Daily Roshni News

حسنِ عفت: حیا اور خوبصورتی  قرآن کے مطابق

حسنِ عفت: حیا اور خوبصورتی  قرآن کے مطابق

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآنِ کریم کا اسلوبِ بیاں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ حکمت و دانشمندی کا ایک ایسا بحرِ بیکراں ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں انسان کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔ جب ہم اللہ رب العزت کی جانب سے جنت کی عورتوں کے اوصاف پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں وہاں ایک خاص ترتیب نظر آتی ہے جو انسانی نفسیات اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے ایک گہرا درس چھپائے ہوئے ہے۔ سورہ رحمن میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا، وہاں جنت کی خواتین کی صفات بیان کرتے ہوئے پہلے ان کی “حیا” کا ذکر کیا اور پھر ان کے “حسن و جمال” کو بیان فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا کہ وہ “قاصرات الطرف” ہیں، یعنی اپنی نظریں نیچی رکھنے والی ہیں، اور اس کے فوراً بعد ان کی خوبصورتی کو “یاقوت اور مرجان” سے تشبیہ دی گئی۔

اس ترتیبِ ربانی میں ایک بہت بڑا پیغام پنہاں ہے کہ کسی بھی عورت کا حقیقی جوہر اور اس کی اصل وقعت اس کے ظاہری خدوخال یا رنگ و روپ میں نہیں بلکہ اس کی عفت، پاکدامنی اور شرم و حیا میں ہے۔ دنیاوی معیار کے مطابق ہم اکثر خوبصورتی کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن خالقِ کائنات نے واضح کر دیا کہ اخلاق اور حیا وہ بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر حسن کی عمارت بے معنی اور بے وزن ہے۔ حیا دراصل وہ ڈھال ہے جو حسن کو لٹنے سے بچاتی ہے اور اسے ایک وقار عطا کرتی ہے۔ اگر حسن کے ساتھ عفت شامل نہ ہو تو وہ محض ایک نمائش بن کر رہ جاتا ہے، جس کی قدر و قیمت وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے، لیکن حیا کی چادر اس حسن کو لازوال بنا دیتی ہے۔

“قاصرات الطرف” کی صفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وفاداری اور اپنی حدود میں رہنا ہی اصل نسوانیت ہے۔ یہ صفت اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی محبت اور توجہ کو صرف اپنے شریکِ حیات تک محدود رکھتی ہیں۔ جب انسان اپنی نظروں اور جذبات کی حفاظت کرتا ہے، تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اسے وہ وقار عطا کرتا ہے جس کی مثال یاقوت اور مرجان جیسے قیمتی پتھروں سے دی گئی ہے۔ یاقوت اپنی چمک اور مرجان اپنی نفاست کے لیے جانا جاتا ہے، بالکل اسی طرح ایک باحیا عورت کا وجود معاشرے میں پاکیزگی اور خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حیا عورت کا زیور ہی نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ یہ اسے ایک ایسا تحفظ فراہم کرتی ہے جہاں کوئی بری نظر اس کے تقدس کو پامال نہیں کر سکتی۔ آج کے دور میں جہاں ظاہری چمک دمک کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے، وہاں قرآنی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل خوبصورتی وہ ہے جو روح کے اندر سے پھوٹتی ہے اور جس کا اظہار حیا کی صورت میں ہوتا ہے۔ عفت اور حیا کے بغیر حسن ایسا ہی ہے جیسے خوشبو کے بغیر پھول، جو دیکھنے میں تو بھلا معلوم ہو سکتا ہے لیکن دلوں کو معطر کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔ لہٰذا، انسانیت کی معراج اور عورت کے مرتبے کی بلندی اسی میں ہے کہ وہ حیا کو اپنا شعار بنائے، کیونکہ اللہ کے نزدیک پہلے سیرت کی پاکیزگی ہے اور پھر صورت کی خوبصورتی۔ یہی وہ قرآنی درس ہے جو ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل میں بنیاد کا کام کرتا ہے۔

#حیا #عفت #قرآنی_تعلیمات #اسلامی_اقدار #اصلاح_معاشرہ #پاکیزگی #خوبصورتی #ایمان #اسلام #اخلاقیات

Loading