Daily Roshni News

طاقت ہمیشہ غالب نہیں آتی

کہانیاں صرف بچوں کو سنانے کے لیے نہیں ہوتیں…
کچھ کہانیاں وقت کے ماتھے پر لکھی جاتی ہیں، تاکہ ہر دور کا انسان خود کو اُن میں پہچان سکے۔

قدیم ہندوستان کے ایک گھنے جنگل میں ایک شیر رہتا تھا—چترنگ۔
وہ صرف ایک درندہ نہیں تھا، وہ ایک نظام تھا… ایسا نظام جو طاقت کے نشے میں اندھا ہو چکا تھا۔
وہ شکار نہیں کرتا تھا، وہ خوف پھیلاتا تھا۔
اور خوف… ہمیشہ طاقتور کو مزید طاقتور بنا دیتا ہے۔

جنگل کے جانوروں نے پہلے بھاگنے کی کوشش کی،
پھر چھپنے کی…
پھر برداشت کرنے کی۔
لیکن جب ظلم معمول بن جائے تو برداشت بزدلی بن جاتی ہے۔

ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا—
مقابلہ نہیں کریں گے، بلکہ نظام کے ساتھ “سمجھوتہ” کریں گے۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں اکثر معاشرے اپنی شکست پر مہر لگا دیتے ہیں۔

انہوں نے چترنگ کے سامنے سر جھکا دیا۔
عرض کیا: “اے بادشاہ! ہم خود روزانہ آپ کے پاس آ جائیں گے، آپ کو شکار کی زحمت نہیں ہوگی۔”

یہ پیشکش دراصل بقا کی کوشش تھی…
مگر حقیقت میں یہ اپنی آزادی کی قیمت مقرر کرنا تھا۔

چترنگ مسکرایا۔
طاقت کو جب اطاعت مل جائے تو وہ اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے۔

یوں ہر دن ایک جانور اپنی باری پر موت کے دروازے تک جاتا رہا۔
جنگل زندہ تھا… مگر زندگی ختم ہو چکی تھی۔

پھر ایک دن…
ایک خرگوش کی باری آئی۔

ایک چھوٹا، کمزور، بظاہر بے بس وجود۔
مگر تاریخ ہمیشہ جسموں سے نہیں، ذہنوں سے لکھی جاتی ہے۔

خرگوش نے موت کو قبول کرنے کے بجائے… سوال کیا۔
“کیا واقعی طاقت صرف جسم میں ہوتی ہے؟
یا عقل بھی ایک ہتھیار ہے؟”

وہ دیر سے نکلا…
جان بوجھ کر۔
کیونکہ بعض اوقات وقت پر نہ پہنچنا… سب سے بڑی حکمت ہوتی ہے۔

جب وہ چترنگ کے سامنے پہنچا تو شیر غصے سے دہک رہا تھا۔
یہ غصہ صرف بھوک کا نہیں تھا… یہ غرور کو چیلنج ہونے کا غصہ تھا۔

خرگوش نے جھک کر کہا:
“حضور، میں آیا تو تھا… مگر راستے میں ایک اور شیر مل گیا۔
وہ کہتا ہے اصل بادشاہ وہ ہے… اور آپ جھوٹے ہیں۔”

یہ جملہ تیر نہیں تھا…
یہ آئینہ تھا۔

غرور ہمیشہ اپنے جیسے دوسرے غرور کو برداشت نہیں کرتا۔

چترنگ دہاڑا: “مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہے!”

خرگوش اسے ایک کنوئیں کے پاس لے آیا۔
صاف پانی… خاموش گہرائی…
اور اُس میں ایک عکس۔

“وہ رہا…” خرگوش نے کہا۔

چترنگ نے جھانکا…
اور خود کو دیکھا۔
مگر وہ خود کو پہچان نہ سکا۔

یہی غرور کی سب سے بڑی کمزوری ہے—
وہ انسان کو خود سے بھی ناواقف کر دیتا ہے۔

اس نے دہاڑا… عکس نے بھی دہاڑا۔
اس نے للکارا… عکس نے بھی۔

اور پھر…
چترنگ نے بغیر سوچے سمجھے چھلانگ لگا دی۔

پانی میں نہیں…
اپنی انا کی گہرائی میں۔

وہ ڈوب گیا۔
خاموشی چھا گئی۔

خرگوش کنارے پر کھڑا رہا…
نہ اس نے تلوار اٹھائی، نہ لشکر بنایا۔
صرف ایک سچ دکھایا… اور ظالم خود ہی ختم ہو گیا۔

جب وہ واپس جنگل آیا تو خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
مگر اصل جشن آزادی کا نہیں تھا…
اصل جشن “شعور” کا تھا۔

یہ کہانی ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ خرگوش بہادر تھا…
یہ سکھاتی ہے کہ معاشرے کب کمزور ہوتے ہیں۔

جب وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے…
اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔

اور یہ بھی سچ ہے—
ہر چترنگ باہر نہیں ہوتا،
کچھ ہمارے اندر بھی ہوتے ہیں…
جو ہمیں اپنے عکس سے بھی ڈرا دیتے ہیں۔

یاد رکھیں—
طاقت ہمیشہ غالب نہیں آتی،
کبھی کبھی ایک سوال…
ایک حکمت…
اور ایک آئینہ…
پورا نظام گرا دیتا ہے۔ 🖤

Loading