🌿 لقمان حکیمؑ کا ایک سبق آموز واقعہ 🌿
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک رات آدھی شب کے وقت لقمان حکیمؑ نمازِ شب کے لیے بیدار ہوئے۔
انہوں نے اپنے مالک کو آواز دی:
“اٹھو! کہیں ایسا نہ ہو کہ نیک لوگوں کے قافلے سے پیچھے رہ جاؤ۔”
مالک نے نیند کو ترجیح دی اور بولا:
“سو جاؤ غلام! خداوندِ کریم ہے۔”
کچھ دیر بعد نمازِ فجر کا وقت ہوا، لقمان حکیمؑ نے دوبارہ اپنے مالک کو جگایا تاکہ وہ نماز گزاروں کے قافلے سے محروم نہ رہ جائے۔
لیکن مالک نے پھر وہی جواب دیا۔
جب سورج طلوع ہونے لگا تو لقمان حکیمؑ ایک بار پھر آئے اور فرمایا:
“اے غافل انسان! تم عبادت گزاروں کے قافلے سے رہ گئے ہو۔
اٹھو! پوری کائنات سجدہ و تسبیح میں مشغول ہے، مگر تمہیں غفلت کی نیند نے جکڑ رکھا ہے۔”
مالک نے جواب دیا:
“دل صاف ہونا چاہیے، عمل اتنا ضروری نہیں۔ خدا کریم ہے، اسے ہماری عبادت کی کیا ضرورت؟”
دن نکلا تو مالک نے گندم کے بیجوں کا ایک تھیلا لقمان حکیمؑ کو دیا اور کہا کہ اسے کھیت میں بو دو۔
لقمان حکیمؑ نے گندم بیچ دی اور اس کی جگہ ایک مٹھی گھاس پھوس کے بیج زمین میں بو دیے۔
جب فصل کاٹنے کا وقت آیا تو مالک نے دیکھا کہ کھیت میں صرف گھاس اگ رہی ہے، گندم کا نام و نشان نہیں۔
وہ غصے سے لقمان حکیمؑ کے پاس آیا اور پوچھا:
“یہ کیا کیا؟”
لقمان حکیمؑ نے نہایت حکمت سے جواب دیا:
“اے میرے مالک! مجھے آپ کی باتوں سے یہی سمجھ آیا تھا کہ اگر نیت صاف ہو تو عمل ضروری نہیں۔
اس لیے میں نے قیمتی گندم زمین پر ضائع نہ کی، صرف گھاس کے بیج ڈال دیے۔”
پھر فرمایا:
“جس طرح بغیر صحیح بیج کے اچھی فصل نہیں اگتی، اسی طرح بغیر عمل کے نجات بھی نہیں ملتی۔”
🌸 یاد رکھیں! جنت قیمت پر ملتی ہے، بہانوں پر نہیں۔ 🌸
✨ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
![]()

