Daily Roshni News

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق مجوزہ آبنائے ہرمز معاہدہ سے ایران کو بحری آمدورفت کا کنٹرول مل جائے گا۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے اور خطے کے دو عہدیداروں نے بدھ کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کا کنٹرول تہران کو دیا جا سکتا ہے، جو ایران کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ پیش رفت ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ قریب ہے۔ ان کے بقول کئی اہم نکات پر اب بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ”کنٹرول“ کی عملی نوعیت کیا ہوگی۔ خلیجی ممالک کے مذاکرات کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری جہازوں کی تلاشی کی نگرانی علاقائی ممالک کریں، جبکہ کسی بھی قسم کی فیس کی ادائیگی رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔ سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ زیر غور معاہدے کے مسودے میں یہ تجویز شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر ایران کو اختیار حاصل ہوگا، جبکہ سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ خلیج سے باہر جانے والے بحری جہازوں پر ایران کا کردار کیا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے چین اور روس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے گزرے والے ہر جہاز سے 7فیصد فیس لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ عمان نے ایران کو جہازوں سے 3 فیصد فیس وصول کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کو وعدہ خلافیوں کا ازالہ کرنا ہو گا۔

ڈپٹی کمشنر حمزہ مراد نے بتایا کہ کوہ پیماؤں کی میتیں ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد پہنچائی گئیں، میتوں کو پمز ہسپتال کے سرد خانے میں رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سفری دستاویزات تیار ہونے کے بعد میتوں کو نیپال روانہ کردیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 1 ہفتے قبل براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیما لاپتہ ہو گئے تھے، کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 8 کوہ پیماؤں کی لاشیں نکال لی گئی تھیں۔

حمزہ مراد کے مطابق پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی اور ایک غیر ملکی خاتون کوہ پیما کی تلاش جاری ہے۔

Loading