہ بازار کے کئی قصائی گوشت کم تولتے ہیں اور لوگوں کے حق مار رہے ہیں۔
خلیفہ سخت ناراض ہوئے۔
انہوں نے فوراً بہلول دانا کو دربار میں طلب کیا اور حکم دیا:
“بہلول! فوراً بازار جاؤ۔ تمام قصائیوں کے ترازو اور باٹ چیک کرو۔
جس کا وزن کم نکلے، اسے گرفتار کرکے ہمارے سامنے پیش کیا جائے!”
بہلول دانا خاموشی سے سر جھکا کر بازار کی طرف روانہ ہوگئے۔
بازار میں ہر طرف شور تھا۔
کہیں گوشت کٹنے کی آوازیں، کہیں خریداروں کا ہجوم، کہیں بھاؤ تاؤ کی بحث۔
مگر بہلول کی نگاہ صرف انصاف تلاش کر رہی تھی۔
وہ ایک قصائی کی دکان پر رکے۔
ترازو چیک کیا… باٹ کم نکلا۔
قصائی کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔
اسے لگا شاید ابھی سپاہی آئیں گے اور اسے زنجیروں میں جکڑ کر لے جائیں گے۔
مگر بہلول نے حیرت انگیز طور پر نرمی سے پوچھا:
“میاں… زندگی کیسی گزر رہی ہے؟”
قصائی نے تھکی ہوئی آنکھوں سے بہلول کو دیکھا، پھر ایک لمبی سرد آہ بھری اور بولا:
“کیا بتاؤں بہلول…
دل بے سکون ہے۔
راتوں کو نیند نہیں آتی۔
گھر میں برکت نہیں، دل میں سکون نہیں۔
کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے کہ موت آجائے اور یہ پریشانیاں ختم ہوجائیں…”
بہلول خاموش رہے…
نہ ڈانٹا، نہ گرفتار کیا… بس آگے بڑھ گئے۔
کچھ دور ایک دوسری دکان تھی۔
وہاں بھی وزن کم نکلا۔
بہلول نے پھر وہی سوال دہرایا:
“اور سناؤ، زندگی کیسی ہے؟”
قصائی کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
وہ لرزتی آواز میں بولا:
“زندگی؟
زندگی تو ایک بوجھ بن چکی ہے۔
ہر دن خوف میں گزرتا ہے۔
دل ہر وقت گھبراتا رہتا ہے۔
نہ عزت رہی، نہ سکون…”
بہلول نے گہری نظر سے اسے دیکھا اور خاموشی سے آگے چل پڑے۔
اب وہ بازار کے آخری کونے میں ایک بوڑھے قصائی کی دکان پر پہنچے۔
سادہ سا لباس، چہرے پر نور، اور انداز میں عجیب اطمینان تھا۔
بہلول نے اس کے باٹ چیک کیے۔
وزن بالکل درست تھا… نہ ایک رتی کم، نہ زیادہ۔
بہلول مسکرائے اور پوچھا:
“بابا! تمہارا حال کیسا ہے؟”
بوڑھے قصائی کے چہرے پر شکر کی چمک آگئی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
“الحمدللہ!
رزق تھوڑا ہے مگر حلال ہے۔
دل سکون میں ہے، رات کو چین کی نیند آتی ہے۔
اولاد محبت کرتی ہے، لوگ عزت دیتے ہیں۔
بس اللہ کا کرم ہے…”
یہ سن کر بہلول کی آنکھوں میں حکمت کی چمک ابھری۔
وہ خاموشی سے واپس دربار کی طرف روانہ ہوگئے۔
دربار میں پہنچتے ہی خلیفہ ہارون الرشید نے پوچھا:
“بہلول! مجرم کہاں ہیں؟
تم انہیں گرفتار کرکے کیوں نہیں لائے؟”
بہلول نے ادب سے سر جھکایا، پھر نہایت پُراثر انداز میں بولے:
“امیرالمؤمنین!
جن لوگوں کے ترازو میں کمی تھی…
وہ پہلے ہی سزا کاٹ رہے ہیں۔
ان کے چہروں پر بے سکونی، دلوں میں خوف، اور زندگی میں عذاب ہے۔
وہ باہر سے آزاد ہیں، مگر اندر سے قید ہوچکے ہیں۔”
پھر بہلول نے آہستہ سے کہا:
“اور جس کا وزن پورا تھا…
وہ غریب ہونے کے باوجود بادشاہوں جیسا سکون رکھتا ہے۔”
دربار پر خاموشی چھا گئی۔
خلیفہ کی آنکھوں میں بھی سوچ کی گہرائی اتر آئی
اصل سزا صرف جیل کی سلاخیں نہیں ہوتیں، بلکہ ضمیر کی بے چینی اور دل کا سکون چھن جانا سب سے بڑی سزا ہے۔
دیانت داری انسان کو اندر سے مطمئن اور پُرسکون بناتی ہے، جبکہ بددیانتی انسان کو دنیا کے سامنے آزاد مگر اپنے ضمیر کے ہاتھوں قیدی بنا دیتی ہے۔
![]()

