طارق عزیز ( پاکستانی )
طارق عزیز اور نیلام گھر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ طارق عزیز ( پاکستانی )۔۔۔ طارق عزیز اور نیلام گھر)جس وقت ٹی وی شروع ہوا طارق عزیز ، ریڈیو پر خبریں پڑھتے تھے اور اعلانات کرتے تھے۔ یاسمین طاہر نے انہیں بتایا کہ ٹی وی شروع ہو رہا ہے ۔ اس میں اناؤنسروں اور نیوز کاسٹروں کی جگہیں ہیں لہذا طارق عزیز نے بھی درخواست دے دی۔ جس دن انٹرویو تھا وہ عجیب حلیے میں وہاں پہنچے اور وہاں ایک سے ایک اسمارٹ شخص انٹرویو دینے آیا تھا۔ اسلم اظہر ، ذکاء درانی ، فضل کمال اور نثار حسین اس وقت ٹی وی کے کرتا دھرتا تھے۔
طارق عزیز جب پیش ہوئے اور سوالوں کے جواب دیے تو اسلم اظہر نے ان سے کہا
“ذرا ہنسیں”
طارق عزیز بولے “سر! میرے پاس ہنسنے کو کچھ نہیں ہے۔ ہنسی کا تعلق دل کی خوشی سے ہے اور آج میرا دل افسردہ ہے”
انٹرویو ختم ہوا اور سب امیدوار چلے گئے۔ صرف طارق عزیز کو اسلم اظہر نے روک لیا۔ ان کے لئے بلیک کافی منگوائی۔ طارق عزیز اپنے بارے میں بتانے لگے
“میرا گھر ساہیوال میں ہے۔ وہاں میرے لئے روٹی تو ہے مگر میں دنیا سے اپنی قیمت وصول کرنے نکلا ہوں۔ اس وقت دنیا مجھے ڈیڑھ سو روپے ماہوار دیتی ہے جس کے لئے میں ریڈیو پر نیوز کاسٹر ، اناؤنسر ، کمپئیر ، ڈرامہ آرٹسٹ اور جانے کیا کیا کرتا ہوں۔ اردو بھی پنجابی بھی ، رواں تبصرہ اور خطوں کے جوابات بھی میرے ذمہ ہیں۔ اوپر سے وہاں عزت بھی نہیں دی جاتی۔”
پھر اسلم اظہر نے ان سے پوچھا کہ ٹی وی پر خبریں اور اعلان کا کیا معاوضہ لیں گے تو طارق عزیز نے جواب دیا “ایک سو پچاس روپے ریڈیو سے کماتا ہوں۔ آپ سے ایک سو اکاون لوں گا۔ میں ایک ترقی پسند آدمی ہوں ۔ مجھے احساس رہے گا کہ ریڈیو چھوڑ کر میں نے ترقی کی ہے۔ ٹی وی مجھے ایک روپیہ زیادہ دے رہا ہے۔”
کچھ دنوں بعد طارق عزیز کو ٹی وی پر بلا لیا گیا اور پانچ سو روپیہ ماہوار پر انہیں رکھ لیا گیا۔
زیر نظر تصویر ستر کی دہائی میں نیلام گھر کراچی کے ایک پروگرام کی ھے جس میں ابن انشا کو مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا___—
#story #novel #time ##facebookpost
![]()

